منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

فضل الرحمن پرپیسوں کی بارش،بڑے رئیل سٹیٹ ٹائیکون نے آزادی مارچ کیلئے بھاری رقم پہنچا دی

datetime 8  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا کہ کچھ احتجاج ہوتے ہیں انصاف کے حصول اور عوام کی بہتری کے لیے۔ لیکن آج کل ہونے والے احتجاج لوٹ مار کا پیسہ بچانے کے لیے ، اقتدار میں حصہ لینے کے لیے اور مال پانی کمانے کے لیے ہو رہے ہیں۔ اب مولانا صاحب کے پاس بظاہر اقتدار نہیں ہے اور سرکاری مال پانی نہیں آ رہا۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ 2 سیاسی جماعتیں ہیں جن پر کھربوں روپے کا چارج ہے اور جن پر بعض ڈیل اور ڈھیل دینے والے ریکوری نہیں ہونے دے رہے، ان کے لیے دو چار ارب روپیہ بانٹنا ایسے ہی ہے جیسے ہمارے لیے دو چار سو روپیہ۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ مولانا صاحب کو پیسوں کی قسط پہنچ چکی ہے۔نہ صرف دو بڑی جماعتوں نے مولانا صاحب کو پیسے پہنچا دیئے ہیں بلکہ کچھ ایسے لوگ جو فراڈیے ہیں جو اربوں کھربوں روپے کی زمینوں کا ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر فراڈ کرتےہیں، انہوں نے بھی اِن ڈائریکٹ پیسے پہنچانے شروع کر دئیے ہیں۔مولانا فضل الرحمن پہلے سیاستدان ہوں گے جو مارچ میں بھی پیسہ کما جائیں گے۔ ان کے پیسے لگیں گے بھی لیکن اس میں بھی مولانا صاحب کو منافع ہی ہو گا کیونکہ ان کو پیسے دینے والے بہت لوگ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیوروکریسی بھی چاہتی ہے کہ حکومت جلدی چلی جائے جس کا ذمہ دار میں عمران خان کی ٹیم کو قرار دوں گا جن کو انہیں منانا ہی نہیں آیا نہ وہ بیوروکریسی کو ہینڈل کر سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…