پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کی ملاقات کی اندرونی کہانی

datetime 28  ستمبر‬‮  2026 |

ڈیرہ اسماعیل خان (نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی ملاقات کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں صوبائی حکومت کے مستقبل، موجودہ سیاسی صورتحال، وفاق سے کشیدگی اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی ممکنہ تحلیل سمیت مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی نے علی امین گنڈاپور کو صوبے کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سے متعلق خدشات کا بھی اظہار کیا گیا۔ ملاقات میں یہ رائے بھی زیر بحث آئی کہ صوبائی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے فی الحال لانگ مارچ کا براہِ راست حوالہ دینے سے گریز کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے وفاقی آئینی عدالت سے متعلق ممکنہ فیصلے پر بھی گفتگو کی، جس کے نتیجے میں علی امین گنڈاپور کے دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کی صورت پیدا ہونے کا امکان زیر بحث آیا۔ رپورٹ کے مطابق گنڈاپور نے اس موقع پر حکومت کے مقابلے میں پارٹی مفادات کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا۔

ملاقات میں یہ معاملہ بھی زیر غور آیا کہ اگر سیاسی صورتحال کسی حتمی تعطل کا شکار ہوجاتی ہے تو پارلیمانی پارٹی کی اجازت سے خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کے آپشن پر غور کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر پارلیمانی پارٹی منظوری دے تو وہ اسمبلی تحلیل کرسکتے ہیں۔

ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ناراضی اور پارٹی کے اندرونی معاملات بھی زیر بحث آئے۔ رپورٹ کے مطابق اسمبلی تحلیل کے معاملے پر عمران خان سے براہِ راست مشاورت نہ کیے جانے کا معاملہ بھی گفتگو کا حصہ بنا۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اڈیالہ جیل میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور بعض دیگر پارٹی عہدیداروں سے متعلق سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر بشریٰ بی بی، ایک سینیٹر اور عمران خان کی بہنیں بھی موجود تھیں۔ تاہم ان تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

مجموعی طور پر ملاقات میں خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال، صوبائی حکومت کے مستقبل، وفاقی اقدامات کے خدشات اور اسمبلی کے ممکنہ مستقبل سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…