گوبر کے کیڑے

  اتوار‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2021  |  0:01

گوبر دیہات میں انرجی کا بہت بڑا سورس ہے‘ خواتین گائے اور بھینس کا گوبر جمع کرتی ہیں‘ اوپلے بناتی ہیں‘ دیواروں اور چھتوں پر چپکاتی ہیں‘ یہ دھوپ اور ہوا سے سوکھ جاتے ہیں اور اس کے بعد یہ چولہے میں جلانے کے کام آتے ہیں‘ میرا بچپن اوپلوں کے دھوئیں میں گزرا‘ گائوں میں دودھ کو اوپلوں کی ہلکی آنچ پر پکایا جاتا تھا‘ اوپلوں کی آنچ اسے گاڑھا اور میٹھا بنا دیتی تھی‘

خواتین کھانا لکڑی کی آگ پربناتی تھیں لیکن سخت خوراک کوگلانے کے لیے ہمیشہ اوپلوں کی آگ جلائی جاتی تھی اور پھر یہ دیگچے کو اس پر رکھ کر گھر کے باقی کام کرتی رہتی تھیں‘ گوبر میں ایک کیڑا پیدا ہوتا تھا‘ اس کیڑے کو عرف عام میں گوبر کا کیڑا یا ’’گویے دا کیڑا‘‘ کہا جاتا تھا‘ یہ کیڑا باڑوں میں رہتا تھا‘ زمین میں بل بناتا تھا اور ان میں پناہ گزین ہو جاتا تھا‘ گوبر اس کی خوراک ہوتا تھا‘ گائے یا بھینس جوں ہی ’’فارغ‘‘ ہوتی تھی یہ دوڑ کر تازہ گوبر تک پہنچتا تھا‘ جی بھر کر گوبر کھاتا تھا اورپھر گوبر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو اپنی پانچ چھ ٹانگوں کے ذریعے دھکا دینا شروع کر دیتا تھا‘ گوبر رول ہونے لگتا تھا اور آہستہ آہستہ چھوٹی سی گیند بن جاتا تھا‘ کیڑا اس گیند کو دھکیلتا جاتا تھا اور گیند بڑی ہوتی جاتی تھی یہاں تک کہ اس کا سائز ائیرگن کے چھرے جتنا ہو جاتا تھا‘ گوبر کی یہ گولی کیڑے کا لنچ یا ڈنر ہوتی تھی اور اس کی پوری کوشش ہوتی تھی وہ اس گولی کو دھکیل کر اپنے بل تک لے جائے اور اسے دو تین دن تک کھاتا رہے لیکن لالچ کی وجہ سے وہ اس کا سائز بڑا کردیتا تھا اور آخر میں جب گولی اس کے بل تک پہنچتی تھی تو وہ سوراخ سے دو تین گنا بڑی ہو چکی ہوتی تھی اوروہ بل میں داخل نہیں ہو پاتی تھی‘ وہ زور لگاتا تھا‘ اسے دھکیلتا تھا لیکن گولی بل میں نہیں جاتی تھی یہاں تک کہ وہ مایوس ہو کر گولی کو بل کے سامنے سے ہٹاتا تھا ‘اسے حسرت سے دیکھتا تھا اور اندر چلا جاتا تھا ‘مجھے بچپن میں یہ کیڑے اوران کی مشقت دیکھنے کا شوق تھا‘ میں عموماً باڑے کی سائیڈ پر بیٹھ کر نظارہ کرتا رہتا تھا‘ میرے سامنے سیکڑوں کیڑے گوبر کی گولیاں بناتے تھے‘ انہیں رول کرتے تھے‘ ان کا سائز بڑا کرتے تھے‘ انہیں دھکیل کر بلوں تک لاتے تھے اور پھر یہ سیکڑوں ہزاروں گولیاں بلوں کے سامنے چھوڑ کر غائب ہو جاتے تھے اور اس کے بعد چھوٹی چڑیاں اور چھچھوندریں آتی تھیں اور گوبر کی تمام گولیاں ہڑپ کر کے اڑ جاتی تھیں۔

میں آج سوچتا ہوں تو مجھے وہ سارا منظر کریہہ محسوس ہوتا ہے‘ میں تسلیم کرتا ہوں میں بچپن میں واہیات حرکت کرتارہا لیکن نہ جانے آج مجھے کیوں اپنے دائیں بائیں ہزاروں لاکھوں انسان گوبر کے کیڑوں جیسی غلطی کرتے دکھائی دیتے ہیں‘ میں روز لاکھوں لوگوں کو گوبر کو رول کرتے‘ اس کی گولیاں بناتے‘ اسے اپنے بلوں تک گھسیٹتے‘ اسے اندر دھکیلتے اور آخر میں مایوس ہو کر

