منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

شریف خاندان نے کسانوں کو عید کا تہوار منانے سے محروم کردیا،سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود کروڑوں روپے کی ادائیگی نہیں کی،حیرت انگیز انکشافات

datetime 4  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود رمضان شوگر مل کے مالک شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف نے گنا کے کاشتکاروں کو 85 کروڑ روپے کی ادائیگی نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دے رکھا ہے کہ حکومت پنجاب گنا کاشتکاروں کو گنا کی ادائیگی ہر حال میں یقینی بنائے۔

بھوانہ‘ جھنگ اور چنیوٹ کی تحصیلوں کے مزدور کسانوں کو مجموعی طور پر 85 کروڑ روپے کے بقایا جات ادا ہی نہیں کئے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے بھی اپنا آئینی اور اخلاقی کردار ادا نہیں کررہی ہے۔ تینوں تحصیلوں کے  ہزاروں کسان روزانہ شوگر مل کے باہر اپنی رقوم کے حصول کی خاطر جمع ہوتے ہیں جبکہ شام کو مایوس ہوکر واپس چلے جاتے ہیں جبکہ دی سی چنیوٹ بھی اس حوالے سے مل مالکان کے ساتھ مل چکے ہیں۔ ان تینوں تحصیلوں میں مسلم لیگ (ن) کو ہزیمت ناک شکست ہوئیت ھی تاہم جو ممبران پی ٹی آئی کے کامیاب ہوکر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ممبران بنے ہیں وہ بھی کسانوں کے بقایا جات کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کررہے ہیں جبکہ کسانوں کے مل کو آگ لگانے تک جذبات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ شریف خاندان پہلے قومی خزانہ لوٹتا تھا اب کسانوں کی جمع پونجی لوٹ کر عیاشی کرنے میں مصروف ہے کسانوں نے عمران خان اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں گنا کی ادائیگیاں عید سے پہلے کرائیں ورنہ دید مذہبی تہوار بھی منانا مشکل ہوجائے گا۔  سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود رمضان شوگر مل کے مالک شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف نے گنا کے کاشتکاروں کو 85 کروڑ روپے کی ادائیگی نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دے رکھا ہے کہ حکومت پنجاب گنا کاشتکاروں کو گنا کی ادائیگی ہر حال میں یقینی بنائے۔ بھوانہ‘ جھنگ اور چنیوٹ کی تحصیلوں کے مزدور کسانوں کو مجموعی طور پر 85 کروڑ روپے کے بقایا جات ادا ہی نہیں کئے ہیں



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…