بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں طالبان کا قبضہ ہے،مولانا فضل الرحمان

datetime 22  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں طالبان کا قبضہ ہے، زندہ رہنے کیلئے طالبان کو بھتہ دینا ضروری ہے ،ہم نے کئی سیاہ دن دیکھے ہیں، 8 فروری یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے،ہمیں ان قانون سازیوں کو واپس لینا ہوگا، 27 ویں ترمیم میں جو استثنیٰ دی گئی ہیں وہ واپس کرنا ہوں گی، ہمارا گھر اور بچے بھی علاقے میں محفوظ نہیں،اطمینان ہے کہ پاکستان کا دفاع طاقتور ہے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں زندہ رہنے کے لیے طالبان کو بھتہ دینا ضروری ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام سرکاری افسران انہیں بھتہ دیتے ہیں، ہم یہاں جو بجٹ پاس کرتے ہیں ان کا 10 فیصد حصہ رکھ کر پاس کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی سیاہ دن دیکھے ہیں، 8 فروری یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے، پاکستان کے ساتھ بہت ظلم کیے گئے ہیں مگر 8 فروری کو انتہا کر دی گئی۔انہوںنے کہاکہ ہمیں ان قانون سازیوں کو واپس لینا ہوگا، 27 ویں ترمیم میں جو استثنیٰ دی گئی ہیں وہ واپس کرنا ہوں گی، ہمارا گھر اور بچے بھی علاقے میں محفوظ نہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری پالیسیاں بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، کبھی ہم نے اپنی خارجہ پالیسی اپنے مفاد کی خاطر نہیں بنائی، بانی پاکستان نے اسرائیل کے قیام سے متعلق دو تاریخی اقدامات کیے، 1940 کی قرارداد تاسیس پاکستان کی قرارداد کے تحت ہے، 1948 میں جب اسرائیل وجود میں آیا تو اسے بانی پاکستان نے ناجائز قرار دیا۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے کبھی سوچا ہے کہ بانی پاکستان کے فرمودات پر؟ ان پر عمل پیرا دور کی بات ہے، یہ ایوان منتخب ایوان نہیں مگر پھر بھی کبھی اس ایوان کو اعتماد میں لیا؟حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائے کہ کیا فیصلے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے، چلیں مت لیں مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟ جب شملہ معاہدہ بھٹو کرنے جارہے تھے تو بھرے ایوان کو اعتماد میں لیا گیا، مشاورت اور مفاہمت کی روش اپنائیں تو بہت سارے الجھے مسائل سے نکل سکتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، محمود اچکزئی ایک طویل سیاسی تجربہ رکھتے ہیں، جو امور محمود اچکزئی نے بتائے غور کریں تو خوشحال مستقبل دکھا سکتے ہیں،مسائل بہت ہیں کہاں سے آغاز کیا جائے یہ ایک مشکل مرحلہ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…