جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

وسیم اکرم قومی ٹیم پر سخت برہم، 6بڑے نام فارغ کرنے کا مطالبہ

datetime 24  فروری‬‮  2025
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور( این این آئی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان ٹیم کی بدترین کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاہے ٹیم چھ مہینے ہارے مگر نئے بے خوف لڑکوں کو لیکر آئیں۔انہوںنے پاک بھارت میچ کے بعد اپنے تجزیہ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی، کمزور حکمتِ عملی اور غیر موثر کھیل پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم شکستوں کی عادی ہوچکی ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم وائٹ بال ٹیم میں نئے نوجوان کرکٹرز لائیں جن کے اندر کوئی خوف نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ چاہے ہمیں پانچ چھ بڑے ناموں کو ٹیم سے نکالنا ہی کیوں نہ پڑے اور بے شک ہم چھ مہینے ہاریں مگر نئے لڑکوں کو ٹیم میں لاکر انکو مکمل سپورٹ کریں۔وسیم اکرم نے کہا کہ 2026ء ورلڈ کپ کے لئے ٹیم کی تیاری ابھی سے شروع کردیں، بس بہت ہوگیا، موجودہ کھلاڑیوں کو ہم نے بہت چانسز دیکر دیکھ لیا۔

وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان کے پانچ میچوں میں سارے بولرز نے ملاکر 60کی ایوریج سے 24وکٹیں لی ہیں۔ سابق فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ ون ڈے کرکٹ میں اس سال 14ممالک کی ٹیموں جن میں عمان اور امریکا بھی شامل ہیں، پاکستان کی بولنگ دوسری بدترین رہی ہے۔انہوں نے انہوں نے ٹیم مینجمنٹ کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اب چیئرمین پی سی بی سلیکشن کمیٹی، کوچ اور پانچ لیجنڈز کو بلاکر پوچھیں کہ یہ سلیکشن کیا کی تھی تم لوگوں نے؟۔وسیم اکرم نے کہا کہ ہم چیخیں مار رہے تھے کہ یہ اسکواڈ ٹھیک نہیں ہے۔

ہم بولتے رہے کہ ایک دن رہ گیا ہے اسکواڈ تبدیل کرلو مگر انہوں نے ایک گھنٹے کی میٹنگ کی اور اسی اسکواڈ کے ساتھ باہر آگئے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ اس صورتحال میں کپتان کا بھی پورا قصور ہے کیونکہ وہ ٹیم کا لیڈر ہوتا ہے، اگر اسکو نہیں پتا کہ مجھے ون کون سے میچ ونر چاہئیں اپنی ہی کنڈیشنز میں اور ہم کنڈیشنز کو بھی پڑھ نہیں پارہے تو یہ باعث شرمندگی ہے۔وسیم اکرم نے کہا کہ دبئی اسٹیڈیم میں پاکستانی تماشائی 8یا زیادہ سے زیادہ 10فیصد موجود تھے مگر پاکستان کی بولنگ کے 17ویں اوور تک وہ سب بھی وہاں سے نکل گئے، میں نے پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…