چیئرمین سینٹ کیخلاف تحریک،اپوزیشن جماعتوں کا اہم اجلاس، 67 ارکان کی حمایت کا دعویٰ لیکن کتنے  ارکان موجود تھے؟حیرت انگیز صورتحال 

  جمعرات‬‮ 18 جولائی‬‮ 2019  |  18:51

اسلام آباد (این این آئی) متحدہ اپوزیشن نے کہاہے کہ چیئر مین سینٹ کو ہٹانا حکومت گرانے کی ابتدا ہے، کسی قسم کا کوئی دباؤ، کوئی دھمکی قبول نہیں کی جائیگی، 66 اور 67 ارکان کی حمایت ہمیں حاصل ہے، ہم ایسا نتیجہ دینگے انکی آنکھیں کھل جائیں گی۔ جمعرات کو سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا مشاورتی اجلاس سینٹ میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر راجہ ظفر الحق کی زیر صدارت ہوا جس میں اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خط پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خط کو رولز کی خلاف


ورزی قرار دیدیا۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خط کا بھرپور جواب دینے پر غور شروع کردیا، چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن کو خط لکھ کر ریکوزیشن واپس لینے کا مشورہ دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے ڈپٹی چیئرمین کے خلاف تحریک پر فوری اجلاس بلانے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا، ذرائع کے مطابق ڈپٹی چیئرمین کے خلاف تحریک پر اجلاس بلانے کے لئے سینیٹ کو خط لکھنے پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک واپس لینے سے انکار کردیا۔ یاد رہے کہ حکومت اور اتحادی جماعتوں نے اپوزیشن کو تحریک واپس لینے کی درخواست کی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں نے کہاکہ تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے ہوا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے راجا ظفر الحق  نے کہاکہ اپوزیشن سینیٹرز کی میٹنگ ہوئی، دو سے تین سینیٹرز کے علاوہ تمام حاضر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے جو ریکوزیشن جمع کرائی تھی وہ نو جولائی کو جمع کرائی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے واضح کردیا ہے کہ ہم نے ایک ریکوزیشن جمع کرائی ہے،سینیٹ سیکرٹریٹ نے پراسیس شروع کرتے ہوئے وزارت پارلیمانی امور کو بھجوا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیکرٹریٹ کی جانب سے ایک رولنگ کا حوالہ دیا ہے،ہمارے اندازے سے زائد افراد س اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ساجد میر کے علاوہ طلحہ محمود اور حافظ عبد الکریم وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میٹنگ میں 55 ارکان شریک ہوئے ہیں،اپوزیشن قیادت نے متفقہ فیصلہ میر حاصل بزنجو ہیں، تمام ارکان نے مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بعض اداروں اور لوگوں کی طرف سے دباؤ ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے اسے سینیٹرز نے مسترد کردیا ہے،بھاری اکثریت کے ساتھ حاصل بزنجو کو کامیاب کرایا جائے گا۔ مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی پہلی کیل فاشسٹ حکومت کے خلاف ہوگی،ہم نے انہیں موقع فراہم کیا، ایک سال گزرنے کے باوجود نہ روزگار ملا نہ گھر ملے۔ انہوں نے کہاکہ اب اس دھاندلی کی پیداوار حکومت ایک لمحہ بھی مزید نہیں رہنا چاہیے،اپوزیشن متفق و متحد ہے، ہم اس میں سرخرو ہونگے۔ شیری رحمان نے کہاکہ فاروق ایچ نائیک عدالت میں ہونے کے باعث نہیں آسکے البتہ ہمارے سارے ارکان موجود ہیں،ہم تحریک کو کامیاب بنائینگے، حکومت دعوے کرتی ہے کہ وہ ناکام بنائے گی تو کیسے ناکام کرے گی؟  انہوں نے کہاکہ حکومت آئینی خلاف ورزی کریگی اگر وہ راتوں رات فون کرکے ایسا کرے گی تو یہ آئینی خلاف ورزی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ یہ حکومت کی ہارس ٹریڈنگ پلس ہے، اس سے بدتر اور کیا ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ کو متنازعہ کون کررہا ہے، جب سب کے دستخط ہیں تو چیئرمین کو خود ہی مستعفی ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ صرف اپوزیشن کا کام نہیں ہے کہ وہ اس کے تقدس کا لحاظ کرے، حکومت کی بھی یہ ذمہ داری ہے۔مشاہد اللہ خان نے کہاکہ کسی قسم کا کوئی دباؤ، کوئی دھمکی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کمیٹی روم میں بھی 54 ارکان موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ 66 اور 67 ارکان کی حمایت ہمیں حاصل ہے، ہم ایسا نتیجہ دینگے انکی آنکھیں کھل جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانا حکومت گرانے کی ابتدا ہے۔

موضوعات:

loading...