منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

منشیات برآمدگی کیس‘ موبائل سے عدالتی کاروائی کی ریکارڈنگ کرنے والا شخص پکڑا گیا ، یہ کون ہے اور ایسا کس کے کہنے پر کر رہا تھا ؟ رانا ثنا کا ٹرائل شروع کرنے کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی ) انسداد منشیات عدالت نے منشیات برآمدگی کیس میں راناثنااللہ کے خلاف ٹرائل شروع کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15روز کی توسیع کردی ۔انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں رانا ثنااللہ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی،سماعت کے آغاز پر اے این ایف پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ موبائل فون کمرہ عدالت میں آن کر کے ریکارڈنگ کی جا رہی ہے، جس پر رانا ثنا اللہ کے

وکیل نے کہا کہ یہ وکیل ہمارے ساتھ نہیں ہیں، یہ لوگ پراسیکیوشن کی طرف سے آئے ہیں۔جج نے موبائل فون سے ریکارڈنگ کرنے والے شخص سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟،موبائل فون سے ریکارڈنگ کرنے والے وکیل نے بتایا کہ میرا نام عمر گجر ایڈوکیٹ ہے اور میں رانا ثنا اللہ کے ساتھ ہوں۔اس موقع پر اے این ایف پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ریکارڈنگ کر کے ڈبنگ کرتے ہیں اور حقائق کو مسخ کرتے ہیں،جس پر جج نے کہا کہ کمرہ عدالت میں ریکارڈنگ نہ کریں ورنہ حکم دیں گے کہ عدالت میں پانچ سے زیادہ بندے نہ ہوں، باہر والا کام باہر کریں اور عدالت والا کام عدالت میں کریں۔اے این ایف پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ہمیں بھی آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل کا حق دیا جائے تاہم عدالت نے رانا ثنا اللہ کا ٹرائل شروع کرنے کی استدعا مسترد کر دی،جج خالد بشیر نے کہا کہ بطور ڈیوٹی جج فرد جرم عائد کر کے ٹرائل شروع نہیں کر سکتا۔اس موقع پر وکیل صفائی نے کہا کہ رانا ثنااللہ نے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو بیان دیا تھا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ گن پوائنٹ پر روای ٹول پلازہ سے تھانے لایا گیا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کیا کیس کی تحقیقات قانون کے مطابق کی گئیں، اب ماڈرن ڈیوائسز کے ذریعے تحقیقات کی جاتی ہیں، رانا ثنا اللہ کا موبائل ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا۔وکیل صفائی نے سماعت کے دوران عدالت سے استدعا کی کہ تفتیشی افسر کو موبائل ریکارڈ کی فراہمی کا حکم دیا جائے۔ اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ رانا

ثنا اللہ کے ساتھی عدالتی کارروائی ریکارڈ کر رہے ہیں، اس کی ڈبنگ کرکے بلیک میل کیا جاتا ہے۔وکیل اے این ایف نے کہا کہ پہلے ملزم کا سی ڈی آر اور فون ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، کل کوگھر والوں کا ریکارڈ طلب کیا جائے گا، ہمارا مقدمہ سیدھا ہے یہ عدالت ٹرائل نہیں کر رہی، جو چیزیں مانگ رہے ہیں وہ ٹرائل کے لیے ضروری ہیں۔اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ درخواست کے مطابق فرد جرم

عائد کر کے روزانہ ٹرائل شروع کیا جائے۔ پراسیکیوٹر اے این ایف نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز30 دن تک سیف سٹی اتھارٹی محفوظ رکھتی ہے۔وکیل اے این ایف نے کہا کہ ہمارا موقف ہے 39 دن تک گاڑی کی فوٹیجز محفوظ رہیں، عدالت میں 16 کیمروں کا بتایا گیا ، صرف 3 کیمروں کا ریکارڈ پیش کیا گیا۔عدالت نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار مسلم لیگ ن کے

رانا ثنااللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15 روز کی توسیع کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کو 2 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے رانا ثنا اللہ کے نمبرکا سی ڈی آر طلب کرلیا۔جج نے اے این ایف کے تفتیشی افسر عزیز اللہ سے استفسار کیا کہ آپ کے پاس موبائل فون کا اپنا نمبر ہے یا آفیشل؟،تفتیشی افسر نے بتایا کہ یہ میرا ذاتی سیل فون نمبر ہے اور اس کے علاوہ میرا کوئی نمبر نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…