پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

datetime 31  مارچ‬‮  2026
پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی محبت ہے جسے انسان مرنے تک بھول نہیں سکتا‘ مجھے متعدد مرتبہ ایران جانے کا اتفاق ہوا‘ آخری وزٹ دسمبر میں ہوئی‘ اس میں میرے گروپ کے لوگ بھی شامل تھے‘ وہ سب بھی ایران کی محبت میں گرفتار ہو چکے ہیں‘ یہ ملک تاریخ‘ تہذیب اور کلچر کا شان دار مجموعہ ہے‘ لاہور کے بارے میں کہا جاتا ہے جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا نہیں ہوا جب کہ ایران کے بارے میں بلا سوچے سمجھے یہ کہا جا سکتا ہے آپ نے اگر ایران نہیں دیکھا تو پھر آپ کو پیدا ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا‘ میں نے ایران کو ایسے حال میں دیکھا جس میں سڑکیں کھلی تھیں اور مارکیٹیں‘ کافی شاپس اور ریستوران آباد تھے لیکن پھر جنگ شروع ہوئی اور ایران میں 90 ہزار عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں‘ کل رات تہران کے مغربی حصے میں بلیک آئوٹ بھی ہو گیا‘ ایران سے جو تصویریں آ رہی ہیں انہیں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہم نے جنگ سے قبل ایران کے سفر کی روداد لکھنی شروع کی تھی‘ جنگ کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا تھا لیکن میں اب چاہتا ہوں آپ ایران کے بارے میں گہرائی سے جانیں تاکہ آپ موجودہ صورت حال کو بہتر انداز سے سمجھ سکیں چناںچہ ہم آج سے یہ ٹوٹا ہوا سلسلہ دوبارہ شروع کر رہے ہیں‘ آپ ایران کی تازہ ترین صورت حال جاننے کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل نیوٹرل بائی جاوید چودھری دیکھ سکتے ہیں‘ ہم روز اس پر تین وی لاگ کرتے ہیں جب کہ ہم اصل ایران ان کالموں میں پڑھیں گے لہٰذا بسم اللہ کریں۔ شیراز میں ایک دن ہماری اگلی منزل سعدی اور حافظ کا شیراز تھا‘ اصفہان اور شیراز کے درمیان پانچ گھنٹے کا فاصلہ ہے‘ راستہ ویران اور بے آب و گیاہ ہے لیکن اس کے آخر میں وہ شیراز آ جاتا ہے جس کے بارے میں حافظ نے کہا تھا ’’اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل مارا۔۔۔بخال‘ ہندوش نجشم سمر قندوبخارا‘‘ یعنی میں اپنے شیرازی محبوب کے گال کے سیاہ تل پر سمر قند اور بخارا دونوں شہر خیرات کر دوں‘ اس شعر نے امیر تیمور کو شیراز آنے اور حافظ شیرازی کو طلب کرنے پر مجبور کر دیا ‘ امیر تیمورشیراز آیا‘ شہر فتح کیا‘ حافظ کو بلایا اور اسے دیکھتے ہی کہا ’’اوبدبخت انسان میں نے فیصلہ کیا تھا میں کسی عالم‘ ادیب اور
