اچھا جی

  اتوار‬‮ 20 دسمبر‬‮ 2020  |  0:02

طارق محمودملک کے ساتھ میری پہلی ملاقات 1999ء میں ہوئی تھی‘ ہم نے بارانی یونیورسٹی میںپریکٹیکل جرنلزم کا چھوٹا سا ڈیپارٹمنٹ بنایا تھا‘ یہ دو سال کا پراجیکٹ تھا اور ہم اس پراجیکٹ میں نوجوانوں کو الیکٹرانک میڈیا کی ٹریننگ دیتے تھے‘ طارق محمود دوسرے بیچ میں طالب علم بن کر آیا تھا‘ اس کی کہانی دل چسپ تھی‘ یہ تلہ گنگ میں سکول ٹیچر تھااور ٹیچنگ سے پہلے یہ ڈرافٹس مین تھا‘یہ نقشے بناتا تھا اور اس سے اپنا دال دلیہ چلاتا تھا لیکن یہ شروع ہی میں جان گیا تھا تلہ گنگ‘ نقشے اور سکول ٹیچنگ اس کی منزل نہیں‘ اس نے ان سب سے آگے نکلنا ہے چناں چہ اسلام آباد آیا اور ہمارا کورس جوائن کر لیا‘ اس کی پرسنیلٹی ابا جی ٹائپ تھی‘ آپ نے

اگر چھوٹے شہروں کے والد دیکھے ہوں تو آپ کو ان کی شخصیت‘ چہرے کی سنجیدگی اور آواز کا اتار چڑھائو بھی یاد ہو گا‘ یہ دیسی والد جب بھی گلی یا گھر میں قدم رکھتے ہیں تو کسی کونے سے آواز آتی ہے ’’اوئے ابا جی آ گئے‘‘ اور پھرگلی یا گھر میں دوڑ لگ جاتی ہے‘ طارق محمود بھی اباجی ٹائپ تھا چناں چہ ڈیپارٹمنٹ نے اس کا نام اباجی رکھ دیا تھا‘ وہ اس وقت ویسے بھی عملاً ابا جی تھا بھی‘ شادی شدہ تھا اور باقاعدہ بال بچے دار تھا‘ چار دن پڑھتا تھا اور تین دن تلہ گنگ جا کر نقشے بناتا تھا‘ سلجھا ہوا تھا اور ذرا سا سلو موشن بھی تھا‘ اس سے کچھ بھی پوچھا جاتا تھا تو وہ سوچ کر‘ ٹھہر ٹھہر کر جواب دیتا تھا‘ وہ آخری سمسٹر میں تھا‘ ایک دن میرے پاس آیا اور آہستہ آواز میں بولا ’’سر کیا مجھے میڈیا میں کوئی جاب مل سکتی ہے‘‘ میرے پاس اس وقت ایک مذہبی اخبار کا ایڈیٹر بیٹھا تھا‘ میں نے اس سے ریکویسٹ کی ’’مولانا یہ بڑا زبردست نوجوان ہے‘ ہلکی سی داڑھی بھی ہے بس یہ ابھی آپ کے فرقے میں داخل نہیں ہوا‘ آپ اگر اسے جاب دے دیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں یہ آج شام سے آپ کے پیچھےنماز پڑھنا شروع کر دے گا‘‘ مولانا کے منہ سے قہقہہ نکل گیا اور طارق محمود صحافت میں داخل ہو گیا‘ یہ سال بھر اس اخبار میں رپورٹنگ کرتا رہا‘ مطمئن تھا‘ خوش بھی تھا لیکن پھر اس کا چیف رپورٹر بدل گیا اور اس نے اسے تنگ کرنا شروع کر دیا‘ یہ دوسری مرتبہ میرے پاس آیا اور اس کی خوش قسمتی سے اس دن ایک چیف ایڈیٹر میرے پاس تشریف لائے ہوئے تھے‘ میں نے انہیں طارق محمود دکھایا اورعرض کیا ’’یہ مولوی اندر سے بالکل مولوی نہیں ہے‘ یہ مکمل لبرل ہے‘ آپ اگر اسے جاب دے دیں تو یہ ماروی سرمد کو بھی حیران کر دے گا‘‘ وہ چیف ایڈیٹر بھی ہنس پڑے اور یوں یہ ’’مین سٹریم میڈیا‘‘ میں آ گیا اور پھر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا‘ یہ اخبارات سے ٹیلی ویژن چینلز میں آگیا اور پھر ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے ادارے میں چھلانگیں لگاتا رہا۔