ایک بیٹا جہاز سے لٹک کر ہلاک ، دوسرے کا کوئی پتہ نہیں،افغان والد

  اتوار‬‮ 14 اگست‬‮ 2022  |  16:37

کابل (این این آئی)افغانستان سے تباہ کن امریکی انخلا کی پہلی برسی قریب آتے ہی ایک انتہائی ہولناک سانحے کا شکار ہونے والے ایک نوجوان کی المناک موت کا واقعہ بھی ذہن میں تازہ ہو رہا ہے۔17 سالہ زابی رضائی ان مایوس شہریوں میں سے ایک تھے

جنہوں نے 16 اگست 2021 کو کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر جاتے ہوئے امریکی فضائیہ کے C-17 طیارے کے لینڈنگ گیئر اور وہیل کور کو پکڑ لیا۔ جہاز کے زمین سے فضا میں بلند ہوتے ہی وہ گر گیا۔میڈیارپورس کے مطابق زابی رضائی کے والد نے اپنے بیٹے کی المناک موت کے بارے میں بتایا،محمد رضائی نے کہا کہ مقتول کا 19 سالہ بھائی ذکی جو اپنے بھائی کی طالبان سے فرار کی کوشش میں شامل تھا کا اس کے بعد کوئی پتا نہیں۔آٹھ بچوں کے والد رضائی نے غصے سے کہا کہ میں پائلٹ کو مورد الزام ٹھہراتا ہوں اور امریکیوں پر الزام لگاتا ہوں جو ہوائی اڈے کی حفاظت کے ذمہ دار تھے۔انہوں نے کہا کہ آج تک مجھے ذکی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ اس کی اہلیہ شدید صدمے میں ہے۔دل گرفتہ افغانی نے کہا کہ میرے دونوں بچے نہایت شریف تھے۔ انہیں فٹ بال کھیلنا پسند تھا۔وہ پڑھے لکھے تھے، ذکی انگریزی بول سکتے تھے اور وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو تھوڑا بہت سکھایا کرتے تھے۔



زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