اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر موجودہ معاشی حالات برقرار رہے تو آنے والے دنوں میں امریکی ڈالر کی قیمت 250 روپے سے بھی کم ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں استحکام آنے کی ایک بڑی وجہ حوالہ اور ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف مؤثر کارروائیاں ہیں۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار بھی اہم رہا، جس کے باعث زرمبادلہ کی صورتحال میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
ملک بوستان نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پاکستان ریمیٹینس انیشی ایٹو (PRI) اسکیم ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسی پروگرام کی بدولت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 41 ارب ڈالر تک پہنچیں، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی استحکام ملا۔
انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت حکومت ترسیلاتِ زر بھیجنے والے افراد سے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کرتی تھی، جبکہ بیرون ملک موجود ایکسچینج کمپنیوں کو ہر ٹرانزیکشن پر 50 ڈالر بطور مراعات ادا کیے جاتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی مراعات کے نتیجے میں 2025 کے دوران ترسیلاتِ زر کی مجموعی مالیت میں نمایاں اضافہ ہوا اور اس کا حجم 209 ارب تک پہنچ گیا۔
چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق آئی ایم ایف نے گزشتہ سال پاکستان ریمیٹینس انیشی ایٹو اسکیم کو ختم کرنے کی شرط رکھی تھی، جس کے بعد اس پروگرام کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر حکومت اسکیم کو مکمل ختم کرنے کے بجائے اس میں مناسب اصلاحات کر دیتی تو ترسیلاتِ زر کے موجودہ رجحان کو برقرار رکھا جا سکتا تھا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بیرون ملک سے رقم بھیجنے پر اضافی فیس عائد کی گئی تو ترسیلاتِ زر میں کمی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ بیرون ملک مقیم تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانیوں کی وجہ سے ترسیلاتِ زر کا سلسلہ مجموعی طور پر برقرار رہے گا۔
ملک بوستان نے ایک بار پھر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اگر موجودہ معاشی استحکام اور غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں تو مستقبل قریب میں ڈالر کی قیمت 250 روپے سے بھی نیچے آ سکتی ہے۔



















































