پاپا جونز کے پیزا کھانے والے ہمیں چائے پانی پر نہ ٹرخائیں، چائے پانی پر ابھی نندن کو بھی ٹرخایا تھا ہمیں اس کے برابر تو نہ سمجھیں،مولانا فضل الرحمان کا اہم اعلان

  منگل‬‮ 12 جنوری‬‮ 2021  |  23:41

کوئٹہ (آن لائن )جمعیت علماء اسلام کے سربراہ وپی ڈی ایم کے مرکزی صدر مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ موجودہ حکومت دھاندلی زدہ جس کے پاس عوام کا چوری کیاہوا مینڈیٹ ہے ،پی ڈی ایم کے جلسے اور جلوس ایک سے بڑھ ایک بڑے اور کامیابی سے ہمکنار ہیں ،نالائق ونااہل حکومت سے قوم کی جان چھڑانے میں زیادہ وقتنہیں لگے گا ،تمام جماعتیں متحد،مفادات سے متعلق بیان موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں کے مترادف ہے ،دہشتگردی ختم کرنے کے دعوے تو کئے گئے لیکن مچھ جیسا بڑا سانحہ رونما ہوا اگر دہشتگردی کے خاتمے


سے متعلق دعویٰ غلط ہے تو جھوٹ کااعتراف کرکے قوم کو دھوکہ نہ دیاجائے پاپا جونز کے پیزا کھانے والے ہمیں چائے پانی پر نہ ٹرخائے چائے پانی پر ابھی نندن کو بھی ٹرخایا تھا ہمیں اس کے برابر تو نہ سمجھے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ پہنچنے پر ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی مولاناعبدالواسع ودیگر بھی موجود تھے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ وپی ڈی ایم کے مرکزی صدر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پورے ملک میں تمام جلسے جلوس تاریخی اور اس میں عوام کی شرکت اور شمولیت فقید المثال ہے ،عوام نے جس طریقے سے پی ڈی ایم پر اعتماد کیاہے وہ تاریخی لمحات ہیں ،لورالائی جو بلوچستان میں ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے وہاں پی ڈی ایم کی بڑی اجتماع اور ریلی ہوگی جس میں عوام کا بے پناہ ہجوم ہوگا اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ عوام کس قدر ایک پیج پر ہے ،پوری قوم اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دھاندلی زدہ حکومت ہے جس کے پاس عوام کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے عوام چوری کیاہوامینڈیٹ کو قطعاََ تسلیم نہیں کرتی حکمرانوں کو استعفیٰ دیناہوگا ،ڈی آئی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ انہوں نے خوشنوی میں بات کی اور میں رات کو اس کا جواب خوشنوی بات دیدی میں نے کہاکہ آپ خود تو پاپا جونز کے پیزے کھاتے رہے اور ہمیں چائے پانی پر ٹرخائیں تو چائے پانی پر تو انہوں نے ابھی نند کو بھی ٹرخایاتھا ہمیںان کے برابر تونہ سمجھنا ،پی ڈی ایم کی کمزوری سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہمیں ایک سے بڑھ جلسہ اور اس میں کی شرکت ہوتی ہے کامیاب ریلیاں ہورہی ہے جس نے قومی تحریک اختیار کرلی ہے اس پہلو پر نظررکھنی چاہیے ،تمام تحریک کابراہ راست مشاہدہ کیاجارہاہے اور براہ راست عوام کے پاس پہنچ رہے ہیںعوام کی شرکت میں اضافہ ہورہاہے ،ہماری کوشش اور جدوجہد یہی ہے کہ وہ اب تک ختم ہوچکی ہوتی لیکن اس قسم کے معاملات میں قومی اور ملکی سطح پر دقتیں بھی آتی ہیں اور مشکلات اور وقت بھی لگتاہے ہماری کوشش ہے کہ جلد سے جلد اس نااہل ونالائق حکومت سے قوم کی جان چھڑائی جائے انشاء اللہ زیادہ وقت نہیں لگے گا،انہوںنے پی ڈی ایم میں مفادات کیلئے جدوجہد اور بیانات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ میں اس طرح بیانات کانوٹس نہیں لیتا موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں ،اب تک جو دعوے کئے جاتے رہے ہیں کہ ہم نے دہشتگردی ختم کردی ہے دہشتگردوں کو شکست دیدی اور اس کے باوجو دمچھ جیسا اتنا بڑا واقعہ ہوتاہے اورہمارے خیبرپشتونخوا کے قبائلی علاقوں میں آئے روز ٹارگٹ کلنگ اور جگہ جگہ لوگ شہید ہورہے ہیں تو پھر کیوں یہ دعویٰ کیاگیا اگر دعویٰ غلط کیاگیا ہے تواپنے جھوٹ کااعتراف کیاجائے کیوں قوم کو دھوکہ دیاگیاہے ۔شیخ رشید سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہاکہ کوئی سنجیدہ سوال کیاجائے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