شاعر کو قتل نہیں کروں گا‘ میں نے اگر یہ وعدہ نہ کیا ہوتا تو تم اب تک میری تلوار کا رزق بن چکے ہوتے‘ تم اس قدر گستاخ ہو کہ میں نے سمرقند اور بخارا کو دنیا کے عظیم شہر بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیے اور تم انہیں اپنے معشوق کے گال کے تل پر بانٹتے پھر رہے ہو‘‘ یہ سن کر لرزتے کانپتے شاعر نے دربار میں اپنا گائون اتار دیا‘ نیچے اس نے پھٹا ہوا کرتا پہن رکھا تھا‘ اس نے کرتے کے پیوند دکھا کر عرض کیا ’’حضور اس فیاضی کی وجہ سے تو ہمارا یہ حال ہو گیا ہے‘‘ تیمور یہ سن کر ہنس پڑا اور اس کے بعد تیمور کی فیاضی کی بدولت حافظ شیرازی نے باقی زندگی بڑی زبردست گزاری‘تیمور نے اسے شیراز کی سب سے خوب صورت کنیز بھی دے دی جس نے اسے دنیا میں جنت کی سیر کرا دی لہٰذا وہ آخر وقت تک امیر تیمور کا شکر گزار رہا۔ حافظ کا اصل نام محمد اور لقب شمس الدین تھا‘ وہ بچپن میں یتیم ہو گیا اور نان بائی کی دکان پر آٹا گوندھنے لگا‘ خوش قسمتی سے تنور کے ساتھ مدرسہ تھا‘ وہ کام سے فراغت کے بعد مدرسے میں چلا جاتا تھا‘ اس نے وہاں سے قرآن مجید حفظ کیا‘ اسے نان بائی سے جو معاوضہ ملتا تھا ‘ فیاض طبیعت کا مالک تھا‘ وہ معاوضے کا ایک حصہ والدہ‘ دوسرا استاداور تیسرا خیرات کر دیتا تھا‘ محلے میں کپڑوں کا ایک سوداگر رہتاتھا‘ وہ شاعر تھا‘ حافظ نے اس سے شاعری سیکھ لی اور تک بندی شروع کر دی‘ اس کے شعر بہت واہیات اور بے وزن ہوتے تھے لیکن لوگوں نے اسے بطور مزاح سننا شروع کر دیا‘ لوگ اس سے شعر سنتے تھے اور اس کا ٹھٹھا اڑاتے تھے جس سے اسے بہت تکلیف ہوتی تھی لیکن وہ اس کے باوجود شعر کہتا رہتا تھا پھر ایک واقعہ پیش آیا اور اس نے محمد شمس الدین کو حافظ شیرازی بنا دیا۔ حافظ کے محلے میں ’’شاخ بنات‘‘ نام کی ایک طوائف آئی اور حافظ شیرازی اسے اپنا دل دے بیٹھا‘ وہ بالائی طبقے کی طوائف تھی جب کہ حافظ انتہائی غریب اور نالائق شاعر تھا لہٰذا طوائف بھی مذاق اڑانے والوں میں شامل ہو گئی‘وہ بھی روز اس کا ٹھٹھہ اڑاتی تھی‘ حافظ یہ بے عزتی برداشت نہ کر سکا اور اٹھ کر شیراز کے مضافات میں کسی درگاہ پر بیٹھ گیا‘ وہاں ایک درویش نے اسے چلہ سکھا دیا اور وہ اس لمبے چلے میں غرق ہو گیا‘ چلہ کشی کے دوران ایک رات حضرت علیؓ اس کے خواب میں آئے‘اسے اپنے ہاتھ سے چند لقمے کھلائے اورپھر کہا ’’جا بیٹا تم پر تمام ظاہری اور باطنی علوم کے دروازے کھل گئے‘‘ اگلی صبح آئی اور حافظ شیرازی دنیا کے عظیم شاعر بن چکے تھے‘ انہوں نے پہلی غزل لکھی اور شہر واپس آگئے‘ لوگوں نے حسب دستور مذاق میں کلام