اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ جھیل سیف اللہ: (ر) کمانڈرعامر کے برادر نسبتی نے قتل کا شبہ ظاہر کردیا، بھتیجے پر سنگین الزامات

datetime 4  جولائی  2026 |

سوات(این این آئی)سانحہ جھیل سیف اللہ میں اہل خانہ سمیت جاں بحق ہونے والے پاک بحریہ کے ریٹائرڈکمانڈر عامر ہندل کے برادر نسبتی نے قتل کا شبہ ظاہر کر دیاہے۔

جاں بحق ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل کے برادر نسبتی نوید چیمہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے پیچھے حکومت کی شدید ترین نا اہلی ہے، اگر جھیل میں طغیانی تھی تو اس بارے میں سیاحوں کو آگاہ کیوں نہیں کیا گیا تھا، دنیا بھر میں تفریحی مقامات پر احتیاطی تدابیر درج ہوتی ہیں، آپ جب جہاز پر سفر کرتے ہیں تو ائیر ہوسٹس کھڑے ہوکر ایمرجنسی میں کیا کرنا چاہیے اس کے بارے میں آگاہی دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی احتیاطی تدابیر نہیں بتائی گئیں، کوئی لائف جیکٹس نہیں دی گئیں، جہاں یہ سانحہ ہوا وہاں پر ایف آئی آر لانچ ہوئی ہے، اس پر کیا تحقیقات ہوئی، ہمیں کسی نے کچھ نہیں بتایا۔

نوید چیمہ نے کہا کہ میں چپ کر کے بیٹھنے والا نہیں ہوں، میں اس معاملے کی انوسٹی گیشن کرواوں گا، اس سانحہ میں میری تین نسلیں ختم ہو گئی ہیں، جو ریسکیو ون ون ٹو ٹو ڈیڈ باڈیز لا رہی تھی راستے میں اس کا پٹرول ختم ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے اس طرز پر بھی تحقیقات کرے کیونکہ کمانڈر عامر ہندل کا فیملی کے ساتھ جائیداد کا تنازعہ چل رہا تھا اور انہیں قتل کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔انہوںنے کہاکہ عامر کی بیٹیاں اور ایک نواسے کو جب ریسکیو کیا گیا اس وقت وہ سانس لے رہے تھے بچے کو سی ار پی دینے کی فوٹیج موجود ہے، وہ بچہ بچ جاتا تو وہ اس خاندان کا چشم و چراغ ہوتا،راستے میں ایمبولینس کا پیٹرول ختم ہونا ایک سوال ہے، ہسپتال میی فوری طبی امداد نہیں دی گئی کیونکہ عملہ ہی موجود نہیں تھا، ان سب معاملات کو نظر میں رکھنا چاہیے اور دونوں صوبوں کی پولیس اس معاملے کی انکوائری کرے۔

انہوںنے کہاکہ کمانڈر عامر کے بھتیجے نے ان کے فارم ہاؤس پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں پر نشے کا اڈا بنایا ہوا تھا، عامر ہندل نے ار پی او کو قبضہ ہٹوانے کی درخواست بھی دی ہوئی تھی۔یاد رہے کہ یکم جولائی کو لاہور سے تعلق رکھنے والے عامر ہندل اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مہوڈنڈ کے علاقے میں واقع سیف اللہ جھیل میں کشتی میں سوار تھے جب یہ الٹ گئی۔اس حادثے کے نتیجے میں اس خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہوئے جن میں سابق لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل، ان کے 20سالہ بیٹے عبداللہ ہندل، دو بیٹیاں 27سالہ پروا ہندل اور 23سالہ رویل ہندل، جبکہ پروا ہندل کے دو کمسن بچے بھی شامل ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…