ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ ، پیپلز پارٹی کے اہم ترین رہنما کو 2سال بعد رہائی کا پروانہ مل گیا ، 50 لاکھ روپے زرضمانت جمع کرانے کا حکم،نام ای سی ایل میں شامل

datetime 25  جون‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ اطلاعات سندھ میں پونے 6 ارب کرپشن ریفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کی ضمانت منظور کرتے ہوئے جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیاہے۔منگل کوعدالت نے شرجیل انعام میمن کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے انہیں جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے شرجیل میمن کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے اورملزم کو 50 لاکھ روپے کی زرضمانت جمع کرانے کا حکم بھی دیاہے جسٹس کریم خان آغا اور جسٹس عمر سیال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنایاہے۔شرجیل میمن کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ شرجیل میمن 2017 سے جیل میں ہیں کیس کے میرٹ پر درخواست دائر کی ہے، اتنے عرصے میں شرجیل میمن کے خلاف 50 گواہوں میں سے صرف 3 گواہوں نے بیان قلمبند کرایا ہے۔شرجیل میمن کے وکیل نے کہا انکے موکل پر اشتہارات مہنگے دینے کا الزام ہے۔ وفاقی حکومت کی اشتہارات کی نئی لسٹ کے مطابق اشتہارات کے نرخ پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ شرجیل میمن پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے ،ہمیں شرجیل میمن نہیں سندھ حکومت کے خلاف شکایت موصول ہوئی تھی۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی نے چینل کو کم پیسے دیئے جبکہ حکومت سے زیادہ پیسے وصول کئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ یہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی اور چینلز کے درمیان کا معاملہ ہے آپ کیسے ثابت کریں گے کہ شرجیل میمن نے کِک بیکس لی ہیں؟۔تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ یہ ثبت نہیں ہوتا ہے کہ شرجیل میمن نے کِک بیکس وصول کی ہیں۔

تاہم شرجیل میمن نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے۔عدالت نے شرجیل میمن کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ شرجیل میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خوش ہوں 21 ماہ بعد عدالت نے ضمانت منظور کرلی ہے، مجھے عدالتوں پر مکمل اعتماد ہے، نام ای سی ایل میں شامل ہے میں بھاگ نہیں رہا۔واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ نے 2 بار شرجیل انعام میمن کی درخواستِ ضمانت مسترد کی تھی۔ریفرنس میں 17 ملزمان نامزد ہیں، ملزمان کیخلاف ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے، ریفرنس میں سابق سیکرٹری انفارمیشن ذوالفقار شلوانی سمیت 13ملزمان جیل میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…