ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ہاتھوں اور پائوں سے پیدائشی معذور سعودی بچہ مرجع خلائق بن گیا

datetime 11  جون‬‮  2019 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب میں پیدائشی طور پر ہاتھوں اور پائوں سے معذور بچے نے اپنے چہرے کی مسکراہٹ سے معذوری کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ اپنے آس پاس موجود لوگوں کے دل موہ لیے۔عرب ٹی وی کے مطابق معذوری نے ننھے سعودی ریان المعدی کو لوگوں میں گھل مل جانے، ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور تعلیم کے حصول سے نہیں روکا۔ وہ تیراکی کا خواہش مند،

آرٹسٹ کے طور پر خاکے بنانا اور معذور بچوں کے ساتھ کھیل کود میں حصہ لینا چاہتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ مستقبل میں بچوں کا ڈاکٹر بننے کے خواب بھی دیکھ رہاہے۔معذور بچے ریان المعدی کی والدہ نے عربی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریان کی پیدائش سے قبل ہی مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ میں ایک معذوربچے کی ماں بننے والی ہوں۔ مگر مجھے اس میںکوئی پریشانی نہیں تھی کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو جیسے چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ معذوربچہ گھر میں باعث برکت ہوگا۔ ڈاکٹروں کی طرف سے خبردار کیا گیا تھا کہ بچے کی معذوری کی وجہ سے اس کی پیدائش کا عمل بھی انتہائی پیچیدہ ہوگا مگر پیدائش کے دوران ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ نارمل طریقے سے پیدا ہوا اور اس کی پیدائش ہمارے لیے نیک شگون ثابت ہوئی۔ وہ جہاں جاتا ہے ہمیشہ مسکراتے چہرے کے ساتھ ہرایک سے ملتا ہے۔والدہ کا کہنا ہے جب ریان المعدی بڑا ہونے لگا تو ایک دن اس نے مشکل سوال پوچھا کہ میں دوسرے لوگوں سے مختلف کیوں ہوں؟ میں جوتے کیوں نہیں پہن سکتا اور بازو پرگھڑی کیوں نہیں باندھ سکتا۔ اگرچہ اس کا جواب مشکل تھا مگر میں نے اس کے سوالوںکے جواب دیے اور اسے معذور افراد کی تصاویر دکھائیں جو اس کی طرح ہاتھوں اور پائوں سے محروم تھے۔معذور بچے کی ماں کا کہنا ہے کہ ریان المعدی کی پیدائش کے پانچ سال بعد معذوروں کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے اسے اپنے ہاں رجسٹر کرلیا۔ تنظیم کی طرف سے اسے معاون ٹیم اور معلمات فراہم کی گئیں۔ آج وہ 10 سال کا ہوچکا ہے اور لوگوںکا مرجع خلائق ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کے فالورز ہزاروں میں ہیں جو مسلسل بڑھ رہے ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…