اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کاروباری برادری سخت پریشان ہے،سابق وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر کے اپنی ہی حکومت کے بجٹ پر شدیداعتراضات،بڑا مطالبہ کردیا

datetime 16  جون‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ وفاقی بجٹ کی منظوری سے قبل تاجر برادری کے تحفظات دور کیے جائیں تاکہ اسے حقیقی معنوں میں کاروبار دوست بنایا جاسکے۔ زیر ریٹنگ کی سہولت کے خاتمے کی وجہ سے کاروباری برادری سخت پریشان ہے، جب تک ریفنڈز کا کوئی موثر نظام نہ ہواس سہولت کو برقرار رکھا جائے۔ ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے اسمبلی کی

قائمہ کمیٹی برائے فنانس، ریونیو اور اکنامک افیئرز کے چیئرمین اسد عمر سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی بجٹ کی منظوری سے قبل تاجر برادری کے تحفظات دور کیے جائیں تاکہ اسے حقیقی معنوں میں کاروبار دوست بنایا جاسکے۔ زیر ریٹنگ کی سہولت کے خاتمے کی وجہ سے کاروباری برادری سخت پریشان ہے، جب تک ریفنڈز کا کوئی موثر نظام نہ ہواس سہولت کو برقرار رکھا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی نجکاری مکمل حل نہیں بلکہ حل کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ تاجر برادری کے تحفظات دور کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے،جب وہ وزیر خزانہ تھے تو آئی ایم ایف ان پر مارک اپ کی شرح میں یکمشت چھ فیصد اضافہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا مگر صنعت و تجارت کے وسیع تر مفاد میں انہوں نے اسے مسترد کردیا۔ انہوں نے لاہور چیمبر کے صدر کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ریفنڈز کا باقاعدہ مکینزم ہونا چاہیے اور کوئی بھی مکینزم اچانک نافذ کرنے کے بجائے پہلے اس کا تجربہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس تجویز سے بھی اتفاق کیا کہ جیولری کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو اثاثہ جات ظاہر کرنے کی سکیم سے استفادہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ معاشی ترقی میں تاجر برادری کا کردار بہت اہم ہے لہذا اس کے تحفظات دور کرکے سکون سے

کاروبار کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریفنڈز کی ادائیگی کے لیے موثر اور جامع سسٹم متعارف کرائے، 75فیصد ریفنڈز بل آف لیڈنگ کی تصدیق شدہ کاپی فراہم کرنے کے لیے اسی وقت بینکوں کے ذریعے ادا کردئیے جائیں جبکہ بقیہ تیس دن بعد ایکسپورٹ کا عمل آگے بڑھنے پر ادا کردئیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے لاہور چیمبر کے مطالبے پر خام مال سمیت 1600آئٹمز پر ڈیوٹیاں زیروکردی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام 2800آئٹمز پر ڈیوٹیاں صفر ہونی چاہیے

جس سے صنعتوں کی استعداد کار اور بعد ازاں حکومتی محاصل بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک ٹیکس دہندگان سے حاصل کردہ رقم نقصان دہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز پر خرچ کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا، حکومت کو ان کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بہت سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے مگر وفاقی سطح پر ان سے متعلقہ وزارتیں تبدیل شدہ ناموں کے ساتھ موجود ہیں، غیرضروری اخراجات ختم کرنے کے لیے ان معاملات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…