تنظیم اتحاد امت کے100سے زائد مشائخ شیوخ الحدیث ،مفتیان کرام اورعلماءنے قمر جاوید باجوہ کی توسیع کوخوش آئند قرار دے دیا

  منگل‬‮ 20 اگست‬‮ 2019  |  13:59

لاہور(پ ر)تنظیم اتحاد امت پاکستان کے چیئرمین اور کوآرڈینیٹرمتحدہ علماءبورڈ حکومت پنجاب پیر محمد ضیاءالحق نقشبندی کی اپیل پر 100سے زائد مشائخ ،مفتیان کرام شیوخ الحدیث اورعلماءکرام نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حق میں اپنا مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو 30نومبر2022تک توسیع دے کر اچھا اقدام کیا ہے ۔کیونکہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے سرحدی محاذوں پر جاری حکمت عملی ، خطے کی سیکورٹی صورت حال کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو اس فیصلے سے اسلامی جمہوریہ پاکستان


کو سیکورٹی مسائل سے نکلنے میں مدد ملے گی کیونکہ خطہ میں باجوہ ڈاکٹرائن کا تسلسل بے حدضروری ہے جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیکورٹی صورت حال کے علاوہ ماضی میں سعودی عرب ،امریکہ ،چین ،ایران ،روس ،یو اے ای ،ترکی اور دیگر جتنے بھی ممالک کے کامیاب دورے کئے۔ ان کے دوروں سے ملک میں سرمایہ کاری آئی ہے ، اس کی سب سے بڑی وجہ جنرل قمر جاوید باجوہ جتنے دہشت گردی کے خلاف ہیں اس سے کہیں زیادہ کرپشن کو پاکستان کے لئے ناسور سمجھتے ہیں ۔مشائخ عظام ،شیوخ الحدیث،مفتیان کرام اورعلماءنے کہا ہے کہ حالت جنگ میں سپہ سالار تبدیل نہیں ہوا کرتے ،نازک او ر اہم فیصلے حالات کے مطابق ہوتے ہیںان کو توسیع دےنے سے امید ہے ملک آگے بڑھے گا، ترقی کرے گااورافغان جنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی ،اس کی توسیع میں دین سے محبت ،جہاد اور وطن سے پیار بھی شامل ہے ۔جبکہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سابقہ اہلیت سے علم ہوتا ہے کہ الحمد اللہ ان کا ملٹری ڈپلومیسی میں بھی یقینااہم کردار بھی شامل ہے اوروہ ماہرانہ تجربہ بھی رکھتے ہیں ۔ہماری نیک تمنائیں اور خواہشات قمر جاوید باجوہ صاحب کے ساتھ ہیں،تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ماضی کے کچھ سیاسی سربراہان اور سپہ سالار آپس میں ذہین ہم خیال نہیں تھے وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جانب سے قمر باجوہ کو توسیع سے پوری دنیا کو یہ بھی پیغام دیا گیا ہے کہ جمہوری اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔معتبر شخصیات نے یہ بھی کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہم کارناموں کا ذکر کیا جائے تو پرائیویٹ جہاد کے خلاف پیغام پاکستان فتویٰ جاری کرنا قابل تعریف اقدام ہے ،فرقہ پرست اورجہادی تنظیموں کا مکمل خاتمہ اور مین سٹریمنگ جبکہ دینی مدارس کی وزارت تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن اہم فیصلے ہیں۔ان کی توسیع سے جاری کاموں میں تسلسل آئے گا اور اس با ت کی بھی امید ہے کہ احتساب کا عمل تیز ہوگا اور مزید چور جیلوں میں جائیں گے اورلٹیروں لفافوں اور غداروں کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی زمین تنگ کر دی جائے گی۔جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دےنے سے ہٹلر ثانی مودی اوراس کے حامیوں کو تکلیف بھی یقینی پہنچنے گی اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹنشن سے بھارت کو ٹینشن ملنے والی ہے ۔