منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

امریکی فوجی خواتین کی سینکڑوں غیراخلاقی تصاویر انٹرنیٹ پر جاری ہوتے ہی امریکہ میں ہنگامہ مچ گیا

datetime 8  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی محکمہ دفاع نے بحریہ کے فیس بْک گروپ ’میرینز یونائیٹڈ‘ میں امریکی بحریہ کے اہلکاروں کی جانب سے خواتین فوجیوں کی نازیبا تصاویر شیئر کرائے جانے کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ فیس بک گروپ اب بند کردیا گیا ہے

جس میں امریکی بحریہ کے 30 ہزار سے زائد حاضر سروس اور ریٹائرڈ اہلکار شامل تھے۔ یو ایس میرینز کے اعلیٰ افسر سارجنٹ میجر رونلڈ گرین نے اس بارے میں اپنے تحریری بیان میں شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے امریکی اقدار اور میراث پر براہ راست حملہ قرار دیا جس کی وجہ سے میرینز کی خواتین اہلکاروں، ان کے اہلِ خانہ اور عام امریکی شہریوں کے جذبات مجروح ہوئے ۔مذکورہ فیس بک گروپ میں یو ایس میرینز کی خواتین اہلکاروں کی نازیبا اور قابلِ اعتراض تصاویر شیئر کرانے کا انکشاف ایک غیر سرکاری تنظیم ’وار ہارس‘ نے کیا تھا جس کے سربراہ امریکی بحریہ کے سابق اہلکار تھامس برینن ہیں۔امریکی محکمہ دفاع بحریہ کے متعدد اہلکاروں کی جانب سے اپنی خواتین ساتھی اہلکاروں کی برہنہ تصاویر فیس بک پر شائع کرنے کی تحقیقات کر رہا ہے۔میرینز کے اعلیٰ افسر سارجنٹ میجر رونلڈ گرین نے اس واقعہ پر ایک تحریری بیان میں کہا کہ یہ ہماری اقدار اور میراث پربراہ راست حملہ ہے۔اس رویے سے ساتھی میرینز ٗ خاندان کے ارکان اور سویلین کو ٹھیس پہنچی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…