ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

منشیات برآمدگی کیس‘ موبائل سے عدالتی کاروائی کی ریکارڈنگ کرنے والا شخص پکڑا گیا ، یہ کون ہے اور ایسا کس کے کہنے پر کر رہا تھا ؟ رانا ثنا کا ٹرائل شروع کرنے کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی ) انسداد منشیات عدالت نے منشیات برآمدگی کیس میں راناثنااللہ کے خلاف ٹرائل شروع کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15روز کی توسیع کردی ۔انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں رانا ثنااللہ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی،سماعت کے آغاز پر اے این ایف پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ موبائل فون کمرہ عدالت میں آن کر کے ریکارڈنگ کی جا رہی ہے، جس پر رانا ثنا اللہ کے

وکیل نے کہا کہ یہ وکیل ہمارے ساتھ نہیں ہیں، یہ لوگ پراسیکیوشن کی طرف سے آئے ہیں۔جج نے موبائل فون سے ریکارڈنگ کرنے والے شخص سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟،موبائل فون سے ریکارڈنگ کرنے والے وکیل نے بتایا کہ میرا نام عمر گجر ایڈوکیٹ ہے اور میں رانا ثنا اللہ کے ساتھ ہوں۔اس موقع پر اے این ایف پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ریکارڈنگ کر کے ڈبنگ کرتے ہیں اور حقائق کو مسخ کرتے ہیں،جس پر جج نے کہا کہ کمرہ عدالت میں ریکارڈنگ نہ کریں ورنہ حکم دیں گے کہ عدالت میں پانچ سے زیادہ بندے نہ ہوں، باہر والا کام باہر کریں اور عدالت والا کام عدالت میں کریں۔اے این ایف پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ہمیں بھی آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل کا حق دیا جائے تاہم عدالت نے رانا ثنا اللہ کا ٹرائل شروع کرنے کی استدعا مسترد کر دی،جج خالد بشیر نے کہا کہ بطور ڈیوٹی جج فرد جرم عائد کر کے ٹرائل شروع نہیں کر سکتا۔اس موقع پر وکیل صفائی نے کہا کہ رانا ثنااللہ نے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو بیان دیا تھا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ گن پوائنٹ پر روای ٹول پلازہ سے تھانے لایا گیا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کیا کیس کی تحقیقات قانون کے مطابق کی گئیں، اب ماڈرن ڈیوائسز کے ذریعے تحقیقات کی جاتی ہیں، رانا ثنا اللہ کا موبائل ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا۔وکیل صفائی نے سماعت کے دوران عدالت سے استدعا کی کہ تفتیشی افسر کو موبائل ریکارڈ کی فراہمی کا حکم دیا جائے۔ اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ رانا

ثنا اللہ کے ساتھی عدالتی کارروائی ریکارڈ کر رہے ہیں، اس کی ڈبنگ کرکے بلیک میل کیا جاتا ہے۔وکیل اے این ایف نے کہا کہ پہلے ملزم کا سی ڈی آر اور فون ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، کل کوگھر والوں کا ریکارڈ طلب کیا جائے گا، ہمارا مقدمہ سیدھا ہے یہ عدالت ٹرائل نہیں کر رہی، جو چیزیں مانگ رہے ہیں وہ ٹرائل کے لیے ضروری ہیں۔اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ درخواست کے مطابق فرد جرم

عائد کر کے روزانہ ٹرائل شروع کیا جائے۔ پراسیکیوٹر اے این ایف نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز30 دن تک سیف سٹی اتھارٹی محفوظ رکھتی ہے۔وکیل اے این ایف نے کہا کہ ہمارا موقف ہے 39 دن تک گاڑی کی فوٹیجز محفوظ رہیں، عدالت میں 16 کیمروں کا بتایا گیا ، صرف 3 کیمروں کا ریکارڈ پیش کیا گیا۔عدالت نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار مسلم لیگ ن کے

رانا ثنااللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15 روز کی توسیع کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کو 2 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے رانا ثنا اللہ کے نمبرکا سی ڈی آر طلب کرلیا۔جج نے اے این ایف کے تفتیشی افسر عزیز اللہ سے استفسار کیا کہ آپ کے پاس موبائل فون کا اپنا نمبر ہے یا آفیشل؟،تفتیشی افسر نے بتایا کہ یہ میرا ذاتی سیل فون نمبر ہے اور اس کے علاوہ میرا کوئی نمبر نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…