چودھری عبدالستار ایدھی

  پیر‬‮ 16 جون‬‮ 2014  |  21:59

جنوری 2008ء میں لندن اور نیویارک میں دو چھوٹے چھوٹے واقعات پیش آئے لیکن ان واقعات پر حکومتی ردعمل نے پاکستان کے ہر سوچنے اور سمجھنے والے شہری کی فکرمندی میں اضافہ کر دیا۔ پہلا واقعہ 22جنوری 2008ء کو پیش آیاتھا‘ مسلم لیگ ق کے صدر اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کے بھائی چودھری وجاہت حسین اس دن بارسلونا سے لندن آئے تھے‘چودھری وجاہت حسین کے ساتھ چودھری شجاعت کے صاحبزادے شافع حسین اور چار دوست بھی سفرکر رہے تھے۔ ان دوستوں میں ساجد شاہ‘ سجاد ڈوگا‘ ملک ارشد اور چودھری سعادت نواز شامل تھے‘ یہ لوگ جب بارسلونا سے لندن کیلئے روانہ ہوئے تو سپین کی حکومت کو ان کے بارے میں کوئی غلط فہمی پیدا ہو گئی چنانچہ سپین کی خفیہ ایجنسیوں نے لندن پولیس کو ان


حضرات کی تلاشی لینے کی ہدایت کر دی‘ یہ لوگ جب لندن کے ’’گیٹ وک‘‘ ائرپورٹ پر اترے تو اس وقت تک پولیس ائر پورٹ کاکنٹرول سنبھال چکی تھی‘ پولیس نے ان لوگوں کو جہاز کے اندرہی سے حراست میں لے لیا اور انہیں تفتیشی سنٹر لے گئے‘ اس دوران چودھری وجاہت اور ان کے دوستوں سے موبائل فون لے لئے گئے جس کے بعد یہ چھ حضرات 24گھنٹے تک برطانوی پولیس کے زیر تفتیش رہے اور جب پولیس کو ان کی بے گناہی کا یقین ہو گیا تو ان حضرات کو ہیتھرو ائر پورٹ کے ذریعے پاکستان بھجوا دیا گیا۔ یہ واقعہ حقیقتاً افسوسناک تھا ‘ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کے خاندان کے ساتھ برطانوی حکومت کا یہ رویہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں تھا اور حکومت کو اس پر شدید احتجاج کرنا چاہئے تھا۔ پاکستان کی حکومت اور دفتر خارجہ نے احساس ذمہ داری کا ثبوت دیا‘اور نہ صرف لندن میں موجود پاکستانی سفارتخانے نے برطانوی حکومت اور دولت مشترکہ کو خط لکھا بلکہ ہماری وزارت خارجہ نے برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ بلوایا اور اس کے سامنے اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔ برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنرنے ہمارے دفتر خارجہ میں برطانوی حکومت کی طرف سے معافی مانگی اور بتایا ’’ہمارے ہائی کمیشن کا ایک سینئرکارکن چودھری شجاعت حسین کے گھر جا کر بھی معذرت کر چکا ہے‘‘اسی دوران برطانوی حکومت نے لندن میں بھی حکومت پاکستان سے معافی مانگ لی لیکن چودھری شجاعت حسین مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کر لیا۔ وہ سید مشاہد حسین کے ساتھ جنوری کے آخر میں لندن گئے اور انہوں نے وہاں اپنے وکلاء سے مشورے شروع کر دئیے۔ میں اس ساری کارروائی اور چودھری شجاعت حسین کے اس ردعمل پر انہیں داد دیتا ہوں۔یہ ایک باعزت‘ باوقار اور جرات مند قوم کے جرات مند‘ باوقار اورباعزت لیڈر کا ردعمل ہے اور اس رد عمل پر جتنا بھی فخر کیا جائے وہ کم ہو گا۔میں اپنی وزارت خارجہ کی کارکردگی اور سبک رفتاری کی بھی داد دیتا ہوں‘ ایک آزاد‘ خود مختار اورباوقار ملک کی وزرات خارجہ کا ردعمل بھی یہی ہونا چاہئے تھا لیکن۔۔۔ہم اس ’’لیکن‘‘ کو چند لمحوں کیلئے ’’ہولڈ‘‘ کرتے ہیں اور دوسرے واقعے کی طرف آتے ہیں۔پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی ادارے اور پاکستانی تاریخ کے مقبول ترین شخص عبدالستار ایدھی بھی جنوری میں نیویارک کے دورے پر گئے تھے‘ وہ لوگوں کی فلاح وبہبود اور ’’ڈونیشن‘‘ کی وصولی کیلئے دنیا بھر کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔وہ امریکہ بھی بار بار جاتے ہیں اور ان کے پاس پاکستان کی شہریت کے ساتھ ساتھ امریکہ کاگرین کارڈ بھی موجود ہے‘ وہ معمول کے مطابق اس بار نیویارک کے جان ایف کینڈی ائرپورٹ پر اترے تو امیگریشن کے عملے نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو روک لیا‘ امیگریشن کا عملہ انہیں تفتیشی سنٹر لے گیااورتفتیش شروع کر دی ۔ایدھی صاحب پر تین اعتراضات کئے گئے‘ اول عبدالستار ایدھی باریش ہیں ‘ وہ شلوار قمیص اور ویسٹ کوٹ پہنتے ہیں اور سر پر ٹوپی لیتے ہیں۔امیگریشن کے عملے کو اعتراض تھا ان کا حلیہ ’’دہشت گردوں‘‘ سے کیوں ملتا ہے؟۔ دوم عبدالستار ایدھی بار بار پاکستان سے باہر کیوں آتے ہیں اور سوم ان کے پاس گرین کارڈ موجود ہے تو وہ امریکہ میں مستقل رہائش اختیارکیوں نہیں کرتے۔ عبدالستار ایدھی نے جواب دیا‘ وہ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کا حلیہ عموماً یہی ہوتا ہے‘ دوم وہ فلاح و بہبود کے کام سے منسلک ہیں اور اس کام سے وابستہ ہونے کے باعث وہ پوری دنیا میں آتے جاتے رہتے ہیں اور سوم ان کی ساری اسٹیبلشمنٹ اور کام پاکستان میں ہے چنانچہ وہ پاکستان کو چھوڑ کر امریکہ میں کیسے رہ سکتے ہیں۔امیگریشن کا عملہ ان کے جوابات سے مطمئن نہ ہوا چنانچہ وہ مسلسل 7گھنٹے تک ایدھی صاحب کی تفتیش کرتے رہے‘ عبدالستار ایدھی شوگر کے مریض ہیں چنانچہ تفتیشی عمل کے دوران ایدھی صاحب کی طبیعت بگڑ گئی جس سے پریشان ہوکرامیگریشن کے عملے نے ان کا پاسپورٹ‘ گرین کارڈ اور دوسری دستاویزات ضبط کیں اور انہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں رہنے کی جگہ دے دی۔ اس دوران عبدالستار ایدھی کے بعض امریکی ساتھیوں کو واقعے کا علم ہوا تو وہ مدد کیلئے دوڑ پڑے۔یہ ساتھی امریکہ میں سماجی بہبود کے کاموں سے وابستہ ہیں اور امریکی معاشرے میں احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ حکومت نے ان امریکی ساتھیوں کی ضمانت پر عبدالستار ایدھی کو چھوڑ دیااور دو تین دن بعد ان کے کاغذات بھی واپس کر دئیے لیکن انہیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے 18فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ اس عمل کے دوران امریکہ میں پاکستان کا سفارتخانہ‘ ہمارا دفتر خارجہ اور حکومت پاکستان مکمل طور پر خاموش رہی‘ہماری وزارت خارجہ نے اس افسوسناک واقعے پر امریکی سفارتخانے کو خط تک لکھنا گوارا نہ کیا۔ امریکی حکومت نے بھی اس واقعے کو اتنا چھوٹا اور غیر اہم سمجھا کہ اس کی طرف سے بھی کوئی معذرت نامہ جاری نہیں ہوا ۔میں اب واپس اس ’’لیکن‘‘ کی طرف آتا ہوں‘ پاکستان کی ان دونوں شخصیات کو ایک ہی قسم کے الزامات میں لندن اور نیویارک میں روکا گیا تھا‘ برطانیہ کی پولیس نے چودھری وجاہت حسین اور ان کے ساتھیوں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول سات کے تحت حراست میں لیا تھا جبکہ امریکہ نے عبدالستار ایدھی کو دہشت گردی کی دفعات میں تفتیشی عمل سے گزارا تھا لیکن ان دونوں واقعات میں ہماری حکومت کا ردعمل بالکل مختلف تھا۔چودھری وجاہت کے معاملے کو نہ صرف ہمارے سفارتخانے نے سنجیدہ لیا تھا بلکہ ہماری وزارت خارجہ نے بھی برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا تھا اور چودھری شجاعت حسین برطانوی حکومت کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کیلئے لندن بھی گئے جبکہ عبدالستار ایدھی کے واقعے میں ہمارے سفارتخانے کی طرف سے کوئی سرگرمی دکھائی گئی اور نہ ہی دفتر خارجہ اور پاکستان کی مستقبل کی حکمران جماعت کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے آیا۔آپ ذرا غور کیجئے عبدالستار ایدھی کون ہیں؟ ایدھی صاحب کو آدھی سے زائد دنیا بے سہاروں اور بے کسوں کا فرشتہ کہتی ہے۔ انہوں نے پاکستان جیسے ملک میں دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس بنائی تھی اور آج پاکستان کے کسی بھی علاقے میں کوئی سانحہ پیش آ جائے توایدھی ایمبولینس وہاں سب سے پہلے پہنچتی ہے۔ عبدالستار ایدھی آج تک 18ہزار لاوارث نعشیں دفن کر چکے ہیں اور انہوں نے 16ہزار ناجائز بچوں کو زندگی‘ صحت اور تعلیم دی۔وہ پاکستان میں گیارہ قسم کے بڑے بڑے فلاحی ادارے چلا رہے ہیں اور وہ پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں اس شخص نے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی لوگوں کیلئے وقف کر رکھی ہے لیکن حکومت کی بے حسی کی انتہا دیکھئے امریکہ اس عبدالستار ایدھی کو ائر پورٹ پر گرفتارکر لیتا ہے لیکن ہماری حکومت امریکی سفارتخانے میں احتجاج تک نہیں کرتی۔ ہم جب ان دونوں واقعات کو آمنے سامنے رکھتے ہیں توبے اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘پاکستان میں خدمت اور فلاح کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور اس ملک میں انسان کو احتجاج کا جائز حق لینے کیلئے بھی چودھری شجاعت حسین کا بھائی ہونا چاہئے اوراگرآپ کے پاس یہ کوالیفکیشن نہیں ہے توآپ خواہ عبدالستار ایدھی ہی کیوں نہ ہوں آپ حکومت کی ترجیحات میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ ان دونوں واقعات کے تجزیے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے ایدھی صاحب ذات‘ برادری اور سٹیٹس سے مار کھا گئے تھے اور ان کو چاہئے اگر وہ آئندہ عزت اور آبرو کے ساتھ سفر کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے نام کے ساتھ چودھری کا اضافہ کر لیں‘ وہ اپنا نام چودھری عبدالستار ایدھی رکھ لیں۔