ان گولیوں کو دروازوں کے سامنے چھوڑ کر بلوں میں گم ہوتے دیکھتا ہوں اور پھر سوچتا ہوں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا تھا‘ ہمیں کون ومکان کے راز کھولنے کا ٹاسک دیا تھا لیکن ہم گوبر کے کیڑے بن گئے اور ہم نے اپنی زندگی گوبر کی گولیوں کی نذر کر دی‘ ہم کیسے لوگ ہیں؟یہ ہم انسانوں کا پہلا ایشو ہے‘ ہمارا دوسرا ایشو ہماری حیوانیت ہے‘ ہم اگر دنیا کو جنگل مان لیں

تو پھر ہمیں ماننا ہو گا اس جنگل کے ایک جانور کا نام ’’انسان‘‘ بھی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے باقی جانوروں کو شکار کرنے کاکوئی ایک فن دیا لیکن انسان کے پاس شکار اور قتل کے ہزاروں طریقے ہیں‘ جانور پنجوں سے شکار کرتے ہیں‘ چونچ سے مارتے ہیں‘ جبڑوں سے قتل کرتے ہیں یا دوسروں کو سموں اور پائوں کے نیچے کچلتے ہیں جب کہ انسان خیال سے لے کر سوچ اور احساس سے لے

کر گمان تک ہزاروں طریقوں سے دوسروں کو قتل کر سکتا ہے‘ جانور اپنی نسل کا گوشت نہیں کھاتے‘ شیر پر شیر‘ چیتے پر چیتے‘ اور بلی پر بلی کا گوشت حرام ہوتا ہے حتیٰ کہ کتا بھی کتے کا گوشت نہیں کھاتا لیکن ہم انسان اپنے خونی رشتے داروں کوبھی نہیں چھوڑتے‘ ہم انہیں بھی ماردیتے ہیں چناں چہ پھر دنیا کا خطرناک ترین جانور کون ہوا؟ اور تیسرا ایشو دنیا کا کوئی جانور اپنے بچوں کو

عمر بھر نہیں پالتا‘ جانوروں میں ماں اور بچے کا تعلق چند ہفتوں تک رہتا ہے‘ بچہ جوں ہی اپنے ریڈیس (حلقے) سے باہر نکل جاتا ہے ماں اسے آزاد سمجھ کر اس سے اپنا تعلق توڑ دیتی ہے‘ وہ اس کے بعد اس کا بچہ نہیں رہتا لیکن ہم انسان ایک ایسا جانور ہیں جو مرنے کے بعد بھی اپنے بچوں کو فرد نہیں بننے دیتے‘ ہم انہیں بچہ ہی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں اور یہ ہمارے وہ تین ایشوز ہیں جن کی وجہ سے ہم فرسٹریشن اور اینگزائٹی کا شکار ہوتے ہیں۔

میرے پاس ایک صاحب آئے‘ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا لیکن وہ اس کے باوجود ٹینشن اور اینگزائٹی کے خوف ناک مریض تھے‘ فکر ان کا ذکر بن چکی تھی‘ وہ اینگزائٹی سے نجات چاہتے تھے‘ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ کے پاس اپنا گھر ہے؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’تین گھر ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’اور سواری‘‘ وہ بولے ’’گاڑیاں بھی تین ہیں‘‘ میں نے پوچھا اور ’’اہل خانہ‘‘ وہ بولے

’’الحمد للہ بیوی اور بچے بھی ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’اور روزگار‘‘ وہ بولے ’’فیکٹری بھی ہے اور پلازے بھی ‘‘ میں نے پوچھا ’’ اورآپ اگر آج کام بند کر دیں تو کیا دو تین سال تک اپنا لائف سٹائل برقرار رکھ سکتے ہیں؟‘‘ وہ تڑپ کر بولے ’’ میں بیس تیس سال نکال سکتا ہوں‘‘ میں نے ان سے آخری سوال کیا ’’آپ جو چاہتے ہیں وہ کھا لیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں خرید اور استعمال کر لیتے ہیں‘‘

وہ فوراً بولے ’’سو فیصد‘‘ میں نے قہقہہ لگا کر کہا ’’پھر مسئلہ کیا ہے‘ پریشانی کیاہے؟‘‘ وہ رکے‘ تھوڑا سا سوچا اور پھر جواب دیا ’’مجھے بھی سمجھ نہیں آتی میں پریشان کیوں رہتا ہوں؟‘‘ میں نے انہیں گوبر کے کیڑے کی مثال دی اور عرض کیا ’’آپ کی اینگزائٹی دراصل گوبر کے کیڑے کی پریشانی ہے‘ آپ نے اپنے بل سے بڑی گولی بنا لی ہے‘ گولی اب بل کے اندر نہیں جا رہی لہٰذا آپ گولی کے