سنانے کی فرمائش کی‘ حافظ نے غزل سنائی اور اہل شہر نے اسے ان کا کلام ماننے سے انکار کر دیا‘ اس کے بعد شرط لگ گئی‘ لوگ انہیں طرح دیتے تھے اور وہ کھڑے کھڑے شعر کہہ دیتے تھے‘ اس کے بعد پورا شیراز ان کے قدموں میں بیٹھ گیا‘ حافظ پوری زندگی اس شاخ بنات کے شکرگزار رہے جس سے محبت اور بدلے میں بے عزتی نے انہیں شاعر بنا دیا‘ حافظ کا کلام الہامی سمجھا جاتا ہے‘ یہ روح‘ محبت اور ایمان کے باریک سے باریک نقطے چلتے پھرتے کھول دیتے ہیں‘ ان کے دیوان کو آج بھی الہامی سمجھا جاتا ہے اور لوگ اس سے فال نکالتے ہیں‘ ان کی شہرت ان کی زندگی ہی میں سنٹرل ایشیا اور ہندوستان تک پھیل گئی اور راجوں مہاراجوں نے ان کے وظیفے لگا دیے‘ امیر تیمور چل کر دو مرتبہ ان سے ملاقات کے لیے آیا‘حافظ پوری زندگی شیراز میں رہے‘ شہر سے کبھی باہر نہیں گئے‘بے انتہا فیاض تھے جو کچھ ملتا تھا لوگوں میں تقسیم کر دیتے تھے‘ شیراز کی حسینائوں کے دیوانے تھے‘ سارا سارا دن ان کی تعریف کرتے رہتے تھے‘ ان کا زیادہ وقت سیرگاہ مصلیٰ میں گزرتا تھا‘ان کی شاعری میں بھی اس کا بار بار ذکر ہے‘1390ء میں ان کا انتقال ہوا تو اہل شہر نے انہیں سیر گاہ مصلیٰ میں دفن کر دیا‘ وہ ماضی میں ایک وسیع باغ ہوتا تھا مگر یہ اب صرف حافظ کا مدفن بن چکا ہے‘ اہل ایران اسے خاک مصلیٰ کہتے ہیں‘ پوری دنیا میں مزارات اور روضوں پر ہاتھ اٹھا کر دعا کی جاتی ہے لیکن حافظ شیرازی کی قبر پر لوگ شہادت کی انگلی رکھ کر دعا کرتے ہیں اور ان کی دعائیں قبول بھی ہو جاتی ہیں۔ مزارکی عمارت وسیع ہے‘اسے فرنچ آرکی ٹیکٹ آندرے گوڈارڈنے 1935ء میں ڈیزائن کیا تھا‘ قبر دور سے بارہ دری محسوس ہوتی ہے‘ میں جب وہاں گیا تولوگ حافظ کے سرہانے کھڑے ہو کر اس کادیوان پڑھ رہے تھے‘ گائیڈ لوگوں کو حافظ کے بارے لیکچر دے رہے تھے جب کہ احاطے کے باہر فال نکالنے والے کھڑے تھے‘وہاں طوطا فال بھی تھی‘ طوطے نوٹ لے کر لوگوں کے مقدر کا کارڈ نکالتے تھے‘کارڈ پر حافظ کا کوئی شعر لکھا ہوتا تھا‘ طوطے کا مالک پڑھ کر سائل کو اچھے وقت کی نوید دیتا تھا‘ مزار پر خواتین کا جمگھٹا تھاشاید قدرت حافظ شیرازی کو انتقال کے بعد بھی ماہ رخوں کی کمپنی میں رکھنا چاہتی ہے‘ مزار پر کیمروں کے سٹینڈ اور ٹرائی پوڈ منع تھے‘ میں نے وجہ پوچھی تو مجھے بتایا گیا نوجوان لڑکیاں مزار پر حافظ کی غزلوں کے ساتھ لائیو ڈانس کرتی ہیں چناں چہ انتظامیہ نے بانسری سے بچنے کے لیے بانس پر ہی پابندی لگا دی۔ ہم چند لمحے حافظ کی سیر گاہ مصلیٰ میں گزار کر باہر آ گئے‘ ہماری اگلی منزل سعدی شیرازی کا مزار تھا‘ سعدی شیرازی کا اصل نام مشرف الدین تھا‘ یہ بچپن میں یتیم ہو گئے تھے جس کے بعد شیراز کے ایک متمول شخص سعد بن زنگی نے ان کی پرورش کا ذمہ اٹھا لیا‘ سعدی نے اس کا یہ احسان اپنے آپ کو سعدی ڈکلیئر کر کے اتارا لہٰذا یہ اپنے محسن کی وجہ سے مشرف الدین سے سعدی شیرازی ہو گئے‘ سعدی نے اپنی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کیا‘ پہلے 30سال جی بھر کر تعلیم حاصل کی‘ شیراز سے بغداد تک کوئی بڑی درس گاہ نہیں چھوڑی‘ تعلیم کے بعد 30 سال جی بھر کر سیاحت کی‘ یہ سعودی عرب‘ خراسان‘ ترکی‘ بصرہ‘ کوفہ اور ازبکستان گئے‘ فلسطین میں انہیں عیسائیوں نے پکڑ کر غلام بنا لیا‘جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو یہ وہاں موجود تھے ‘یہ جنگ اور امن ہر قسم کی صورت حال کا شکار رہے‘ ہندوستان میںسومنات کے مندر میںان سے ایک پنڈت قتل ہو گیا‘یہ بڑی مشکل سے پنڈت کے قصاص سے بچے اور آخر میں انہوں نے حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے ساتھ حج کی سعادت بھی حاصل کی‘ وہ متنوع شخصیت کے مالک تھے‘ بیک وقت حسن پرست‘ پرہیز گار‘ شرابی‘ واعظ اور عابد شب زندہ دارلہٰذا آپ کے بارے میں یہ فیصلہ مشکل ہے آپ نیک تھے یا بد تاہم آپ سعدی شیرازی تھے‘ سعدی نے سیاحت کے دوران سینکڑوں اہم اور غیراہم لوگوں سے ملاقات کی‘ شہزادوں کے دستر خوانوں پر بھی بیٹھے اور رندوں کی محفل میں بھی لڑھکتے رہے‘ ہزاروں تباہ حال بستیاں دیکھیں ‘سونے چاندی کے محلوں میں رہے‘ درویشوں کی محفلیں بھی نصیب ہوئیں اور ڈاکوئوں کے گھوڑے بھی پالے غرض سعدی نے سیاحت کے 30برسوں میں زندگی کا ہر رنگ دیکھا اورآخر میں انہوں نے آخری تیس سال لکھنے‘ پڑھنے اور درویشی میں گزار دیے‘ ہلاکو کا وزیر خواجہ شمس الدین ان کا فین تھا‘ اس نے انہیں بوریوں کے حساب سے سونے کے سکے بھجوائے‘ سعدی نے اس رقم سے شہر سے باہر زمین خریدی‘ اس میں وسیع باغ اور بڑی رہائش گاہ بنائی اور اسے عوام کے لیے عام کر دیا‘ سعدی کے باغ سے نہر گزرتی تھی‘ اس دور میں لوگوں کو کپڑے دھونے کی بہت دقت تھی‘ سعدی نے اپنے باغ میں کپڑے دھونے کے گھاٹ بنا دیے جس کے بعد پورا شہر وہاں کپڑے دھونے آتا تھا‘ سعدی کی دو کتابوں گلستان اور بوستان نے عالمی درجہ حاصل کیا‘ یہ دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں ترجمہ ہوئیں‘ یہ دونوں ہندوستان میں چھ سو سال تک نصاب رہیں‘ میں نے بھی بچپن میں یہ دونوں پڑھی تھیں‘ سعدی شاعر بھی تھا لہٰذا یہ اپنے ہر سبق کا آغاز کسی نہ کسی واقعے سے کرتا