ہفتہ‬‮ ، 04 جولائی‬‮ 2026 

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے غیرملکی خواتین کے اغواءکے پس پردہ حقائق بتا دیئے

datetime 4  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کے مقدمے میں تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کیس کے ابتدائی حقائق سے متعلق اہم معلومات شیئر کی ہیں۔

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کامران نے بتایا کہ اس معاملے کی ابتدا بیرون ملک کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے ایک معاہدے سے ہوئی۔ ان کے مطابق دونوں غیر ملکی خواتین کی مرکزی ملزم سے ملاقات سنگاپور میں ہوئی، جہاں کرپٹو کرنسی میں مشترکہ سرمایہ کاری پر اتفاق کیا گیا تھا۔

ڈی آئی جی کے مطابق سرمایہ کاری کے بعد منافع کی تقسیم طے تھی، تاہم پاکستان واپس آنے کے بعد ملزمان کا مؤقف تھا کہ خواتین نے نہ تو منافع کی رقم ادا کی اور نہ ہی ان سے رابطہ برقرار رکھا، جس کے باعث دونوں فریقوں کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا۔

پولیس حکام کے مطابق خواتین مزید کاروباری معاملات پر بات چیت کے لیے پاکستان آئیں اور ان کی واپسی 3 جولائی کو طے تھی۔ اس دوران وہ مبینہ ملزمان کے ساتھ لاہور، اسلام آباد اور مری سمیت مختلف شہروں میں گھومتی رہیں اور متعدد مقامات پر ملاقاتیں بھی کیں۔

فیصل کامران کے مطابق جب خواتین لاہور واپس پہنچیں تو ایک ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کرائے کا مکان حاصل کیا اور مبینہ طور پر دو افراد کی مدد سے خواتین کو یرغمال بنا لیا۔ بعد ازاں متاثرہ خواتین کے اہل خانہ سے 15 لاکھ امریکی ڈالر تاوان طلب کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر دونوں فریقوں کے درمیان مالی تنازع موجود بھی تھا تو اس کی بنیاد پر کسی کو اغوا کرنا کسی صورت قانونی یا قابل قبول عمل نہیں۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کے والد نے بیرون ملک سے ہیلپ لائن 15 پر کال کرکے اطلاع دی کہ ان کی بیٹی کو اغوا کر لیا گیا ہے اور بھاری تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔ اطلاع ملتے ہی اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا گیا اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر فوری کارروائی شروع کی گئی۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ متاثرہ خواتین نے اپنے اہل خانہ کو دوران سفر تصاویر اور لوکیشن بھی بھیجی تھیں۔ انہی تصاویر میں موجود گاڑی کی نمبر پلیٹ کی مدد سے پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا، جس کے بعد گاڑی کا سراغ لگاتے ہوئے ڈیفنس لاہور میں کارروائی کی گئی۔

پولیس نے چھاپہ مار کر دونوں خواتین کو بازیاب کرایا اور چار ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

فیصل کامران کے مطابق ابتدائی بیان میں متاثرہ خواتین نے جنسی زیادتی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، جس کے بعد ان کا میڈیکل معائنہ کرایا جا چکا ہے اور رپورٹ کا انتظار ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ بازیاب خواتین کے متعلقہ سفارت خانوں سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے تاکہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں ان کے ممالک واپس بھیجا جا سکے۔

واضح رہے کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر تھانہ ڈیفنس سی لاہور میں درج کی گئی ہے، جس میں اغوا، تاوان طلب کرنے اور دیگر سنگین الزامات شامل ہیں، جبکہ تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چین کا نظام


ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…