منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

تعلیمی اداروں سے متعلق بڑا حکومتی فیصلہ،سخت وارننگ جاری

datetime 26  فروری‬‮  2026 |
Summer Vacations in Punjab

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)  وفاقی دارالحکومت میں بچوں پر جسمانی سزا کے مکمل خاتمے کے لیے قانون کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔

نئی ترامیم کے بعد سرکاری و نجی اسکولوں، دینی مدارس، بورڈنگ ہاؤسز، فوسٹر کیئر مراکز، کام کی جگہوں اور بحالی اداروں میں بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی جسمانی یا ذہنی زیادتی کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔Islamabad Capital Territory Prohibition of Corporal Punishment Act 2021 میں منظور شدہ تبدیلیوں کے تحت بچوں کو دھمکانے یا ہراساں کرنے پر زیادہ سے زیادہ دو سال قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ اگر کسی بچے کو مارا پیٹا جائے یا اسے جسمانی نقصان پہنچایا جائے تو ایک سال تک قید یا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ شدید چوٹ یا ہڈی ٹوٹنے کی صورت میں سزا کا تعین زخم کی نوعیت کے مطابق ہوگا۔قانون کے مطابق کسی استاد یا مدرسے کے عملے کی جانب سے بغیر قانونی جواز بچے پر ہاتھ اٹھانا جرم ہوگا، جس پر تین ماہ تک قید، 500 روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ہاتھ، ڈنڈے، بیلٹ، جوتے، لکڑی کے چمچ یا کسی بھی آلے سے مارنا قابلِ تعزیر عمل قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح تھپڑ رسید کرنا، کوڑے لگانا، لات مارنا، جھنجھوڑنا، دھکا دینا، نوچنا، چٹکی کاٹنا یا بال اور کان کھینچنا بھی جسمانی سزا کے زمرے میں آئے گا۔طلبہ پر تشدد سے متعلق شکایات کی جانچ کے لیے وزارتِ تعلیم کی جانب سے تین رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں کم از کم ایک خاتون رکن کی شمولیت لازمی ہوگی۔ دینی مدارس کے معاملات متعلقہ وفاقی تنظیمِ مدارس کی مقررہ کمیٹی دیکھے گی، جبکہ دیگر نجی اداروں سے متعلق کیسز کی نگرانی وزارتِ انسانی حقوق کرے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی اور تربیتی ماحول یقینی بنانا اور ہر قسم کے تشدد کا خاتمہ کرنا ہے۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…