بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

تعلیمی اداروں سے متعلق بڑا حکومتی فیصلہ،سخت وارننگ جاری

datetime 26  فروری‬‮  2026 |
Summer Vacations in Punjab

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)  وفاقی دارالحکومت میں بچوں پر جسمانی سزا کے مکمل خاتمے کے لیے قانون کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔

نئی ترامیم کے بعد سرکاری و نجی اسکولوں، دینی مدارس، بورڈنگ ہاؤسز، فوسٹر کیئر مراکز، کام کی جگہوں اور بحالی اداروں میں بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی جسمانی یا ذہنی زیادتی کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔Islamabad Capital Territory Prohibition of Corporal Punishment Act 2021 میں منظور شدہ تبدیلیوں کے تحت بچوں کو دھمکانے یا ہراساں کرنے پر زیادہ سے زیادہ دو سال قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ اگر کسی بچے کو مارا پیٹا جائے یا اسے جسمانی نقصان پہنچایا جائے تو ایک سال تک قید یا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ شدید چوٹ یا ہڈی ٹوٹنے کی صورت میں سزا کا تعین زخم کی نوعیت کے مطابق ہوگا۔قانون کے مطابق کسی استاد یا مدرسے کے عملے کی جانب سے بغیر قانونی جواز بچے پر ہاتھ اٹھانا جرم ہوگا، جس پر تین ماہ تک قید، 500 روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ہاتھ، ڈنڈے، بیلٹ، جوتے، لکڑی کے چمچ یا کسی بھی آلے سے مارنا قابلِ تعزیر عمل قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح تھپڑ رسید کرنا، کوڑے لگانا، لات مارنا، جھنجھوڑنا، دھکا دینا، نوچنا، چٹکی کاٹنا یا بال اور کان کھینچنا بھی جسمانی سزا کے زمرے میں آئے گا۔طلبہ پر تشدد سے متعلق شکایات کی جانچ کے لیے وزارتِ تعلیم کی جانب سے تین رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں کم از کم ایک خاتون رکن کی شمولیت لازمی ہوگی۔ دینی مدارس کے معاملات متعلقہ وفاقی تنظیمِ مدارس کی مقررہ کمیٹی دیکھے گی، جبکہ دیگر نجی اداروں سے متعلق کیسز کی نگرانی وزارتِ انسانی حقوق کرے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی اور تربیتی ماحول یقینی بنانا اور ہر قسم کے تشدد کا خاتمہ کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…