پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

نیشنل ایمرجنسی لگنے جا رہی ہے، پورا پاکستان کنٹرول میں آ جائے گا، نجم سیٹھی کا دعویٰ

datetime 28  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے ملک کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں نیشنل ایمرجنسی کے نفاذ کے امکانات موجود ہیں۔

ان کے مطابق موجودہ حالات سے پیدا ہونے والے بعض پیچیدہ معاملات سے نمٹنے کے لیے یہ راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

اپنے تجزیاتی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ ان کے خیال میں نیشنل ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں مرکز کو ملک کے معاملات پر زیادہ وسیع اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس صورت میں حکومتی سطح پر مختلف عہدوں سے متعلق فیصلے زیادہ آسانی سے کیے جاسکتے ہیں۔ یہ نجم سیٹھی کا تجزیہ اور دعویٰ ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے نیشنل ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

پی ٹی آئی کے مؤخر کیے گئے لانگ مارچ پر بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے ہی مارچ کے آگے بڑھائے جانے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں احتجاج کے پیش نظر کیے گئے انتظامات پر حکومت کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ دارالحکومت میں رکھے گئے کنٹینرز کے حوالے سے بھی اضافی مالی مطالبات سامنے آنے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد میں طویل عرصے تک رکاوٹیں اور سیکیورٹی انتظامات برقرار رہتے ہیں تو اس کے انتظامی اور مالی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق کنٹینرز فراہم کرنے والے مالکان بھی مزید ادائیگیوں یا اپنے سامان کی واپسی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان سیکیورٹی معاملات پر مطلوبہ تعاون موجود نہیں۔

نجم سیٹھی کے مطابق موجودہ کشیدہ صورتحال میں آنے والے دن اہم ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے معاملات میں قانونی اور آئینی راستے استعمال کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے کردار اور اختیارات سے متعلق کوئی بڑا فیصلہ کرسکتی ہے۔ تاہم دستیاب سرکاری بیانات میں اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر حالیہ دنوں میں مختلف سیاسی بیانات سامنے آئے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے 23 ستمبر کو گورنر راج کے امکان کو مسترد کیا تھا، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس امکان اور اس حوالے سے مشاورت کا ذکر کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…