تھا اور آخر میں شعر کی شکل میں ’’لیسن آف دی سٹوری‘‘ دیتا تھا‘ اس کا کلام اس قدر پراثر تھا کہ امیر تیمورسعدی کی دو لائنیں پڑھ کر امیر تیمور بن گیا‘سعدی نے لکھا تھا انسان کو زندگی میں بے تحاشا پیسہ اور بے انتہا علم حاصل کرنا چاہیے تاکہ عالم لوگ اس کے پاس بیٹھ کر بے عزتی محسوس نہ کریں اور دولت مند اس کی طرف حقارت سے نہ دیکھیں‘ امیر تیمور نے یہ حکایت پڑھی اور اس کے بعد بے انتہا کشور کشائی کی‘ دولت کے انبار لگائے اور ساتھ ساتھ بے تحاشا علم حاصل کیا‘ سعدی شیرازی کی محبت میں اس نے شیراز فتح کیا اور پورے شہر کواس کی وجہ سے امان دے دی‘ وہ آخر میں جب مزار پر آیا توقبر کی ویرانی قبر اور باغ کی حالت دیکھ کر اداس ہو گیا‘ تیمور نے باغ اور مزار دونوں دوبارہ تعمیر کرائے‘ میں 2024ء میں پہلی مرتبہ جب سعدی کے مزار پرآیا تو اس وقت اس کی رینوویشن چل رہی تھی چناں چہ میں اس کی قبر کی زیارت نہیں کر سکا لیکن دسمبر 2025ء میں دوسرے وزٹ پر روضے پر حاضری کا اتفاق بھی ہوا اور دعا بھی کی‘ سعدی کا مزار واقعی خوب صورت اور دل پر اثر کرتا ہے‘ سعدی کی ندی اب ایک چھوٹی سی نالی بن چکی ہے‘ وہ بھی اس دن خشک تھی تاہم صحن میں دسمبر میں بھی پھول کھلے تھے اور دھوپ اچھی لگ رہی تھی‘ روضے کی دیواروں پر نیلی ٹائلوں پر اس کے شعر لکھے تھے‘ لوگ وہ پڑھ رہے تھے اور سردھن رہے تھے۔ ہم اس کے بعد بازار وکیل چلے گئے‘ یہ دیکھنے لائق ہے‘ یہ شیراز کے حکمران کریم خان زند سے منسوب ہے‘ وہ انسان دوست اور عوام سے محبت کرنے والا حکمران تھا‘ لوگ اسے وکیل رعایاکہتے تھے چناں چہ عوام نے شہر کے مرکزی علاقے کو بازار وکیل اور زندیہ کا نام دے دیا‘زندیہ بڑا چوک ہے جس کے دائیں بائیں دکانیں‘ ریستوران اور کافی شاپس ہیں‘ شیراز کا کورڈ بازار بھی زندیہ میں ہے‘ پورا شہر شام کے وقت یہاں جمع ہوجاتا ہے‘ سیاح بھی آتے ہیں اور کافی اور چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں‘ شیراز کے لوگ بالخصوص خواتین بہت خوب صورت ہیں‘ ان کے نین نقش‘ اٹھنے بیٹھنے کے طریقے اور طرز تکلم میں حافظ اور سعدی کے شعروں کی مٹھاس ہے‘ حافظ شیرازکی خواتین کے ہونٹوں کو گلاب کی پنکھڑی کہتا تھا‘ وہ غلط نہیں کہتا تھا‘ شیرازی خواتین کا سراپا واقعی سعدی اور حافظ کی شرح ہے‘ یہ لوگ تہذیب میں بھی بہت آگے ہیں‘نہایت شائستگی سے گفتگو کرتے ہیں اور خندہ پیشانی سے لوگوں کو رخصت کرتے ہیں‘ ہم دیر تک بازار وکیل میں پھرتے رہے‘ ہم کورڈ بازار بھی گئے‘ شیراز میں خواتین حجاب کی زیادہ پابندی نہیں کرتیں بالخصوص