جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

پرسی پولس

datetime 8  جنوری‬‮  2026 |

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ نام اسے یونانیوں نے دیا ‘ وہ ایران کو پرش (پرشیا) کہتے تھے جب کہ ایرانی اس علاقے کو تخت جمشید لکھتے اور پکارتے رہے‘ یہ ان کے لیے آج بھی تخت جمشید ہے‘ جمشید فردوسی کے شاہ نامہ کا ایک اساطیری بادشاہ تھا جس کے پاس ایک ایسا پیالہ (جم) تھا جس میں جھانک کر وہ مستقبل دیکھ لیتا تھا‘ فردوسی نے اس پیالے کو ’’جام جم‘‘ لکھ کر اس پر مہر ثبت کر دی‘ یہ شہر پسرگارد سے دو گھنٹے اور نقش رستم (نیکروپولس) سے 40 منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ یہ سائرس کے بعد داریوش گریٹ یا اول نے بنایا اور کمال کر دیا‘ پسرگارد اس زمانے میں سلطنت کا دارالحکومت تھا‘ داریوش گریٹ بھی اسی میں رہتا اور حکومت کرتا تھا لیکن بعدازاں دنیا میں اس نے اپنا نقش چھوڑنے کے لیے شیراز کے مضافات میں دشت مرو میں شان دار شہر آباد کرنے کا فیصلہ کیا‘ یہ شہر پرشین سلطنت کا تقریباتی (سیریمونیل) دارالحکومت تھا اور یہ زگرس (Zagros) کی پہاڑیاں کاٹ کر بنایا گیا تھا‘ آپ جب دشت مرو میں شیراز کے قریب پہنچتے ہیں تو آپ کو سرسبز وادی کے آخری کونے میں سرخ پہاڑ ملتے ہیں‘

داریوش نے انہیں شہر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا‘ اس کی سلطنت اس وقت تک 23 ملکوں تک پھیل چکی تھی‘ اس نے ان تمام علاقوں کے تعمیراتی ماہرین اکٹھے کیے‘ پہاڑ دکھائے اور انہیں توڑ کر ’’ری شیپ‘‘ کر کے شہر میں تبدیل کرنے کا حکم دے دیا یوں 551 قبل مسیح میں پرسی پولس کی تعمیر شروع ہو گئی‘ یہ شہر 518 قبل مسیح میں33برسوں میں مکمل ہوا اور 330 قبل مسیح تک تقریباً 188 سال ایران کا تقریباتی (سیریمونیل) دارالحکومت رہا‘ بادشاہ اس میں سرکاری تقریبات منعقد کرتے تھے‘ تاج پوشی سے لے کر سفیروں سے ملاقات‘ جنگوں کے اعلانات اور ہرسال نوروز کی تقریبات اسی چٹانی شہر میں ہوتی تھیں‘ 333 قبل مسیح میں سکندراعظم اس پر حملہ آور ہوا‘ داریوش سوم (دارا) کے ساتھ اس کی جنگ ہوئی‘ دارا کو شکست ہوئی اور سکندر اس شہر پر قابض ہو گیا‘ شہر کی خوب صورتی اور لوکیشن نے اس کا دل موہ لیا لیکن بعدازاں اس کے جرنیلوں نے پرسی پولس سے اسے دل برداشتہ کر دیا اور اس نے اسے جلانے اور گرانے کا حکم جاری کر دیا یوں یہ حیران کن شہر 31 دنوں میں ختم ہو گیا لیکن یہ تباہ ہونے کے باوجود دنیا میں اپنا نشان چھوڑ گیا‘ آج بھی دنیا بھر سے لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں اور حیرت سے ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے‘ یہ یونیسکو کے ورلڈ ہیرٹیج میں بھی شامل ہے۔

