ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

جلد جل جائے تو ٹوتھ پیسٹ، ہلدی اور گھی لگانے سے گریز کریں

datetime 26  ستمبر‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)گھر میں کھانا پکاتے ہوئے گرم تیل کے چھینٹے پڑ جانا، گرم چائے گر جانا یا پریشر ککر کی بھاپ سے جلد جھلس جانا عام حادثات میں شامل ہے۔

ایسی صورت میں اکثر لوگ گھبرا کر جلے ہوئے حصے پر ٹوتھ پیسٹ، ہلدی، نمک یا گھی لگا دیتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق بعض گھریلو چیزیں زخم کو مزید متاثر کرسکتی ہیں۔جلنے کے فوراً بعد ابتدائی چند منٹ اہم ہوتے ہیں۔ متاثرہ حصے کو پہلے گرمی کے منبع سے دور کریں اور تقریباً 20 منٹ تک ٹھنڈے بہتے پانی کے نیچے رکھیں۔ اگر قریب انگوٹھی، چوڑی، گھڑی یا کوئی تنگ چیز پہن رکھی ہو تو سوجن سے پہلے اسے اتار دینا چاہیے۔جلے ہوئے حصے کو ٹھنڈا کرنے کے بعد اسے صاف، پتلے اور ایسے کپڑے سے ڈھانپا جاسکتا ہے جو زخم سے چپکے نہیں۔ اگر چھالا بن جائے تو اسے سوئی یا کسی دوسری چیز سے پھوڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔بچوں کی جلد نسبتاً نازک ہوتی ہے، اس لیے گرم چائے، پانی یا دیگر گرم اشیا سے جلنے کی صورت میں فوری طور پر متاثرہ حصے کو 20 منٹ تک ٹھنڈے بہتے پانی سے ٹھنڈا کرنا چاہیے۔

اگر جلا ہوا حصہ زیادہ ہو یا چھالے بن گئے ہوں تو بچے کو طبی معائنے کے لیے ڈاکٹر یا اسپتال لے جانا چاہیے۔پریشر ککر یا گرم برتن کی بھاپ بھی جلد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں متاثرہ حصے کو فوری طور پر گرمی کے منبع سے دور کرکے ٹھنڈے بہتے پانی سے ٹھنڈا کیا جائے۔ اگر چہرہ متاثر ہو، شدید سوجن یا جلن ہو یا سانس لینے میں دشواری پیش آئے تو فوری طبی امداد حاصل کی جائے۔جلنے کے فوراً بعد متاثرہ حصے پر ٹوتھ پیسٹ، ہلدی، نمک یا گھی سمیت غیر تجویز کردہ گھریلو اشیا لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ خاص طور پر چھالے یا اترتی ہوئی جلد پر ایسی چیزیں لگانے سے زخم متاثر ہوسکتا ہے اور بعد کے طبی معائنے یا علاج میں بھی دشواری پیش آسکتی ہے۔اگر جلا ہوا حصہ بڑا ہو، زخم گہرا ہو، بڑے چھالے بن جائیں، چہرہ متاثر ہو یا سانس لینے میں دشواری ہو تو اسے معمولی جلن سمجھنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ بچوں کے جلنے کی صورت میں بھی طبی مشورہ لینے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…