میں داستان آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں میں نے 2001ء میں اپنا ایک چھوٹا سا گھر بنانا شروع کیا تھا‘ میں خود کو آرکی ٹیکٹ اور سول انجینئر بھی سمجھتا تھا لہٰذا میں اس میں بری طرح پھنس گیا اگر طارق محمود مجھے اس میں ریسکیو نہ کرتا تو میں پاگل ہو چکا ہوتا‘یہ دوڑ کر تلہ گنگ سے مستری لے آیااور ان دونوں نے بڑی مشکل سے مجھے اس صورت حال سے نکالا‘ مستری نذیر بھی اس کی طرح ایک دل چسپ کردار تھا‘ مستری نذیر آنے والے دنوں میں ٹھیکے دار نذیر بن گیا اور یہبھی طارق محمود کی طرح میری زندگی کا حصہ ہو گیا‘ یہ بھی گاہے بگاہے مجھے ملتا رہا‘ طارق محمود زندگی میں جب بھی کہیں پھنس جاتا تھا تو یہ میرے پاس آتا تھا اور مسکرا کر کہتا تھا ’’سر پھر سٹک (Stuck) ہو گیا ہوں‘‘ اور ہم ایک لمبی واک کرتے اور ہمیں اس مشکل کا کوئی نہ کوئی حل مل جاتا تھا‘ یہ دو ماہ قبل آخری مرتبہ مجھے ملنے آیا‘ یہ ہم ٹی وی میں جاب کر رہا تھا‘ تنخواہ وقت پر مل رہی تھی اور یہ اس بات پر خوش تھا‘ سمجھ دار تھا چناں چہ گھر سے واک کے جوتے پہن کر آیا تھا‘ہم نے واک شروع کر دی‘ یہ راستے میں مجھ سے پوچھنے لگا‘ میں آپ کو 21 برسوں سے جانتا ہوں‘ میں حیران ہوں آپ کسی پریس کانفرنس میں جاتے ہیں اور نہ ہی میں نے آپ کو آج تک کسی کے پاس بیٹھے دیکھا‘ آپ لوگوں سے کیوں دور رہتے ہیں‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’اللہ تعالیٰ نے برسوں پہلے مجھ پر رحم کر دیا تھا‘ اس نے مجھے سمجھا دیا تھا یہ زندگی میری ہے اور اسے مجھے گزارنا چاہیے‘ میں کوشش کرتا ہوں میں اپنی زندگی کو خود گزاروں‘ دوسروں کو نہ گزارنے دوں چناں چہ میں اپنا سارا وقت اپنی فیملی‘کتابوں‘ فلموں‘ سفر‘ ایکسرسائز اور اپنے ٹریننگ کلائنٹس کو دیتا ہوں اور خوش رہتا ہوں‘ اپنے لیے کماتا ہوں اور جو کماتا ہوں وہ خرچ کر دیتا ہوں اور بات ختم‘‘ وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا ’’سر اللہ تعالیٰ نے آپ پر خصوصی کرم کیا‘ اس نے آپ کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا موقع دے دیا‘ آپ کو اگر ہماری طرح کسی دفتر جانا پڑتا تو میں پھر آپ سے پوچھتا آزادی کیا ہوتی ہے اور اس کا بھائو کیا ہوتا ہے؟‘‘میں نے اس سے اتفاق کیا‘ وہ بولا ’’سر آپ یقین کریں دنیا میں فنانشل انڈی پینڈنس سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں ہوتی اور میں تیس سال سے یہ تلاش کر رہا ہوں‘‘ وہ رکا‘ ہنسا اور آہستہ آواز میں بولا ’’اور سر ننانوے فیصد صحافی میری جیسی آزمائش سے گزر رہے ہیں‘ آپ جیسے صرف ون پرسنٹ ہیں اور آپ لوگ اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہو گا‘ آپ ہر وقت شکر ادا کرتے رہا کریں اورزندگی میں کبھی یہ نہ کہیں میں یہ کرتا ہوں یا میں نے یہ کیا‘ آپ لوگوں پر بس اللہ کا کرم ہے ورنہ صحافت میں ہزاروں لوگ آپ سے زیادہ باصلاحیت اور پڑھے لکھے ہیں‘ اللہ اگر انہیں موقع دے دیتا تو یہ آپ سے سیکڑوں میل آگے ہوتے‘‘ میں اعتراف کرتا ہوں مجھے آج اس کی بات میں وزن محسوس ہوتا ہے لیکن اس رات میں صرف اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا اور وہ مجھے بارانی یونیورسٹی کا اباجی محسوس ہو رہا تھا‘ خواہ مخواہ کا مشیر‘ خواہ مخواہ کا چلتا پھرتا ناصح‘ وہ راستے سے لوٹ گیا جب کہ میں چلتےچلتے گھر پہنچ گیا‘ میں آنے والے چند دنوں میں طارق محمود اور اس کے ساتھ آخری واک بھول گیا‘ میں نے جمعرات کی دوپہر فون کھولا تو