اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) وفاقی وزارت خزانہ نے اپنی تازہ ماہانہ معاشی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک رپورٹ جاری کرتے ہوئے
پیش گوئی کی ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جاری کمی کے مثبت اثرات پاکستان میں بھی سامنے آ سکتے ہیں، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں موجودہ رجحان کے مطابق کم رہیں تو اس سے ملکی منڈی میں قیمتوں کے استحکام کو فروغ ملے گا اور افراطِ زر کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔وزارت خزانہ نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ جون کے دوران مہنگائی کی سالانہ شرح تقریباً 11 سے 12 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اقتصادی ترقی کی شرح 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے مقابلے میں ملکی جی ڈی پی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی، جبکہ معیشت کا مجموعی حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی بجٹ میں برآمدات بڑھانے، ٹیکس دہندگان کو ریلیف دینے اور مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے مثبت نتائج مستقبل میں بھی سامنے آنے کی توقع ہے۔رپورٹ میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران ملکی معاشی صورتحال مزید بہتر ہوگی اور اقتصادی استحکام کا عمل مزید مضبوط ہو گا۔



















