داریوش گریٹ کے زمانے میں شیراز اقوام عالم کی گزر گاہ تھا‘ روس‘ چین اور بھارت سے آنے والی تمام شاہراہیں دشت مرو میں اکٹھی ہوتی تھیں‘ زیگرس کی پہاڑیاں دشت مرو کی نگہبان تھیں‘ ان پر چھوٹی سی فوجی چھائونی تھی‘ فوجی دستے وہاں سے گزر گاہ کی حفاظت بھی کرتے تھے اور قافلوں کے بارے میں پسرگارد میں اطلاعات بھی دیتے تھے‘ داریوش نے اس چھائونی کو شہر میں تبدیل کر دیا‘ 23 ملکوں کے ماہرین ‘ آرکی ٹیکٹ اور ٹائون پلانرزنے پہاڑیوں کو کاٹ کر سب سے پہلے داریوش گریٹ کا آپا دانا (Apadana) محل بنایا‘ یہ شاہی محل تھا‘ اس کے ساتھ مزید چھ محل بنائے گئے‘ یہ ریلیف ہال‘ تھرون ہال‘ ٹریژری ہال‘ گیٹ آف آل نیشنز‘ داریوش کا ذاتی محل اور اس کے بیٹے زرزس کا محل تھا‘ یہ محلات سو سو ستونوں پر کھڑے تھے‘ تمام ستون سو فٹ سے اونچے تھے‘ سرخ سنگ مرمر سے بنے تھے اور ون پیس تھے‘ یہ کیلوں کی طرح زمین میں گاڑھے گئے اور پھر ان پر لکڑی کی چھتیں بنائی گئیں‘ یہ وسیع کمپلیکس تھا‘ زمین سے اوپر پہاڑوں پر تھا اوراس کے ٹیرسز سے دشت مرو‘ اس کی شاہراہیں اور جنگل دکھائی دیتے تھے لیکن افسوس یہ حیرت کدہ سکندراعظم کی نظر بد کا شکار ہو کر پیوند خاک ہو گیا‘ سکندر نے اسے کیوں تباہ کیا؟ تاریخ اس کی دو وجوہات بیان کرتی ہے‘ پہلی وجہ ایرانیوں نے 480 قبل مسیح میں ایتھنز پر حملہ کر کے یونانیوں کے محلات تباہ کر دیے تھے‘ سکندر نے پرسی پولس کو گرا اور جلا کر یہ بدلہ لیا‘ دوسرا سکندر اس کی خوب صورتی اور شکوہ سے حسد میںمبتلا ہو گیا اور اس نے اسے سرے سے مٹا دیا لیکن پرسی پولیس کا کمال دیکھیے‘ یہ سکندر کی بدنیتی اور حسد کے باوجود آج دو ہزار دو سو 70 برس بعد بھی زمین پر کھڑا ہے اور ہر سال لاکھوں لوگ اس کی زیارت کے لیے آتے اور کھلے دل کے ساتھ بنانے والوں کی تعریف کرتے ہیں اور ان لاکھوں لوگوں میں اس دن ہم بھی شامل تھے۔