نوجوان لڑکیاں جینز اور شرٹس میں نظر آتی ہیں اور ان کے بال بھی کھلے ہوتے ہیں‘ اولڈ سٹی میں درجنوں بوتیک ہوٹلز‘ ریستوران اور کیفے ہیں‘ یہ سب پرانی عمارتوں میں بنے ہیں‘ ان میں انار کے درخت ‘ انگور کی بیلیں اور فوارے ہیں‘ہم نے دو دن بوتیک ریستورانوں میں کھانا کھایا‘ اصفہان اور کاشان کی طرح شیراز کے گھر بھی باہر سے سادہ لیکن اندر سے محل نما ہوتے ہیں‘شیرازی نوجوانوں میں نشے کا رجحان بڑھ رہا ہے‘ یہ ’’گل‘‘ نام کی بوٹی حقے میں ڈال کر پیتے ہیں‘ ہمیں شیراز کی گلیوں میں نشئی بھی دکھائی دیے‘ شیرازی کھانوں کا اپنا ہی ذائقہ ہے‘ یہ زعفرانی حلوہ(حلوائی بہار نارنج) بناتے ہیں‘یہ بہت مزے دار ہوتا ہے‘آپ کئی دنوں تک منہ میں اس کا ذائقہ محسوس کرتے رہتے ہیں‘ میں شوگر کے باوجود یہ حلوہ کھا گیا ‘ میرے حلق میں آج تک اس کا ذائقہ موجود ہے‘ یہ ’’غم برپلا‘‘ کے نام سے ایک ڈش بناتے ہیں‘ ان کا دعویٰ ہے یہ کھانا دکھی لوگوں کا غم دور کر دیتا ہے‘ میں نے یہ دو مرتبہ ٹرائی کیا مگر بدقسمتی سے میرے غم میں کوئی خاص کمی واقع نہیں ہوئی‘ شاید اس میں میرا ہی قصور ہو گا‘ ہم دوسرے دن کریم خان زند کے محل گئے‘ محل میں مالٹے کے درخت‘ فوارے اور بارہ دریاں تھیں‘ محل بڑا تھا مگر زیادہ شاہانہ نہیں تھا‘ایران کے محلات زیادہ’’ امپریسو ‘‘نہیں ہیں‘جو ثابت کرتا ہے ایران کے شاہی خاندانوں میں ہر دور میں سادگی رہی۔ شیرازکی ایک اور قابل دید جگہ ’’قرآن گیٹ ‘‘ ہے‘ یہ پرانے زمانے میں شہر میں داخلے کا راستہ ہوتا تھا‘ اس میں قرآن مجید کا نسخہ رکھا ہوا تھا‘ شہر میں داخل ہونے والا ہر شخص قرآن کے سائے سے گزرتا تھا‘ امیر تیمور نے بھی اپنی بائیوگرافی میں اس کا ذکر کیا‘ یہ گیٹ آج بھی موجود ہے اور لوگ دن میں کم از کم ایک بار اس کے نیچے سے ضرور گزرتے ہیں‘ ہمیں شہر میں ایک خوب صورت پرائیویٹ مسجد دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا‘ یہ مسجد نصیر نظام نامی امیر شخص نے بنوائی تھی‘عمارت کی چار سائیڈز پر برآمدے اور ہال تھے جب کہ درمیان میں بڑا سا صحن اور تالاب تھا‘ دائیں ہال کی کھڑکیوں پر سرخ رنگ کے شیشے لگے تھے‘ صبح گیارہ بجے تک کھڑکیوں سے روشنی اندر داخل ہوتی تھی اور ہال سرخ رنگ سے بھر جاتا تھا‘ سیاح شیراز میں اس مسجد کی زیارت ضرور کرتے ہیں‘ ہم بھی گئے اور ہم دیر تک عش عش کرتے رہے‘میں نے شیراز سے نکلتے ہوئے محسوس کیا اصفہان اگرنصف جہان تھا تو شیراز کل جہان تھا‘ اس میں وہ سب کچھ تھا جسے سب کچھ کہا جاتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…