اسلام آباد (نیوز ڈیسک)برطانیہ میں مقیم پاکستانی آرتھوپیڈک ماہر ڈاکٹر محمد سجاد نے برطانیہ کے معروف اور دشوار ترین نیشنل تھری پیکس چیلنج کو کامیابی سے مکمل کر کے ایک اہم اعزاز اپنے نام کر لیا۔ ان کی اس کامیابی کو نہ صرف ذاتی سنگ میل بلکہ بیرونِ ملک پاکستانی برادری کے لیے بھی باعثِ افتخار قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر محمد سجاد پیشے کے اعتبار سے ایک تجربہ کار آرتھوپیڈک پروفیشنل ہیں۔ وہ طبی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ صحت مند طرزِ زندگی، باقاعدہ ورزش اور جسمانی فٹنس کو بھی اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کے لیے نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور جسمانی صحت انتہائی ضروری عناصر ہیں۔
چیلنج کے دوران انہوں نے صرف 24 گھنٹوں میں برطانیہ کی تین بلند ترین چوٹیوں بین نیوس (Ben Nevis)، اسکیفیل پائیک (Scafell Pike) اور سنوڈن (Snowdon) کو سر کیا۔ اس مہم میں تقریباً 14 گھنٹے مختلف مقامات کے درمیان سفر بھی شامل تھا، جس کے باعث یہ مقابلہ جسمانی طاقت، ذہنی استقامت اور غیرمعمولی برداشت کا سخت امتحان تصور کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر محمد سجاد کی اس نمایاں کامیابی پر برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے پاکستانی بیرونِ ملک اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے ساتھ ساتھ کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں میں بھی ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔
اپنی کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد سجاد نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ یہ مہم ان کی زندگی کے یادگار ترین تجربات میں شامل رہے گی۔ انہوں نے اس کامیابی کا کریڈٹ اپنے بھتیجے یوسف عدنان (مسٹر پاکستان) اور پاکستان آرمی کے سابق ایس ایس جی کمانڈو صبغت اللہ کو دیا، جنہوں نے پورے سفر کے دوران ان کی حوصلہ افزائی، رہنمائی اور بھرپور تعاون کیا۔



















