ہم دشت مرو میں داخل ہوئے تو ہمارے دائیں بائیں دور دور تک کھیت تھے‘ کھیتوں کے آخر میں درختوں کا گھنا ذخیرہ تھا اور اس کی بغل میں زیگرس کی پہاڑیوں پر پرسی پولس کے آثار ہماری راہ دیکھ رہے تھے‘ پہاڑیوں کے قدموں میں وسیع پارکنگ تھی‘ اس کے ساتھ طویل صحن تھا‘ دائیں جانب ٹکٹ ہال تھا‘ ہم وہاں سے ہو کر صحن میں داخل ہوئے اور چلتے ہوئے پہاڑ تک پہنچ گئے‘ پہاڑ کی دونوں سائیڈز پر سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں‘ سیڑھیوں کے سٹیپس چھوٹے ہیں‘ گائیڈ نے بتایا یہ سٹیپس جان بوجھ کر چھوٹے بنائے گئے تھے تاکہ بادشاہ کے مہمان دھیرے دھیرے اوپر آئیں اور جب ان کا بادشاہ سے سامنا ہوتو ان کی سانس نہ چڑھی ہو‘ ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچے تو سامنے گیٹ آف آل نیشنز تھا۔ یہ دو بلند ستون تھے جن کے اوپر دو منہ کے شیر بنے تھے‘ ستونوں پر نقاشی تھی اور ساتھ ساتھ قدیم زبان میں فرمودات لکھے تھے‘ ستونوں کے اندر دائیں بائیں ہال تھے‘ ان پر کبھی لکڑی کی چھتیں ہوتی تھیں‘ وہ ختم ہو چکی ہیں‘ اب وہاں صرف کھلا آسمان تھا‘ مہمانوں کو وہاں روکا جاتا تھا‘ وہ اپنا لباس اور سانس کنٹرول کرتے تھے اور اس کے بعد چل کر آپا دانا میں داخل ہوتے تھے‘ آپا دانا اور ریسٹ ایریا کے درمیان وسیع کوریڈور تھا جس کی دونوں سائیڈز پر گارڈ رومز‘ مجسمے اور مشعلیں تھیں‘ کوریڈور دائیں جانب مڑتا تھا اور پھر آپا دانا میں داخل ہو جاتا تھا‘ یہ سو ستونوں پر ایستادہ وسیع عمارت تھی‘ اس کی چھتیں اور دیواریں ڈھے چکی ہیں صرف ستون باقی ہیں لیکن یہ بھی عمارت کی شان دکھانے کے لیے کافی ہے‘ آپا دانا کے بعد دوبارہ سیڑھیاں آتی ہیں‘ ان کے دائیں بائیں دیواروں پر اس زمانے کے فرمودات اور نقش ہیں‘ یہ سب پتھروں میں کھود کر بنائے گئے ہیں‘ پتھر کی دیواروں میں جگہ جگہ شیر کو گائے کو پشت سے دباتے ہوئے دکھایا گیا‘ قدیم ایران میں گائے سردی اور برف جب کہ شیر بہار کے موسم کی علامت تھا‘ اس نقش کا یہ مطلب ہے بہار نے موسم سرما کو آگے دھکیل دیا ہے اور اب نوروز کے دن آ چکے ہیں‘

یہ محل کیوں کہ نوروز کے دنوں میں زیادہ استعمال ہوتا تھا چناں چہ اس کی دیواروں پر نوروز کی علامتیں زیادہ ہیں‘ آپا دانا کے بعد چہل مینار آ گیا‘ یہ ٹیرس تھا جس کے چالیس مینار تھے‘ اس سے نیچے کھائی میں سارا دشت مرو نظر آتا ہے‘ چہل مینار کے سامنے اس وقت سورج ڈوب رہا تھا‘ ہمارے سامنے دشت مرو کے دوسرے کنارے پر سورج پہاڑیوں کے پردے میں چھپ رہا تھاجب کہ نیچے دور دور تک دشت پھیلا ہوا تھا‘ اس میں سردیوں کی فصلیں اگی تھیں‘ بائیں جانب درختوں کا وسیع ذخیرہ تھا جب کہ ہم زیگرس کی پہاڑیوں پر پرسی پولس کے ویرانے میں کھڑے تھے‘ یہ سارا ماحول پینٹنگ جیسا تھا‘ ہم نے اس کی تصویریں بنا لیں ( آپ کالم کے آخر میں یہ تصویریں ملاحظہ کر سکتے ہیں) آج سے دو ہزار دو سو 70 برس قبل تک ہر نوروز پر 23ملکوں کے شاہی وفود تحائف لے کر بادشاہ کے حضور حاضر ہوتے تھے اور بادشاہ اس ٹیرس پر کھڑے ہو کر قبولیت کا اذن دیتا تھا‘ سامنے نیچے عوام کھڑے ہو کر تشکر شاہ‘ تشکر شاہ کے نعرے لگاتے تھے‘ لوٹس (کنول) کا پھول اور ہما داریوش اور سائرس کی سلطنت کا شاہی پھول اور پرندہ تھا‘ محلات میں ہر جگہ دیواریں ہیں‘ ستونوں پر کنول اور ہما کھدے ہیں‘ فن کاروں کو جہاں بھی جگہ ملی انہوں نے وہاں ہما بنا دیا یا کنول کا پھول کھود دیا‘ سکندراعظم نے اپنے دشمن داریوش سوم کا مقبرہ بھی یہیں بنوایا تھا‘ اس کا دروازہ پہاڑیوں کے درمیان دکھائی دے رہا تھا لیکن اونچائی زیادہ اور وقت اور توانائی کم ہونے کی وجہ سے ہم وہاں نہیں جا سکے۔

