پاکستان سے تمام دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ ،وائٹ ہائوس نے اعلامیہ جاری کر دیا

  منگل‬‮ 23 جولائی‬‮ 2019  |  11:04

واشنگٹن (این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں ہماری بڑی مدد کررہا ہے ، امریکہ خطے میں پولیس مین نہیں بننا چاہتا ،ہم پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کررہے ہیں،کشمیر اور افغانستان کا مسئلہ حل ہوگا تو پورے خطے میں خوش حالی ہوگی،امریکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے اور تجارت کے وسیع مواقع ہیں،دورہ پاکستان کی دعوت دی جائے گی تو ضرور جائوں گا،ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا


مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کا فوجی حل کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا،مسئلہ کا واحد حل طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہے ، امید ہے آنے والے دنوں میں طالبان کو مذاکرات کیلئے تیار کر پائیں گے اور سیاسی حل نکل آئیگا۔ پیر کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا بعدازاں میڈیا کو ہاتھ ہلاکر ملاقات کیلئے چلے گئے،پہلے مرحلے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں تجارت اور سرمایہ کاری میں دو طرفہ تعاون بڑھانے اور جنوبی ایشیا سمیت افغانستان میں قیام امن کے لیے مل کر کام کرنے سے متعلق امور بھی زیر غور آئے ۔ملاقات کے آغاز میں میڈیا کی موجودگی میں مختصر گفتگو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کو انتہائی خوشگوار دیکھ رہا ہوں، امید ہے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئیگی۔اوول آفس میںگفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان سے واپسی کیلئے امریکہ پاکستان کے ساتھ کام کررہا ہے اور امریکہ خطے میں پولیس مین بننا نہیں چاہتا۔انہوںنے کہاکہپاکستان ماضی میں امریکہ کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کررہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کررہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان کے پاس وہ پاور ہے جو دیگر ممالک کے پاس نہیں۔امریکی صدر نے کہاکہاگر میں چاہتا تو یہ جنگ میں ایک ہفتے میں جیت جاتا مگر میں ایک کروڑ لوگوں کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا، ورنہ افغانستان صفحہ ہستی سے مٹ جاتا، مگر میں وہ راستہ اپنانا نہیں چاہتا۔وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کہا کہ افغانستان کا واحد حل طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہے اور اس کیلئے بہت قریب پہنچے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم طالبان کوافغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار کر پائیں گے اور سیاسی حل نکل آئیگا۔افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ہم پہلی مرتبہ اتنے قریب آئے ہیںاور صدر ٹرمپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ افغانستان کا فوجی حل کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم سے گفتگو کے دوران بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات میں بہتری کیلئے کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کی۔امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان درینہ مسئلہ کشمیر پر بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ اگر میں کوئی تعاون کرسکتا ہوں تو میں ثالثی کا کردار ادا کروں گا۔امریکی صدر نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرے، مجھے ثالث بننے میں خوشی ہوگی۔انہوں نے عمران خان سے کہا کہاگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو مجھے آگاہ کریں۔جبکہ وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے کیلئے وائٹ ہاؤس پہنچے۔ ان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد بھی موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےدرمیان ہونے والی ملاقات سے متعلق وائٹ ہاؤس نے اعلامیہ جاری کردیا۔