نیب ہر کسی کے اکاؤنٹ میںگھس جاتی ہے کسی کا بھی اکاؤنٹ سیف نہیں ہے، پورے ایشیا میں پاکستان میں سب سے زیادہ مہنگائی ہے ،اراکین پارلیمنٹ پھٹ پڑے

  جمعہ‬‮ 15 جنوری‬‮ 2021  |  23:52

اسلام آباد (آن لائن) سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بجلی گیس بحران پر بات ہورہی ہے ندیم بابر صاحب کہاں ہیں؟ملک میں ایسا بلیک آؤٹ ہوا جو عموما جنگ کے دوران ہوتا ہے بلیک آوٹ تین دن تک جاری رہا۔کل رات نیپرا نے انکوائری کے لیے ایک کمیٹی بنا دی ہے بلی کو دودھ کی انکوائری دے دی گئی ہم اس انکوائری کمیٹی کو مستردکرتے ہیں۔سینیٹ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہو ئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آپ تباہی کی نئی تاریخ رقم کرتے جارہے ہیں گیس کا پریشر اتنا کم ہے کہ پانی تک گرم نہیں


ہوتااب کس بنیاد پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ان کی نااہلی نے پاکستان میں تواتر سے بریک ڈائون ہو رہے ہیں سرکلر ڈیٹ کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے آپ سمجھتے ہیں گورننس کوئی کھیل ہے آپ نے پاکستان کو 220 ارب کا ٹیکہ لگا دیا ہے آپ نے پاکستان کی صنعتوں کو تباہ کردیا سینیٹرسلیم مانڈی والا نے کہا کہ میں نے چیئرمین نیب کو مبارکباد دی ہے اور بابر اعوان کو بھی بھیجا ہے نیب ہر کسی کے اکاؤنٹ میں گھس جاتی ہے کسی کا بھی اکاؤنٹ سیف نہیں ہے شیخ رشید اجلاس میں بیٹھے ہیں ان کو دیکھنا چاہیے ،کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں کوئی ڈیل کرنا چاہتا ہوں اور چیئرمین نیب کو کون بلیک میل کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ میں یہ لڑائی لڑتا رہوں گا، ان حالات میں سب چیزوں کو دیکھا جائے اس طرح سے ادارے ختم ہوتے رہیں گے اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے اس پر اتفاق رائے ہونا چاہیے مجھے میسج آ رہے ہیں کہ آپ پر مزید کیس بنائے جائیں گے اور ہم روز پریس کانفرنس کریں گے نیب کے متاثرین سینیٹ میں آئیں گے مجھ پر جتنے کیس کرنے ہیں کر لیں حکومت کو نیب کو بلانے میں کیا مسئلہ ہے ان کی فیملی کیسے باہر رہتی ہے ہم ابنیب کا احتساب کریں گے اور نیب اپنے اثاثوں کے بارے میں پارلیمنٹ میں آ کر بتانا پڑے گا لوگوں کو ذلیل کرنے کے لیے نیب نوٹس بھیج رہی ہے یہ ایشو پورے ملک کو تھریٹ کر رہا ہے اس پر بابر اعوان نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ سپریم ہے کیا وہ کسی کو بلا کر کسی سے پوچھ سکتی ہے کہ نہیں پارلیمان کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسیکو بلا کر پوچھ سکتی ہے پارلیمان کا کام قانون سازی کرنا ہے لیکن کوئی عدالت قانون نہیں بنا سکتی ہے کیا پی اے سی کسی کی موت کا فیصلہ کرے گی پہلے کسی نے نیب کے قوانین میں تبدیلی کی کوشش نہیں کی گئی گزشتہ دس سال میں پی ٹی آئی کی حکومت نے آرڈیننس جاری کیا گیا یہ آرڈینس کمیٹی میں گیا مر گیا لیکن کسی نے اس کو ہاتھنہیں لگایا آج بھی ہم ریفارمز کرنے کیلئے تیار ہیں تو نو گو ایریا ہیں جہاں ہم نہیں جاسکتے ،کسی کو این آر او نہیں دیا جاسکتا اور احتساب کے اداروں کو تالا نہیں لگایا جا سکتا جہاں سے احتساب میں مسلہ پیدا ہواکہ مرضی کے لوگوں کو لگا کر احتساب کیا گیا انہوں نے کہا کہ کون لوگ کہتے ہیں کہ سیاستدان کا احتساب ہوتا ہے کون کہتا تھاکہ نیچے اترو گھر جاؤ، اگر کوئی ریفارمز کرنی ہے ڈائیلاگ کرنا ہے تو آئین کے مطابق ہاؤس چلے اور قانون کے مطابق ادارے چلیں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب کو عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بابر اعوان اچھے وکیل ہیں پہلے پیپلز پارٹی کی ترجمانی کرتے تھے اب پی ٹی آئی کی ترجمانی کر رہے ہیں انہوںنے کہا کہ نیب کے ایک نوٹس پر کوئی بندہ اپنے آپ کو گھر میں بھی سچا ثابت نہیں کرسکتا نیب کا قانون ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا گیا ہے ہمارے ملک میں۔ پہلے دہشت گردی تھی آج پولیس گردی ہے 950 دن گزر گئے صرف لاک ڈون ہے ہو رہے ہیں ایک پاکستانی بہت زیادہ ٹکس دے رہا ہے زمیندار زمین پر ٹکس دیتا ہے47قسم کے ٹیکس دیتا ہے ایشیا میں پاکستان میں سب سے زیادہ مہنگائی ہے ان سب مسائل کا حل اسلامی نظام ہے اس حکومت نے اسلامی نظام کیلے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ ملک میں گیس کی ڈیمانڈ زیادہ سپلائی کم ہے جہاں سے گیس پیدا ہوتی ہے وہاں کے رہنے والوں کو بھی ملنی چاہیے جس طرح ہماراآئین اور قانون کہتا ہے 30سے 40 فی صد گیس پائپوں سے لیک ہو جاتی ہے اور گیس کے ریٹ بڑھا دیئے جاتے ہیں سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ کمر توڑ مہنگائی اور اور غذائی عدم تحفظ پر بات کرنا چاہتا ہوں ملک میں ٹڈی دل کا حملہ اور کرونا وائرس نے ملک میں مسائل پیدا کیے ہیں دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے کرونا وائرس کا کس طرحسے مقابلہ کیا 63 اضلاع ٹڈی دل سے متاثر ہوئے تھے اور ہم نے اس کا مقابلہ کیا ہے اور اس کو شکست دی ہے آرمی اور این ڈی ایم کو داد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اس چیلنج کا مقابلہ کیا ہے اس حکومت نے فوڈ سیکیورٹی کے لیے کام کیا ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی 8فی صد ہے جو کے اب کم ہو رہی ہے بہت سے ممالک کی۔ ہمسے کہیں زیادہ مہنگائی ہے لیکن ہمیں بھی چند چیزوں پر مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اپوزیشن صرف مبالغہ آرائیوں سے کام لے رہی ہے ہماری حکومت غریب کا درد رکھتی ہے اس ملک میں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا سنیٹر محمد اکرم نے کہا کہ ملک میں توانائی کا بحران آج کا نہیں ہے ہماری ساری انڈسٹری دوسرے ملکوں میں شفٹ ہوگئی ہے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ کسی پروگرام کانام احساس رکھنے احساس پیدا نہیں ہوتا اور ہر کوئی لنگر خانوں میں جا کر کھانا نہیں کھا سکتا ملک میں مہنگائی عروج پر ہے انہوں نے کہا کہ لائینیں بنا کر کھانا تقسیم کیا جاتا ہے اگر کسی کو دیا جائے اور اپنی مرضی کا کھائیں جس طرح سے یہ حکومت قانون سازی کرتی ہے اسطرح سے قانون سازی نہیں ہوتی روبینہ خالد نے کہا کہ ولید اقبال صاحب اگر بازار گئے تھے وہاں پر موجود لوگوں سے مہنگائی کا پوچھ لیتے احساس پروگرام کا نہ بتائیں بلکہ لوگوں کی تکالیف کو محسوس کریں سینیٹر اورنگزیب اورکزائی نے کہا کہ سینیٹ کے اجلاس میں ذاتی مسائل پر بات نہیں کی جانی چاہیے میری درخواست ہے اس معززایوان میں ذاتی مسائل لیکر نہ آئیں عدالتیں موجود ہیں اب احتساب سب کا ہو گا لیکن ذاتی مسائل ایوان میں نہ لائے جائیں سینیٹر رخسار زبیری نے کہا کہ ڈی جی آئل نے آئل کے تمام معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے آئل میں ملاوٹ کی جارہی ہے 13پاور کمپنیوں سے معاہدہ کیا گیا ہے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہاداروں میں ٹاپ کی پوسٹیں خالی پڑی ہیں تو معاملات کیسے چل سکتے ہیں سینیٹر امام الدین شوقین نے کہا کہ ملک کی انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے اور دوسرے ملکوں میں شفٹ ہو گئی ہے گیس سندھ سے پیدا ہوتی ہے لیکن ہمیں امپورٹڈ گیس دی جارہی ہے جو مہنگی ہے یہ زیادتی سندھ کے ساتھ کیوں کی جارہی ہے ہم نے مہنگیبجلی پیدا کر کے ملک بہت نقصان پہنچایا گیا ہے سابق حکومتوں کے ناکامی کی بات کی جاتی ہے لیکن میں نے آج تک پورے ملک سے بجلی غائب ہوتے نہیں دیکھی 49ارب روپے حکومت نے خرچ کیے لیکن اس کے باوجود نظر نہیں آ رہا انہوں نے کہا گندم ایکسپورٹ کرنے والا ملک ہے جس کو امپورٹ کرنے والا بنا دیا گیا ہے انہوں نے کہا مہنگائی عروج پر ہے ہر کھانے والی چیز مہنگی ہے لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