اسلام آباد (نیوز ڈیسک)عالمی تیل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار ہے، جہاں مختلف بین الاقوامی بینچ مارکس مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی معیشت میں سست روی کے خدشات، طلب و رسد کا توازن اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسیوں نے قیمتوں پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔
تازہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مربن (Murban) خام تیل کی قیمت تقریباً 66 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل تقریباً 69 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
اسی طرح عالمی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت بھی کمی کے بعد 72.12 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو حالیہ ہفتوں کے مقابلے میں نسبتاً کم سطح تصور کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی سرگرمیوں کی رفتار، بڑے درآمد کنندہ ممالک میں تیل کی طلب، اوپیک اور دیگر پیداواری ممالک کے فیصلے، نیز جغرافیائی و سیاسی حالات خام تیل کی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہی عوامل کی وجہ سے عالمی منڈی میں حالیہ دنوں کے دوران قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا موجودہ رجحان برقرار رہا اور ساتھ ہی روپے کی قدر اور درآمدی اخراجات میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہ آئی تو آئندہ قیمتوں کے جائزے میں پاکستان میں بھی پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمتوں کا تعین صرف عالمی نرخوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ اس میں پیٹرولیم لیوی، کاربن لیوی، مختلف ٹیکسز، درآمدی لاگت اور شرح مبادلہ جیسے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔



















































