جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

ہاتھوں اور پائوں سے پیدائشی معذور سعودی بچہ مرجع خلائق بن گیا

datetime 11  جون‬‮  2019 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب میں پیدائشی طور پر ہاتھوں اور پائوں سے معذور بچے نے اپنے چہرے کی مسکراہٹ سے معذوری کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ اپنے آس پاس موجود لوگوں کے دل موہ لیے۔عرب ٹی وی کے مطابق معذوری نے ننھے سعودی ریان المعدی کو لوگوں میں گھل مل جانے، ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور تعلیم کے حصول سے نہیں روکا۔ وہ تیراکی کا خواہش مند،

آرٹسٹ کے طور پر خاکے بنانا اور معذور بچوں کے ساتھ کھیل کود میں حصہ لینا چاہتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ مستقبل میں بچوں کا ڈاکٹر بننے کے خواب بھی دیکھ رہاہے۔معذور بچے ریان المعدی کی والدہ نے عربی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریان کی پیدائش سے قبل ہی مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ میں ایک معذوربچے کی ماں بننے والی ہوں۔ مگر مجھے اس میںکوئی پریشانی نہیں تھی کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو جیسے چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ معذوربچہ گھر میں باعث برکت ہوگا۔ ڈاکٹروں کی طرف سے خبردار کیا گیا تھا کہ بچے کی معذوری کی وجہ سے اس کی پیدائش کا عمل بھی انتہائی پیچیدہ ہوگا مگر پیدائش کے دوران ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ نارمل طریقے سے پیدا ہوا اور اس کی پیدائش ہمارے لیے نیک شگون ثابت ہوئی۔ وہ جہاں جاتا ہے ہمیشہ مسکراتے چہرے کے ساتھ ہرایک سے ملتا ہے۔والدہ کا کہنا ہے جب ریان المعدی بڑا ہونے لگا تو ایک دن اس نے مشکل سوال پوچھا کہ میں دوسرے لوگوں سے مختلف کیوں ہوں؟ میں جوتے کیوں نہیں پہن سکتا اور بازو پرگھڑی کیوں نہیں باندھ سکتا۔ اگرچہ اس کا جواب مشکل تھا مگر میں نے اس کے سوالوںکے جواب دیے اور اسے معذور افراد کی تصاویر دکھائیں جو اس کی طرح ہاتھوں اور پائوں سے محروم تھے۔معذور بچے کی ماں کا کہنا ہے کہ ریان المعدی کی پیدائش کے پانچ سال بعد معذوروں کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے اسے اپنے ہاں رجسٹر کرلیا۔ تنظیم کی طرف سے اسے معاون ٹیم اور معلمات فراہم کی گئیں۔ آج وہ 10 سال کا ہوچکا ہے اور لوگوںکا مرجع خلائق ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کے فالورز ہزاروں میں ہیں جو مسلسل بڑھ رہے ہیں۔‎

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…