جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پرانی بیماری،قومی بلے باز298 میں سے 152 گیندیں ڈاٹ کھیل گئے

datetime 24  فروری‬‮  2025 |

دبئی (این این آئی)پاکستانی بیٹرز کی پرانی بیماری ختم نہ ہوسکی، چیمئپنز ٹرافی کے دوسرے میچ میں بھی ڈاٹ بالز کھیلنے کی روایت نہ چھوڑی۔ نیوزی لینڈ کے بعد بھارت کیخلاف بھی قومی ٹیم نے ڈاٹ بال کا انبار لگا دیا، آئی سی سی چیمئپنز ٹرافی کے سب سے بڑے میچ میں بھی بلے بازوں نے اپنی روایت نہ بدلی۔ہ اس چیمپیئنز ٹرافی میں صرف افغانستان ایسا ملک ہے کہ جس کی ٹیم نے پاکستانی ٹیم سے زیادہ ڈاٹ بالز کھیلیں، افغان ٹیم نے 65.8فیصد جبکہ پاک ٹیم نے 56.4 فیصد ڈاٹ بال کھیلیں۔

اس کے بعد بالترتیب بنگلہ دیش، نیوزی لینڈ، بھارت، ساؤتھ افریقہ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں نے اپنے میچز کے دوران ڈاٹ بالز کھیلیں۔قومی بلے باز298 میں سے 152 گیندیں ڈاٹ کھیل گئے، اوپنر امام الحق نے چھبیس گیندیں کھیلیں، 19 ڈاٹ بالزکھیلیں، اٹھارہ پر کوئی رن نہ بنایا۔کپتان رضوان نے 60 سے بھی کم کے اسٹرائیک ریٹ سے46 رنز جوڑے انہوں نے 77گیندوں کا سامنا کیا جس میں 43 ڈاٹ کھیلیں۔ گرین شرٹس پہلے میچ کی طرح دوسرے میں بھی پورے 50 اوور نہ کھیل سکیں۔قومی ٹیم نے مجموعی طور پر 298 بالز کا سامنا کیا اور اس میں 152 ڈاٹ بالز کھیلیں، محمد رضوان اور سعود کی پارٹنر شپ میں دس اوور کے دوران صرف 27 رنز بن سکے، دونوں نے 104رنز 144گیندوں پر بنائے۔

اس سے قبل گزشتہ میچ میں قومی بیٹرز نے کیویز کیخلاف 284میں سے 162ڈاٹ بال کھیلی تھیں، ٹرائی سیریز کے تین میچوں میں بھی 139، ایک سو تیرہ اور170 ڈاٹ بال کھیلی تھیں۔ نہ جانے اس بیماری کاعلاج کب کیسے اورکون کریگا؟۔اس کے علاوہ بالرز کی بات کی جائے تو شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف نے مجموعی طور پر 23 اوور کرائے اور دو وکٹیں لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…