وائٹ ہاؤس اعلامیے کے مطابق صدر ٹرمپ جنوبی ایشیا کے امن، استحکام، خوشحالی کیلئے پاکستان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔امریکا جنوبی ایشیا میں امن کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔اعلامیہ کے مطابق صدر ٹرمپ پاکستان کے ساتھ مضبوط معاشی، تجارتی تعلقات چاہتے ہیں، مضبوط تجارتی تعلقاتامریکا پاکستان کیلئے فائدے مند ہوں گے، صدر ٹرمپ علاقائی سلامتی، انسداد دہشتگردی کیلئے پاکستان کے ابتدائی اقدامات کو تسلیم کرتا ہے، پاکستان نے افغانستان امن بات چیت کرانے کیلئے کوششیں کی ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکا پاکستان سے افغانستان امن بات چیت میں مزید تعاون کا کہے گا، پاک امریکا مضبوط شراکت کا راستہ افغانستان میں تنازع کے پر امن حل میں ہے،پاکستان نے اپنی سرزمین پر دہشتگرد گروپس کیخلاف کچھ اقدامات کیے ہیں، پاکستان کاتمام دہشت گرد گروپوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کا اقدام بہت اہم ہوگا۔وائٹ ہاؤس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان 2018 میں 6.6 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کا نیا ریکارڈ بنا، امریکا کی پاکستان کو 2018 میں 2.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ برآمدات ہوئیں، پاکستان کو برآمدات بڑھنے سےامریکا میں 10 ہزار افراد کو ملازمتیں ملیں، امریکا، پاکستان کی اشیاء کی درآمدات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان سے تجارتی تعلقات امریکی کسانوں کیلئے بہت فائدے مند ہیں، امریکا نے 2018 میں پاکستان کو 1.4 ارب ڈالر کی زرعی اشیاء برآمد کیں، 15 برس سے امریکا پاکستان میں 5 بڑے انویسٹرز میں شامل ہے، امریکی توانائی کی کمپنیوں کو پاکستان میں کاروبار کےزیادہ سے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔اعلامیے کے مطابق امریکی کمپنیاں پاکستان میں توانائی کے منصوبوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی لا رہی ہیں، امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں 3 ارب ڈالر سے زیادہ کے کاروبار کا موقع ملا ہے، پاکستان نے مارچ 2017 تا اپریل 2019 امریکا سے بڑی مقدار میں ایل این جی خریدی، 27 برس بعد ایگزون موبل نے پاکستان میں دوبارہ دفتر قائم کیا، ایگزون موبل پاکستان میںایل این جی درآمدات بڑھانے کیلئے کام کررہا ہے۔ٹوئٹر پر اپنے بیان میں عمران خان کی امریکی صدر سے ملاقات کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نیا پاکستان کا وژن لے کر امریکہ آئے ہیں، عمران خان پاک امریکہ تعلقات کا نیا دور شروع کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہم خطے میں امن اور خوشحالی کا بیانیہ لے کر امریکہ آئے ہیں۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سےامریکی سینیٹر لنزے گراہم نے پاکستان ہاؤس میں ملاقات کی جس میں مختلف امور زیر غور آئے ۔ملاقات کے حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور سینیٹر لنزے گراہم نے باہمی تعلقات اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کی اور وزیراعظم عمران خان نے پاک امریکہ تعلقات کی بہتری کیلئے سینیٹر لنزے گراہم کی کوششوں کو سراہا۔وزیراعظم عمران خان نے امریکی سینیٹر کوترقی اور معاشی ترجیحات سے بھی آگاہ کیا۔ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان امریکہ سے وسیع بنیادوں پر تعلقات چاہتا ہے جو دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہو۔انہوں نے کہا کہ معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور تعلیم کے شعبوں میں بھرپور تعاون چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں عدم استحکام کی پاکستان نے بھاری قیمت اداکی اور پاکستان امریکہ کےتعاون سے افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتا ہے۔سینیٹر لنزے گراہم نے کہا کہ پاک امریکہ اعلی سطح پر رابطے دونوں ملکوں کے فائدے میں ہیں، افغانستان میں امن اور مفاہمت کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کامیاب انسداد دہشت گردی آپریشن کے باعث صورتحال بہتر ہوسکی۔سینیٹر لنزے گراہم ری پبلکن پارٹی اور امریکی سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے رکن ہیں اور خطے میں امن و سلامتی کیلئے پاک امریکہ تعلقات کے سرگرم حامی ہیں۔

موضوعات:

loading...