ٹرمپ کے عمران خان اور نریندرمودی سے رابطے،پچھلے 24گھنٹوں میں کشمیر کے ایشو پر چند بڑے بریک تھرو ہوئے،کیا مسئلہ کشمیر واقعی حل کی طرف بڑھ رہا ہے؟ویڈیو سکینڈل کے بعدشریف فیملی عدالت سے درخواست کیوں نہیں کر رہی؟جاوید چودھری کا تجزیہ

  منگل‬‮ 20 اگست‬‮ 2019  |  21:37

پنجابی کی ایک کہاوت ہے‘ قتل کرنا مشکل نہیں ہوتا‘ قتل کو سنبھالنا مشکل ہوتاہے‘ انڈین پرائم منسٹر۔۔اس وقت سنبھالنے کے مشکل وقت سے (گزر) رہے ہیں‘ مودی نے پانچ اگست کو اپنے آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر دیا اور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دیا‘ یہ فیصلہ جتنا آسان تھا۔۔اس فیصلے کو نبھانا آج (اتنا) ہی مشکل ثابت ہو رہا ہے مودی کو اب احساس ہو رہا ہے‘ پچھلے 24گھنٹوں میں کشمیر کے ایشو پر چند بڑی بریک تھروز ہوئیں‘امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے 16 اگست کو عمران خان سے بات کی‘ کل مودی سے بات کی اور


پھر عمران خان سے بات کی‘ میرا خیال ہے یہ تین کالز ٹمپریچر کو جلد نیچے لے آئیں گی‘ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بھی بحال ہو جائیں گے‘ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو بھی (اٹھا) لیا جائے گا اور انڈیا اور پاکستان میں (مذاکرات) بھی شروع ہو جائیں گے تاہم آج حکومت نے اپنی حکمت عملی بھی جاری کر دی‘ پاکستان عالمی عدالت انصاف میں جا رہا ہے‘ وکیل کی منظوری بھی دے دی گئی‘ یہ پیش رفت بھی اہم ہے‘ کیا مسئلہ کشمیر حل کی طرف بڑھ رہا ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا (ساٹس‘ فردوس عاشق اعوان‘ کرفیو ختم نہ ہوا توعالمی عدالت) سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آج جج ارشد ملک کی دونوں ویڈیوز کے بارے میں سماعت کی‘ چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ ”وڈیو اس وقت کسی کیلئے فائدہ مند ہوسکتی جب کوئی اسے کسی کیس میں پیش کرے، ایک ویڈیو کے ذریعے جج کو بلیک میل کیا گیا دوسری ویڈیو پریس کانفرنس میں دکھائی گئی،دیکھنا ہوگا ویڈیو کی کاپی کا فورنزک ہوسکتا ہے یانہیں، یہ بھی دیکھنا ہے یوٹیوب ویڈیو کا فورنزک ہوسکتا ہے یا نہیں؟سب سے پہلے یہ ویڈیو اصل ثابت ہوگی تو کافی اثرانداز ہوگی، جج ارشد ملک کا ایک ماضی ہے جسے وہ مان رہے ہیں، انہیں تو کوئی بھی بلیک میل کرسکتا ہے، جسے سزا دی اس کے گھرچلے گئے،اس کے بیٹے سے ملنے سعودیہ چلے گئے، کیوں؟ ارشد ملک کی حرکت سے ہزاروں دیانتدار اور محنتی ججوں کے سرشرم سے جھک گئے، دو تین دن میں ہم اس معاملے پر فیصلہ دیں گے“ شریف فیملی جب تک عدالت میں درخواست دائر نہیں کرتی۔۔اسے (اس) وقت تک ریلیف نہیں مل سکتا‘23 جولائی کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے تھے‘احتساب عدالت کا فیصلہ شواہد پرصرف ہائی کورٹ ہی ختم کر سکتی ہے‘ شریف فیملی عدالت سے درخواست کیوں نہیں کر رہی اور آج میئر کراچی نے عوام سے سندھ حکومت کو ٹیکس نہ دینے کی اپیل کر دی‘ یہ نوبت کیوں آ گئی‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے ہمارے ساتھ رہیے گا۔

loading...