راولپنڈی (نیوز ڈیسک)بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بارے میں اپنی بہن نورین نیازی کو مبینہ طور پر دیے گئے پیغام کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران عمران خان نے نورین نیازی سے سہیل آفریدی کی کارکردگی اور صوبے کی سیاسی صورتحال سے متعلق گفتگو کی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان نے کہا کہ سہیل آفریدی نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا اور وہ پہلے ہی اپنے وکیل کے ذریعے وزیراعلیٰ کو عہدہ چھوڑنے کا پیغام دے چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نورین نیازی نے ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کو بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ سے متعلق اعلان کیا ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں پارٹی کی اندرونی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ سہیل آفریدی کے خلاف بعض ارکان اسمبلی پر مشتمل ایک گروپ موجود ہے، جسے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے مبینہ طور پر دریافت کیا کہ سہیل آفریدی کی مخالفت کرنے والے ارکان اسمبلی کی تعداد کتنی ہے، جس پر نورین نیازی نے تقریباً 35 ارکان کا ذکر کیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی قیادت نہیں کرتے تو علی امین گنڈاپور کو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا پیغام دیا جائے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ یہ پیغام سہیل آفریدی تک پہنچنے کے بعد احتجاج اور مارچ کے پروگرام میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اسی دوران بعض ارکان اسمبلی اور اہم کارکنوں سے متعلق معلومات بھی متعلقہ اداروں تک پہنچائے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی اور ایک اہم وفاقی وزیر کے درمیان بھی مسلسل رابطے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر مشاورت جاری رہنے کی بات کی گئی ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے وزیراعلیٰ کے خلاف کوئی پیغام نہیں بھیجا اور سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی کا اعتماد حاصل ہے۔ عمران خان کے اہل خانہ کی جانب سے بھی نورین نیازی سے منسوب ملاقات اور گفتگو سے متعلق خبروں کو مسترد کیا گیا ہے۔



















































