منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پنجاب،تعلیمی کیلنڈر میں بڑی تبدیلی کی تیاری، گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کی سفارش

datetime 23  جنوری‬‮  2026 |
Summer Vacations in Punjab

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی نے پنجاب بھر کے اسکولوں اور کالجوں میں یکساں تعلیمی شیڈول نافذ کرنے کی تجویز دے دی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت تمام تعلیمی اداروں کو ہر سال کم از کم 190 تدریسی دن مکمل کرنا لازم ہوگا۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں گرمیوں کی تعطیلات میں نمایاں کمی کی سفارش بھی شامل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ تقریباً ڈھائی ماہ کی موسمِ گرما کی چھٹیوں کو کم کرکے چھ ہفتوں تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمیٹی نے چار ماہ کے دوران تین اجلاس منعقد کیے، جبکہ تیسرے اجلاس میں سفارشات کو حتمی شکل دی گئی۔حتمی اجلاس لاہور میں ہوا جس کی صدارت سیکریٹری اسکول ایجوکیشن نے کی، جب کہ خصوصی سیکریٹری اسکول ایجوکیشن محمد اقبال نے اجلاس کی نگرانی کی۔

رپورٹ کے مطابق نئے تعلیمی کیلنڈر کے تحت سال بھر میں مجموعی تعطیلات 175 دن ہوں گی، جبکہ تدریسی دنوں کی تعداد 190 رکھی جائے گی۔کمیٹی کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں تعطیلات میں غیر معمولی اضافے نے تعلیمی نظام کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں خاص طور پر اعلیٰ کلاسز میں نصاب بروقت مکمل نہیں ہو پاتا اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں نے بھی ان تجاویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکساں اور متوازن تعلیمی کیلنڈر سے تعلیمی معیار بہتر ہوگا اور طلبہ کو نصاب مکمل کرنے میں سہولت ملے گی۔

سفارشات سامنے آنے کے بعد پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے خصوصی سیکریٹری محمد اقبال نے پنجاب ایجوکیشن کریکولم اینڈ ٹیسٹنگ اتھارٹی (PECTA) اور ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن (ایلیمنٹری و سیکنڈری) کو ہدایت دی ہے کہ تین دن کے اندر یکساں تعلیمی کیلنڈر تیار کیا جائے۔یاد رہے کہ جسٹس جواد حسن نے تعلیمی اداروں میں تعطیلات کے غیر معمولی اضافے کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران اس کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیا تھا۔ امکان ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ آئندہ سماعت میں عدالت میں پیش کی جائے گی، جس کے بعد تعلیمی کیلنڈر سے متعلق حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…