پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ بمباری میں شدت، شہدا کی تعداد 36 تک پہنچ گئی ہسپتال شہیدوں اور زخمیوں سے بھر گئے

datetime 12  مئی‬‮  2021 |

غزہ (این این آئی) غزہ میں قیامت صغریٰ، صیہونی فورسز کی وقفے وقفے سے وحشیانہ بمباری سے شہدا کی تعداد 36 تک پہنچ گئی، جس میں 13 بچے بھی شامل ہیں جبکہ دو روز کے دوران 700 سے زائد زخمی ہوگئے۔ایک دن میں سفاک اسرائیل کے اسی جنگی طیاروں نے غزہ پر بم برسائے، بارہ منزلہ رہائشی عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ہسپتال شہیدوں اور زخمیوں سے بھر گئے،

عورتوں بچوں سمیت کئی فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ پر حملوں میں اضافے کا حکم دے دیا۔وحشیانہ بمباری میں فلسطینیوں کے گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ عورتیں اور بچے پناہ کی تلاش میں غزہ کی گلیوں میں دوڑتے رہے۔ شہدا کی تدفین کے دوران غمناک مناظر سامنے آئے، معصوم بچہ اپنوں کی جدائی برداشت نہ کرسکا، بھاگ کر بھائی اور والد کے جنازے کے پاس جا پہنچا، بچے کی بے بسی نے دیکھنے والوں کو رلا دیا۔ 11 سالہ بچے کے جنازے نے بھی کہرام مچا دیا۔فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیلی مظالم کا بھرپور جواب دیا۔ اسرائیلی علاقوں پر میزائلوں کی بارش کر دی۔ ایک دن میں 300 سے زائد راکٹ اسرائیلی شہروں پر برسائے، حماس کے راکٹ حملوں سے یہودیوں میں افراتفری پھیل گئی۔اسرائیل کے شہر اشکیلون میں فلسطینیوں کے میزائل حملے میں یہودی آبادکار ہلاک ہوگئے جبکہ کئی زخمی ہیں۔ تل ابیب میں بھی اسرائیلی عمار ت پر فلسطینی میزائل لگا، اسرائیل نے تل ابیب ایئر پورٹ کو بند کر دیا۔شہر لْد میں اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینی کو گولی مار

کر شہید کر دیا۔ جس کے بعد ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیلی پولیس کی گاڑی جلا دی۔ شہر میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے بھی توڑ ڈالے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے میں اسرائیل کا فلسطینیوں پر تشدد جاری ہے۔ دو روز میں زخمیوں کی تعداد ساڑھے پانچ سو سے تجاوز کرگئی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کی جانب سے رہائشی علاقوں پر حملے پر اظہار تشویش کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل سے غیر قانونی طاقت کا استعمال فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب لیگ کے سربراہ نے غزہ پراسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…