پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ بمباری میں شدت، شہدا کی تعداد 36 تک پہنچ گئی ہسپتال شہیدوں اور زخمیوں سے بھر گئے

datetime 12  مئی‬‮  2021 |

غزہ (این این آئی) غزہ میں قیامت صغریٰ، صیہونی فورسز کی وقفے وقفے سے وحشیانہ بمباری سے شہدا کی تعداد 36 تک پہنچ گئی، جس میں 13 بچے بھی شامل ہیں جبکہ دو روز کے دوران 700 سے زائد زخمی ہوگئے۔ایک دن میں سفاک اسرائیل کے اسی جنگی طیاروں نے غزہ پر بم برسائے، بارہ منزلہ رہائشی عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ہسپتال شہیدوں اور زخمیوں سے بھر گئے،

عورتوں بچوں سمیت کئی فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ پر حملوں میں اضافے کا حکم دے دیا۔وحشیانہ بمباری میں فلسطینیوں کے گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ عورتیں اور بچے پناہ کی تلاش میں غزہ کی گلیوں میں دوڑتے رہے۔ شہدا کی تدفین کے دوران غمناک مناظر سامنے آئے، معصوم بچہ اپنوں کی جدائی برداشت نہ کرسکا، بھاگ کر بھائی اور والد کے جنازے کے پاس جا پہنچا، بچے کی بے بسی نے دیکھنے والوں کو رلا دیا۔ 11 سالہ بچے کے جنازے نے بھی کہرام مچا دیا۔فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیلی مظالم کا بھرپور جواب دیا۔ اسرائیلی علاقوں پر میزائلوں کی بارش کر دی۔ ایک دن میں 300 سے زائد راکٹ اسرائیلی شہروں پر برسائے، حماس کے راکٹ حملوں سے یہودیوں میں افراتفری پھیل گئی۔اسرائیل کے شہر اشکیلون میں فلسطینیوں کے میزائل حملے میں یہودی آبادکار ہلاک ہوگئے جبکہ کئی زخمی ہیں۔ تل ابیب میں بھی اسرائیلی عمار ت پر فلسطینی میزائل لگا، اسرائیل نے تل ابیب ایئر پورٹ کو بند کر دیا۔شہر لْد میں اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینی کو گولی مار

کر شہید کر دیا۔ جس کے بعد ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیلی پولیس کی گاڑی جلا دی۔ شہر میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے بھی توڑ ڈالے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے میں اسرائیل کا فلسطینیوں پر تشدد جاری ہے۔ دو روز میں زخمیوں کی تعداد ساڑھے پانچ سو سے تجاوز کرگئی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کی جانب سے رہائشی علاقوں پر حملے پر اظہار تشویش کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل سے غیر قانونی طاقت کا استعمال فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب لیگ کے سربراہ نے غزہ پراسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…