جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

رومیو جولیٹ کے شہر میں

datetime 14  مئی‬‮  2015 |

دوسرا کمرہ پہلے کمرے کی دائیں جانب تھا‘ کمروں کوسرنگ ملاتی تھی‘ سرنگ کے سرے پر لوہے کی زنجیر تھی‘ زنجیر کے بعدمیلے رنگ کے رف سے سنگ مر مر کا ٹب تھا‘ میں نے مقبرے کی نگران سے پوچھا ” کیا یہ جولیٹ کا مقبرہ ہے“ خاتون نے تصدیق میں سر ہلایا اور میں جولیٹ کے احترام میں خاموش کھڑا ہو گیا‘ یہ ٹب نما قبر تھی‘ سنگ مر مر کا ٹب زمین سے چار فٹ اونچا تھا‘ ٹب کا اوپر کا حصہ کھلا تھا‘ کھلے حصے میں شاید ماضی میں مٹی ہو اور اس مٹی میں گھاس اور پھول اگائے جاتے ہوں لیکن اس وقت وہاں کچھ نہیں تھا‘ تہہ خانے میں ہلکی ہلکی سی خنکی تھی‘خنکی میں جولیٹ کے آنسوﺅں کی نمی آج تک موجود تھی‘ وقت کے خشک آٹھ سو سال بھی یہ نمی نہ بجھا سکے‘ مقبرہ آج بھی محبت کی عظیم داستان کی گواہی دے رہا تھا‘جولیٹ نے آنکھ کھولی تو رومیو اس کی پائنتی پر سر رکھ کر دنیا سے گزر چکا تھا‘ کاﺅنٹ پیرس کی لاش بھی ذرا سے فاصلے پر پڑی تھی‘ اس نے رومیو کے چہرے کو چھو کر دیکھا‘ پھر حسرت سے کمرے کو دیکھا‘ خنجر اٹھایا اور اپنے سینے میں اتار لیا‘ سینہ پہلے سے چھلنی تھا بس خون نکلنا باقی تھا‘ خون اچھل کر باہر نکلا اور فرش پر وہ داستان رقم ہو گئی جو آٹھ سو سال سے دنیا بھر کے عاشقوں کا نوحہ‘ محبت کے ماروں کا ماتم ہے‘ یہ داستان ورونہ سے نکلی‘ انگلینڈ پہنچی‘ شیکسپیئر کے دامن سے لپٹی اور لفظوں کے جادوگر ولیم شیکسپیئر نے اسے ہمیشہ کےلئے امر کر دیا‘ یہ داستان شیکسپیئر تک کیسے پہنچی اور شیکسپیئر نے اٹلی کے گم نام شہر ورونہ کی اس معمولی لڑکی کو محبت کی دیوی کیسے بنایا‘ ہم اس داستان سے پہلے جولیٹ کو تلاش کریں گے۔
جولیٹ ورونہ شہر کے رئیس خاندان کیپولیٹ فیملی کی خوبصورت لڑکی تھی‘ ورونہ اٹلی کا چھوٹا سا خوبصورت شہر ہے‘ یہ شہر میلان سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے‘ ورونہ سرخ سنگ مر مر اور رومیو جولیٹ کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ سنگ مر مر شہر کی مناسبت سے ”ورونہ ماربل“ کہلاتا ہے جبکہ رہ گئے رومیو اور جولیٹ تو کہانی کچھ یوں ہے‘ بارہویں صدی میں شہر میں دو بڑے خاندان رہتے تھے‘ مانتنگ فیملی اور کیپولیٹ فیملی۔ یہ دونوں خاندان ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے‘ جولیٹ کا تعلق کیپولیٹ خاندان سے تھا اور رومیو مانتنگ خاندان سے تعلق رکھتا تھا‘ کیپولیٹ خاندان نے ایک رات حویلی میں رقص کا اہتمام کیا‘ رومیو بھیس بدل کر دشمن کی تقریب میں شریک ہو گیا‘ رقص کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور یوں وہ ہو گیا جس پر آج تک سینکڑوں ناول‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…