بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

نئے پاکستان میں اتنی بڑی تبدیلی۔۔۔ !!! ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق کے بعدجوکام کوئی نہ کرسکا وہ عمران خان نے کرکے دکھادیا

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

اسلا م آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار سمیع ابراہیم نے کہا کہ بڑی تبدیلیوں کے باعث کرپٹ مافیا حکومت کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ حکومت کو گھر بھیجنے کی چاہت رکھنے والے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔

مبشر لقمان کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سمیع ابراہیم نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو کوئی نہیں گراسکتا، جو لوگ حکومت گرانے آئے تھے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔مبشر لقمان کے مافیا سے متعلق سوال پر سمیع ابراہیم نے جواب دیا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق کے بعد عمران خان نے بیوروکریسی میں بڑی تبدیلیاں کیں۔ایک مافیا حکومت کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔، تاہم حکومت نااہل نہیں ہوسکتی۔عمران خان کے لہجے سے متعلق سوال پر سمیع ابراہیم نے کہا کہ جن لوگوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہو ان کے ساتھ نرم لہجا کیسے برتا جا سکتا ہے۔اگرعمران خان ملک کو لوٹنے والوں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس میں کوئی غلط بات نہیں۔تاہم جو لوگ ملک کو لوٹ رہے تھے ان کو یہ زبان بالکل پسند نہیں۔ مولانا فضل الرحمان بھی اسی خوف سے بات کرتے ہیں کہ اپوزیشن کب اکٹھی ہو گی جب سب جیل میں ہونگے؟۔سمیع ابراہیم کا کہنا ہے کہ صورتحال نارمل نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کرپٹ عناصر پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔یہی کرپٹ عناصرمافیا کے طور پر حکومت مخالف سازشیں کریں گے۔دراصل عثمان بزدار مخالف بھی یہی مافیا ہے جو نہیں چاہتا ان کے قانون مخالف کاموں میں خلل پڑے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…