جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’اپنے خان کو کہہ دو کہ ہم آپ کو اور آپ کے خان کو ختم کریں گے‘‘وزیراعظم عمران خان کو جان سے مارنے کی دھمکی کس نے دی؟معروف صحافی کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 30  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)’’اپنے خان کو کہہ دو کہ ہم آپ کو اور آپ کے خان کو ختم کریں گے‘‘وزیراعظم عمران خان کو جان سے مارنے کی دھمکی کس نے دی؟معروف صحافی کے سنسنی خیز انکشافات، تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں معروف صحافی ضیاء شاہد سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ میں نے 18 سال میں سرکاری گاڑی، پولیس کے افسر،

سرکاری ٹیلی فون استعمال نہیں کیا اور میری جو سرکاری تنخواہ ہے غریبوں مسکینوں کو جا رہی ہے میں بدعہدی کیوں کروں گا؟اسلام آباد میں اپنے ملازمین کے ساتھ ہمسائے میں رہنے والے خاندان کے تنازعے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمعرات کی صبح ان کی گائے وغیرہ یہاں آ گئے تو انہیں بتایاگیا کہ ہمارے پودے لگے ہوئے ہیں یہ سارا تباہ کررہے ہیں۔ جس پر انہوں نے دھمکی دی کہ اپنے خان کو کہہ دو کہ ہم آپ کو اور آپ کے خان کو ختم کریں گے۔جس کے بعد میں نے اس دھمکی بہت سنجیدگی سے لیااور ڈی ایس پی اور ایس ایس پی بخاری کو فون کیا انہوں نے کہا کہ آئی جی کے دفتر میں ایک درخواست لکھ کر بھیج دیں۔درخواست موصول ہونے کے بعد میں نے 6 بجے آئی جی کو فون کیا اور کہا کہ یہ سنجیدہ مسئلہ ہے اس پر کاروائی کریں۔ آئی جی نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں مگر پوری رات گزر گئی کچھ نہیں ہوا۔اس کے بعد جمعہ کے روز جب میں یو اے ای کے بزنس مین کیساتھ میٹنگ میں تھا مجھے فون پر بتایاگیا کہ آپکے گھر پر حملہ کر دیا گیا ہے۔اس واقعے میں خواتین سمیت 10 سے 12افراد نے میرے چوکیداروں کو کلہاڑیوں، بیلچوں اور ڈنڈوں سے مارا جو اب بھی ہسپتال میں داخل ہیں میں نے پہلے ہی

چوکیداروں کو ہدایت کی تھی کہ انہیں ہاتھ نہیں لگانا۔ اس کے بعد میں ڈیڑھ گھنٹہ آئی جی کو فون کرتا رہا مگر شام 5بجے فون اٹھانے اور حملے کے بارے جاننے کے بعد آئی جی کا سوال تھا کہ کل رات آپکو کسی نے فون نہیں کیا؟اعظم سواتی نے کہا کہ میں بطور وزیر خاص مراعات نہیں مانگ رہا، کیا ایک عام پاکستانی کو بھی اپنی مراعات لینے کا حق نہیں؟اس واقعے میں میرے جو آدمی زخمی ہوئے ہیں وہ میرے لئے بہت زیادہ قیمتی تھے اور اس سلسلے میں انصاف ہونا چاہئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…