جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں طالبان کا قبضہ ہے،مولانا فضل الرحمان

datetime 22  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں طالبان کا قبضہ ہے، زندہ رہنے کیلئے طالبان کو بھتہ دینا ضروری ہے ،ہم نے کئی سیاہ دن دیکھے ہیں، 8 فروری یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے،ہمیں ان قانون سازیوں کو واپس لینا ہوگا، 27 ویں ترمیم میں جو استثنیٰ دی گئی ہیں وہ واپس کرنا ہوں گی، ہمارا گھر اور بچے بھی علاقے میں محفوظ نہیں،اطمینان ہے کہ پاکستان کا دفاع طاقتور ہے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں زندہ رہنے کے لیے طالبان کو بھتہ دینا ضروری ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام سرکاری افسران انہیں بھتہ دیتے ہیں، ہم یہاں جو بجٹ پاس کرتے ہیں ان کا 10 فیصد حصہ رکھ کر پاس کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی سیاہ دن دیکھے ہیں، 8 فروری یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے، پاکستان کے ساتھ بہت ظلم کیے گئے ہیں مگر 8 فروری کو انتہا کر دی گئی۔انہوںنے کہاکہ ہمیں ان قانون سازیوں کو واپس لینا ہوگا، 27 ویں ترمیم میں جو استثنیٰ دی گئی ہیں وہ واپس کرنا ہوں گی، ہمارا گھر اور بچے بھی علاقے میں محفوظ نہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری پالیسیاں بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، کبھی ہم نے اپنی خارجہ پالیسی اپنے مفاد کی خاطر نہیں بنائی، بانی پاکستان نے اسرائیل کے قیام سے متعلق دو تاریخی اقدامات کیے، 1940 کی قرارداد تاسیس پاکستان کی قرارداد کے تحت ہے، 1948 میں جب اسرائیل وجود میں آیا تو اسے بانی پاکستان نے ناجائز قرار دیا۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے کبھی سوچا ہے کہ بانی پاکستان کے فرمودات پر؟ ان پر عمل پیرا دور کی بات ہے، یہ ایوان منتخب ایوان نہیں مگر پھر بھی کبھی اس ایوان کو اعتماد میں لیا؟حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائے کہ کیا فیصلے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے، چلیں مت لیں مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟ جب شملہ معاہدہ بھٹو کرنے جارہے تھے تو بھرے ایوان کو اعتماد میں لیا گیا، مشاورت اور مفاہمت کی روش اپنائیں تو بہت سارے الجھے مسائل سے نکل سکتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، محمود اچکزئی ایک طویل سیاسی تجربہ رکھتے ہیں، جو امور محمود اچکزئی نے بتائے غور کریں تو خوشحال مستقبل دکھا سکتے ہیں،مسائل بہت ہیں کہاں سے آغاز کیا جائے یہ ایک مشکل مرحلہ رہا ہے۔



کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…