ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے منافع سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز نے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس پر دی جانے والی منافع کی شرح میں تبدیلی کر دی ہے، جس کا اطلاق جنوری 2026 سے باضابطہ طور پر نافذ ہو چکا ہے۔
ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس اسکیم کا آغاز 1966 میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد عوام کو طویل المدتی بنیادوں پر محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکیم پاکستان میں رہنے والے شہریوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی دستیاب ہے۔
یہ سرٹیفکیٹس مختلف مالیت میں پیش کیے جاتے ہیں، جن میں 500 روپے سے لے کر 10 لاکھ روپے تک کے سرٹیفکیٹس شامل ہیں۔ سرمایہ کار اپنی استطاعت کے مطابق کم یا زیادہ رقم میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت بالغ افراد، اوورسیز پاکستانیوں، نائیکوپ یا پی او سی ہولڈرز کے علاوہ نابالغ بچوں کے لیے بھی دستیاب ہے۔
نابالغ افراد سرپرست کے ساتھ یا مشترکہ طور پر سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، جبکہ مشترکہ اکاؤنٹ دو بالغ افراد یا ایک بالغ اور ایک نابالغ کے نام پر بھی کھولا جا سکتا ہے۔
ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس نیشنل سیونگز کے دفاتر، مجاز شیڈول بینکوں کی برانچز اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تازہ ترین فیصلے کے تحت قومی بچت اسکیم میں ان سرٹیفکیٹس پر منافع کی سالانہ شرح کم کر کے 11.08 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔
اگر ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے تو 10 سال مکمل ہونے پر متوقع رقم کچھ اس طرح ہو سکتی ہے: پہلے سال کے اختتام پر تقریباً 1 لاکھ 9 ہزار روپے، دوسرے سال میں 1 لاکھ 19 ہزار، تیسرے سال 1 لاکھ 30 ہزار، چوتھے سال 1 لاکھ 43 ہزار، پانچویں سال 1 لاکھ 58 ہزار، چھٹے سال 1 لاکھ 76 ہزار، ساتویں سال 1 لاکھ 97 ہزار، آٹھویں سال 2 لاکھ 22 ہزار، نویں سال 2 لاکھ 51 ہزار اور دسویں سال کے اختتام پر تقریباً 2 لاکھ 86 ہزار روپے ملنے کی توقع ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات کے مطابق منافع پر ٹیکس اور زکوٰۃ کی کٹوتی لاگو ہوتی ہے۔ فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 15 فیصد جبکہ نان فائلرز کے لیے 35 فیصد مقرر کی گئی ہے۔













