معتبر شخصیات نے آخر میں ایک لطیفہ مزاح کے انداز میں تحریر کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ جب باجوہ ہوتا ہے تو چیخیں نکلتی ہیں جب دوبارہ باجوہ آتا ہے تو زیادہ چیخیں نکلتی ہیں۔جن مفتیان کرام ،مشائخ اور علماءنے وزیر اعظم کے فیصلے کی تائید کی ہے ۔ان میں علامہ مفتی ڈاکٹر غلام محی الدین ، مفتی پیر سید شہباز سیفی ،مفتی عبدالستار احمد سعیدی، مفتی خضر الاسلام نقشبندی ، مفتی محمد ابو بکر قریشی ، مفتی محمد انوار ، مولانامفتی محمد ارشد نعیمی،مفتی مولانا محمد عارف ستار ،مفتی حسنین رضا ، مفتی محمد اسد عباس ،مفتی محمد آصف نعمانی ، مفتی محمد فرقان عباس ، مفتی محمد سہیل قادری، مفتی محمد صدیق قادری،مفتی محمد صادق، مفتی محمد شفقت یوسفی ، مفتی محمد شاہد مدنی ، مفتی محمد سہیل ، مفتی محمد انوار احمد ،مفتی محمد اسماعیل قادری ،مفتی لیاقت علی صدیقی، مفتی خلیل احمد، مفتی محمد ایوب آزاد ،مفتی محمد عابد علی حجازی ،مفتی محمد ندیم قمر ،مفتی محمد نعیم صابری ، مفتی فضل الرحمن اوکاڑوی ،مفتی سید محمد عاشق حسین ،مفتی ڈاکٹر عمران انور نظامی ،مفتی محمد وسیم قادری،مفتی محمد عمربسراء، مفتی لیاقت علی صدیقی ، مفتی عرفان اللہ سیفی، مفتی محمد حسن بیگ ، مفتی نذر فرید ،مفتی وسیم حیدر، مفتی رحیم بخش ندیم ،مفتی فرقان عباس ،مفتی محمد ذیشان ، مفتی محمد طارق سراجوی،مفتی فہیم احمد قادری ،مفتی محمد اختر رسول قادری ،مفتی محمد وقاص نواب مشہدی ،مفتی محمد عمران صدیقی ،مفتی صفدر محمود حیدری ،مفتی محمد عزیر خان قادری ،مفتی محمد ارشد رضا جلالی ،مفتی محمد شعیب یسین قادری ،مفتی محمد شاہد رضا سعیدی ،مفتی ذیشان صابری ،مفتی کاشف سلطان ،مفتی عثمان عزیز ،مولانا مفتی محمد عمر قادری،مولانا مفتی محمدعثمان ،مولانا مفتی اختر رضا قادری ،مفتی صفدر حسین ،صاحبزادہ پیر حفیظ اظہر ،علامہ صاحبزادہ پیر محمدعامر ظفر چشتی ، پیر شبیراحمد ، پیر شہباز احمد سیفی ، پیرسید توقیر شاہ ،پیر محمد شاہد قادری،پیر سید محمد بلال گردیزی ، پیر سید واجد علی شاہ،پیر سمیع اللہ نوری ،پیر تبسم بشیر اویسی ،علامہ احسان الحق صدیقی،علامہ محمد عبداللہ ثاقب ، علامہ بدر منیر سیفی، مولانا محمد راحت ، مولانا محمدممتاز ربانی ،مولانا محمد شریف الدین قذافی ،مولانا رب نواز حقانی ، مولانا مبارک علی رضوی ،مولانا اسلم حیات سلطانی ،مولانا محمد عثمان نقشبندی ،مولانا علی رضا سیفی ،مولانا قاضی عبدالغفار ،مولانا محمد زاورحسین ، مولانا محمد عابد ،مولانا احمد شکیل ، صاحبزاد ہ سید تنویر حسین شاہ ، مولانا محمد بلال فاروق نعیمی ، علامہ محمد اعظم نعیمی، حاجی محمد اعجاز چشتی ،ڈاکٹرمحمد سلطان سکندر ،ڈاکٹر سعید احمد سعیدی ، علامہ ذوالفقار مصطفی ہاشمی ، سید احسان احمدگیلانی ،مولانا محمد فاروق ، مولانا بدرزمان ،مولانا محمد نعیم عارف نوری،صاحبزادہ عثمان علی جلالی ،مولانا سرداراحمد ، قاری غلام حسین نقشبندی ،مولانا محمد طارق لطیف ، علامہ حسین زادہ خان ،مولانا سید تبارک شاہ ،مولانا محمد انوار طارق ،پیر سید غلام دستگیر شاہ گیلانی ،مولانا حسن رضا ،مولانا محمد عرفان قادری اور دیگر شامل ہیں ۔

موضوعات:

loading...