قریب بیٹھ کر اسے پریشانی سے دیکھ رہے ہیں‘‘ انہوں نے تھوڑی دیر سوچا اور پھر قہقہہ لگا کر بولے ’’آپ کی تشخیص سو فیصد درست ہے‘ میں گوبر کا کیڑا بن گیا ہوں اور قدرت مجھے اس ناشکری کی سزا دے رہی ہے‘‘ میں نے ان سے عرض کیا ’’انسان نعمت کے بعد جتنا شکر کرتا ہے نعمت میں اتنا ہی رس‘ خوشبو اور اطمینان پیدا ہوتا ہے اور یہ جتنی ناشکری کرتا ہے نعمت اتنی ہی زحمت بنتی

چلی جاتی ہے لہٰذا زندگی میں جب بھی اچیومنٹ کے بعد فرسٹریشن محسوس ہو آپ جان لیں آپ ’’وٹامن شکر‘‘ کی کمی کا شکار ہیں‘‘ فیصل آباد میں میرے ایک کلائنٹ رہتے ہیں‘ ارب پتی ہیں لیکن اولاد کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں‘ ان کا دکھ بڑھ جاتا ہے تو یہ میرے پاس آ جاتے ہیں‘ میں نے ان سے ایک بار پوچھا ’’آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟‘‘ وہ دکھی آواز میں بولے ’’اولاد کے لیے‘‘ میں نے عرض کیا

’’آپ کی اپروچ ٹھیک نہیں‘ انسان کا بچہ اس وقت تک والدین کی ذمہ داری رہتا ہے جب تک اس کا شناختی کارڈ نہیں بن جاتا‘ بچوں بالخصوص بیٹوں کو 18 سال کی عمر کے بعد اپنا بوجھ خود اٹھانا چاہیے‘ ہم بیٹیوں کو تھوڑی سی رعایت دے سکتے ہیں‘ یہ شادی تک والدین کی ذمہ داری ہوتی ہیں لیکن ہم پچاس سال کے بچوں اور پھر ان کے بچوں کی ذمہ داری بھی اٹھا لیتے ہیں اور یہ غیر فطری عمل ہے‘

جانور اپنے بچوں کے لیے کچھ بھی چھوڑ کر نہیں جاتے‘ان کا ہر بچہ اپنا بل‘ اپنی کھچار اور اپنا گھونسلا خود بناتا ہے مگر ہم تین نسلوں کے لیے بندوبست کرتے کرتے مر جاتے ہیں اور اس کوشش میں دنیا اور اولاد دونوں کے ہاتھوں دکھ اٹھاتے ہیں‘ آپ کے بچے جب اٹھارہ سال کے ہو جائیں تو آپ ان کا بوجھ ان کے کندھوں پر ڈال دیں‘ آپ ان کی سپون فیڈنگ بند کر دیں تاکہ یہ انڈی پینڈنٹ ہو سکیں ورنہ

آپ اسی طرح دکھی رہیں گے‘‘ میرے ایک دوست اسی طرح پانچ وقتہ ڈپریس ہیں‘ میں نے ایک دن ان کے ساتھ گپ لگائی تو پتا چلا وہ ہر دوسرے شخص سے متھا لگا لیتے‘ لڑتے اور جھگڑتے رہتے ہیں‘ دنیا میں اتنے لوگ نہیں ہیں جتنے ان کے دشمن ہیں‘ میں نے ان سے بھی عرض کیا‘ آپ وہ جانور بن چکے ہیں جسے انسان کہا جاتا ہے اور آپ کے پاس جانوروں سے زیادہ دوسروں کو

مارنے اور تباہ کرنے کے طریقے موجود ہیں اور آپ یہ استعمال بھی کرتے ہیں لہٰذا آپ خوش کیسے رہ سکتے ہیں؟ وہ دیر تک سوچتے رہے‘ میں نے عرض کیا آپ اس وقت تک سکون نہیں پا سکیں گے جب تک آپ دشمنیوں کا یہ سلسلہ بند نہیں کرتے۔ہم انسانوں میں اینگزائٹی‘ ڈپریشن اور فرسٹریشن کی تین وجوہات ہیں‘ ہم گوبر کے کیڑوں کی طرح اپنے بل سے بڑی گولیاں بنا لیتے ہیں‘ ہم اپنے بچوں کی

ذمہ داری مرنے کے بعد تک اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور تیسرا ہم ایسے جانور بن جاتے ہیں جن کے پاس جانوروں سے زیادہ شکار کے طریقے موجود ہیں لہٰذا ہم ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں‘ ہم اگر زیادہ تبدیلی نہیں کر سکتے تو بھی ہم کم از کم گوبر کے کیڑوں سے تو اوپر اٹھ سکتے ہیں‘ ہم اپنے بل سے بڑی گولیاں بنانا تو بند کر سکتے ہیں‘ میرا دعویٰ ہے آپ صرف یہ کر لیں آپ اینگزائٹی اور ڈپریشن سے باہر نکل آئیں گے‘ آزمائش شرط ہے۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