پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

اجتماعی زیادتی کا شکار غیرملکی خاتون کی پنجاب اسمبلی میں موجودگی کی تصاویر سامنے اگئیں، تحقیقات میں پیشرفت

datetime 28  ستمبر‬‮  2026 |

لاہور (نیوز ڈیسک)ڈیفنس سی میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ غیر ملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

پولیس نے واقعے میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی سفید رنگ کی گاڑی قبضے میں لے لی جبکہ دو خواتین سمیت پانچ مشتبہ افراد کی شناخت کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی سی ڈی، آپریشنز اور انویسٹی گیشن ونگ کی مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جو لاہور سمیت دیگر علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران سامنے آیا ہے کہ غیر ملکی خاتون کو مبینہ طور پر اپنے ساتھ لے جانے کے لیے سفید رنگ کی گاڑی استعمال کی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی مبینہ ملزم تنویر کے نام پر ہے، جسے ایک مرکزی مشتبہ شخص کے رشتہ دار کے گھر سے برآمد کرکے تھانہ ڈیفنس سی منتقل کردیا گیا۔ گاڑی کا فرانزک معائنہ جاری ہے جبکہ دیگر شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی کارروائیوں کے دوران پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے تفتیش کی جارہی ہے۔ زیرحراست افراد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کا مبینہ ملزمان سے خاندانی تعلق ہے، جبکہ تفتیش کار ان سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے مرکزی مشتبہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش میں عمر، محسن اور تنویر سمیت دو خواتین کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جن میں مسکان نامی خاتون بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق مسکان نے مبینہ طور پر غیر ملکی خاتون کو فلیٹ تک پہنچایا تھا۔ دیگر مشتبہ افراد کے گھروں پر ڈیفنس، سندر کی نجی سوسائٹیوں اور مختلف علاقوں میں چھاپے جاری ہیں، جبکہ بعض افراد کے مبینہ طور پر فرار ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

تفتیشی حکام نے مبینہ ملزمان کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کے علاوہ کیس سے متعلق ڈیجیٹل شواہد کا بھی جائزہ شروع کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج، گاڑی، موبائل فونز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، سفری دستاویزات اور دیگر دستیاب شواہد کی جانچ کی جارہی ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ مکمل کرلیا گیا ہے اور اس کا بیان بھی تفتیش کا اہم حصہ ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ اور خاتون کے بیان سے واقعے کے مزید پہلو واضح ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق غیر ملکی خاتون رواں سال مارچ سے مئی کے دوران دو مرتبہ پاکستان آچکی تھی جبکہ موجودہ دورہ اس کا تیسرا دورہ بتایا گیا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق وہ 4 مارچ کو تاشقند سے لاہور پہنچی اور 20 مارچ کو ایک شخص جاوید کے ہمراہ باکو واپس گئی۔ بعد ازاں 22 مئی کو وہ دوبارہ پاکستان آئی، جبکہ پولیس ذرائع کے مطابق تقریباً 15 روز قبل وہ تیسری مرتبہ لاہور پہنچی تھی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون کپڑے کے کاروبار کے سلسلے میں لاہور اور فیصل آباد آتی جاتی رہی ہے اور اردو زبان سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اس کے لاہور میں قیام، مختلف مقامات پر آمدورفت اور دیگر افراد سے رابطوں سے متعلق معلومات بھی اکٹھی کر رہی ہیں۔

پولیس نے پنجاب اسمبلی میں خاتون کی موجودگی سے متعلق سامنے آنے والی تصاویر اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی تحقیقات کا حصہ بنا لیا ہے تاکہ کیس سے متعلق تمام ممکنہ شواہد کا جائزہ لیا جاسکے۔

دوسری جانب عدالت نے متاثرہ خاتون کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 28 ستمبر کو متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ پولیس نے ڈیوٹی مجسٹریٹ ارم یوسف کے روبرو خاتون کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرنے کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے عام تعطیل کے باعث ریمانڈ کے علاوہ دیگر مقدمات کی سماعت نہ ہونے کے پیش نظر خاتون کو مقررہ تاریخ پر متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت نے پولیس کو مبینہ ملزمان کی تلاش جاری رکھنے اور ان کے گرفتار ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ عاصم افتخار کی سربراہی میں تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران کے مطابق واقعے میں ملوث مشتبہ افراد کی شناخت کرلی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد معاملے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…