نذیر ٹھیکے دار کا چھوٹا سا میسج آیا ہوا تھا‘یہ کسی کے جنازے کا کلپ تھا‘ میں نے نذیر کو میسج کیا ’’یہ کس کا جنازہ ہے‘‘ اس کا حیرت میں ڈوبا ہوا جواب آیا ’’کیا آپ نہیں جانتے طارق محمود کا انتقال ہو گیا ‘‘ میں سناٹے میں آ گیا اس کی موت میرے لیے غیر متوقع تھی‘ آپ کی زندگی میںبھی ایسے بے شمار لوگ ہوں گے جن کے بارے میں آپ کے لیے یہ سوچنا بھی مشکل ہو گا ’’یہ بھی مر سکتے ہیں‘‘ اور طارق محمود ان لوگوں میں شامل تھا‘ وہ محتاط تھا‘ سمجھ دار تھا اور جوان بھی تھا اور ایسے شخص کی اچانک موت خوف ناک ہوتی ہے‘ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں سارا دن ہاتھ ملتا رہا‘ یہ ارشد وحید چودھری کے بعد میڈیا کی نئی لاٹ کی دوسری موت تھی جس نے اسلام آباد کی صحافتی برادری کو دکھی کر دیا۔ہم زندگی کی دوڑ میں مبتلا لوگ ہیں اور یہ دوڑ کورونا سے زیادہ خوف ناک بیماری ہے‘ یہ آپ کو رکنے‘ سوچنے اور سوچ کر زندگی کو ری آرگنائز کرنے کی مہلت نہیں دیتی‘ ہمارے دائیں بائیں موجود لوگ مرتے رہتے ہیں‘ ہم ان کے جنازے بھی پڑھتے ہیں اور ہم انہیں دفن بھی کرتے ہیں لیکن تدفین‘ افسوس اور جنازوں کے باوجود ہمارے دل میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال دستک نہیں دیتا آج ہم بھیان کی جگہ ہو سکتے تھے یا ہم نے بھی کسی دن اس جگہ پہنچنا ہے‘ ہم انسان یہ سوچتے ہی نہیں ہیں چناں چہ ہم قبرستانوں میں کھڑے ہو کر بھی کفن بیچ لیتے ہیں اور ہم قبر کی مٹی‘ ہڈیوں اور تابوتوں کا سودا بھی کرتے رہتے ہیں‘ کورونا اس بار سیکڑوں شان دار لوگوں کو ہم سے چھین کر لے گیا‘ عبدالقادر حسن جیسا سونا بھی مٹی میں مل گیا‘ یہ بھی کیا شان دار انسان تھے‘ خاندانی‘ وضع دار اور وسیع القلب‘ میں جب بھی ترکی اور ازبکستان کے بارے میں لکھتا تھا تو ان کا فون ضرور آتا تھا‘ ازبکستان اور ترکیان کے لہو میں گردش کرتا تھا‘ یہ مولانا روم کے عاشق بھی تھے لیکن یہ عاشق بھی دنیا سے رخصت ہو گیا اور طارق محمود ملک بھی چپکے سے روانہ ہو گیا‘ بالکل اسی طرح چپکے سے جس طرح یہ میری زندگی میں آیا تھا‘ خاموش‘ دھیما اور متفکر‘ مجھے آج بھی یاد ہے اس نے 2010ء میں مجھ سے پوچھا تھا’’ سر یہ بتائیں جو مالکان اپنے ورکرز کو تنخواہیں نہیں دیتے کیا انہیں رات کو نیند آ جاتی ہے‘‘ میں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا تھا ’’یہ ظالم لوگ ہیں اور ظالموں کو رات کیا دن میں بھی نیند آ جاتی ہے‘‘ اور اس نےمسکرا کر زور سے کہا تھا’’اچھا جی‘‘ اس کے اچھا جی میں بہت کچھ تھا بلکہ ٹھہریے سب کچھ تھا‘ وہ چلا گیا لیکن اس کا اچھا جی آج بھی میرے کانوں میں زندہ ہے اور اچھا جی بازگشت بن کر میڈیا انڈسٹری سے پوچھ رہاہے آپ لوگ ورکروں کو تنخواہیں کیوںنہیں دیتے؟ آپ اگر جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں تو آپ سنگ دل ہیں اور اگر آپ میں تنخواہوں کی استطاعت نہیں تو پھر آپ اخبارات اور چینلز کھول کر طارق محمود ملک جیسے لوگوں پر ظلم کرتے ہیں‘ پھر آپ سے بڑا ظالم کوئی نہیں!۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بلیک سٹارٹ

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