پرسی پولس کے نیچے وہ میدان تھا جہاں اکتوبر1971ء میں ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی نے ایرانی بادشاہت کے اڑھائی ہزار سال کا جشن منایا تھا‘ یہ علاقہ اس وقت ویران ہوتا تھا‘ اسے آباد کرنے کے لیے خزانے کے منہ کھول دیے گئے‘ تہران سے یہاں تک ریلوے لائین بچھائی گئی‘ خیموں کا عارضی شہر آباد کیا گیا اور پھر دنیا بھر کے سربراہوں اور ہیڈ آف سٹیٹس کو دعوت دی گئی‘ جنرل یحییٰ خان اس وقت پاکستان کے صدر تھے‘ یہ شاہ ایران کی خصوصی دعوت پر پرسی پولس پہنچے ‘ مرحوم جنرل صبح شراب پینا شروع کرتے تھے اور رات بے ہوشی تک شغل جاری رکھتے تھے‘ یہ اس دن بھی مدہوش تھے‘ ان کے ساتھ مناکو کی شہزادی گریس کیلی بیٹھی تھی‘ ان کے گورے بازو ننگے تھے‘ جنرل یحییٰ خان کو شک ہوا شہزادی کے بازو اصلی نہیں ہیں‘ ان پر میک اپ کیا گیا ہے‘ صدر پاکستان نے اپنا شک دور کرنے کے لیے شہزادی کے ننگے بازوئوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا‘ یہ دیکھ کر میزبان سمیت تمام مہمانوں کے ماتھے پر پسینہ آ گیا‘ شہزادی نے حیرت سے صدر پاکستان کی طرف دیکھا‘ اٹھی اور صدر کی تیزابی نگاہوں اور سائنسی ہاتھوں سے دور جا کر کھڑی ہو گئی‘ اسی تقریب کے آخر میں جنرل یحییٰ خان کو پیشاب آ گیا‘ انہیں واش روم دور محسوس ہوا‘ انہوں نے سرعام زپ کھولی اور قریب موجود گملے کو سیراب کر دیا‘ یہ منظر دیکھ کر تمام مہمانوں کی نظریں جھک گئیں اور پاکستان کی تاریخ نے منہ چھپا لیا‘ پرسی پولس کی فضا میں ہمارے صدر کے پیشاب کی بو ابھی تک موجود ہے‘ ہمارے مانسہرہ کے ساتھی حاجی الیاس نے پوچھا ’’جنرل یحییٰ نے یہاں کس جگہ پیشاب کیا تھا؟‘‘ میں نے نیچے درختوں کے ذخیرے کی طرف اشارہ کر دیا‘ حاجی صاحب نے قہقہہ لگا کر پوچھا ’’کیا یہ سارے درخت جنرل یحییٰ خان کے پیشاب سے پیدا ہوئے ہیں؟‘‘ ہم سب نے بلند آواز میں قہقہہ لگایا‘ ہم بے بس لوگ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے تھے‘ ہم نے ملک توڑنے اور یہ حرکتیں کرنے والے یحییٰ خان کو بھی پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا تھا ‘ جب احساس زیاں ہی نہ ہو تو پھر قہقہوں کے علاوہ کیا آپشن بچتا ہے؟۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…