اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے عام انتخابات کے حلقہ این اے 251 سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے خوشحال خان خٹک کو کامیاب امیدوار قرار دے دیا
اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی کہ ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقدمے کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ کارروائی کے دوران وکیل سلمان اکرم راجا نے مؤقف اپنایا کہ تنازع بنیادی طور پر فارم 45 اور فارم 48 میں موجود تضاد سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق دس پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں واضح فرق پایا گیا، جہاں ہر اسٹیشن پر ان کے مؤکل کے تقریباً 100 ووٹ کم جبکہ مدِمقابل امیدوار سید سمیع اللہ کے ووٹ فارم 48 میں زیادہ ظاہر کیے گئے۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ نتائج میں سو ووٹوں کا یکساں فرق رکھنا کسی طے شدہ طریقہ کار کی نشاندہی کرتا ہے اور اس نوعیت کی تبدیلیاں عموماً رات کے اوقات میں کی جاتی ہیں۔ اس پر وکیل نے کہا کہ ایسی تبدیلیاں دن کے وقت بھی ممکن ہیں۔
عدالت کے سامنے متعلقہ دس پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 پیش کیے گئے۔ درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ اگر نتائج میں ردوبدل ثابت ہو تو ریٹرننگ افسر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے دریافت کیا کہ کیا ماضی میں غلط نتائج جاری کرنے پر کسی ریٹرننگ افسر کے خلاف کارروائی کی مثال موجود ہے؟ الیکشن کمیشن کے نمائندوں نے بتایا کہ قوانین میں اس حوالے سے مکمل طریقہ کار موجود ہے اور ریٹرننگ افسران پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ نے خوشحال خان خٹک کے حق میں فیصلہ سنایا اور الیکشن کمیشن کو ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔



















































