ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

سپورٹس کی فیلڈ میں قدم رکھنے والی نئی اور نوجوان لڑکیوں کا دماغ کیسے ان کمپنیوں کے کنٹرول میں ہوتا ہے؟ ان لڑکیوں کا کیا مقصد رہ جاتا ہے؟ ثناء میر کا انکشاف

datetime 26  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ویمن قومی کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر نے اداکارہ ماہرہ خان کو خوبصورتی کے بناوٹی اور غیر حقیقی معیار کی ترویج کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر نے اداکارہ ماہرہ خان کو خوبصورت نظرآنے کیلئے گوری رنگت اور چمکدار جلد کیاشتہار میں کام کرنے کیلئے کھری کھری سنادیں۔ ثنا میر نیاپنی فیس بک پوسٹ میں کہاکہ اسپورٹس کی فیلڈ میں قدم رکھنے والی نئی اور نوجوان لڑکیوں کا دماغ کیسے ان کمپنیوں کے کنٹرول میں ہوتا ہے،

ان کمپنیوں کی وجہ سے ان لڑکیوں کی زندگی کا صرف ایک مقصد رہ جاتا ہے خوبصورت جلد کا حصول۔ ثنا میر نے مشہور شخصیات اور ان پروڈکٹس کو اسپانسرکرنے والی کمپنیوں کو ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کہاکہ یہ خواتین کو ہمیشہ ایک چیز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا غلطی مت کریں، آپ کو اسپورٹس کی فیلڈ میں مقام بنانے کیلئے نرم و نازک ہاتھوں کی نہیں بلکہ مضبوط بازوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا ہمیں یہ سب برابھی لگتا ہے اور ہم سوشل میڈیا پر اپنا غصہ ظاہر کرنے کیلئے مختلف پوسٹ اور اسٹیٹس لگاتے ہیں لیکن اب اس پر بات کرنے کا وقت آگیا ہے۔ میں نے بہت کم اسپانسرز اور مشہور شخصیات کو دیکھا ہے جو خواتین کی اصل رنگت کی حمایت میں کھڑے رہتے ہیں۔آج کل میڈیا میں جلد کونرم اور چمکدار بنانے والی ایک اشتہاری مہم چل رہی ہے جس نے مجھے اس موضوع پر بولنے اور اس حوالے سیاپنے تحفظات بیان کرنے کیلئے اکسایا۔ مجھے پتہ چلا کہ یہ اشتہاری مہم بھارت اور پاکستان دونوں میں جاری ہے جس میں لڑکیوں کو باسکٹ بال کورٹ میں اپنی رنگت کے حوالے سے تشویش میں مبتلا دکھایا جارہا ہے۔ بدترین بات یہ ہے کہ جہاں ہم نوجوان لڑکیوں کویہ پیغامات دے رہے ہیں کہ آپ کی جلد کی رنگت کوئی معنی نہیں رکھتی وہیں ہم اس بات کی بھی ترویج کررہے ہیں کہ

جسم کی خوبصورتی کتنی ضروری ہے۔ کیا لڑکیوں کی صلاحیت، ان کا جنون اور مہارت اسپورٹس کھیلنے کیلئے کافی نہیں ہے؟۔ہمارے آس پاس اسپورٹس میں نمایاں مقام حاصل کرنے والی خواتین ہیں جنہوں نے خود کو اس مقام تک کڑی محنت اوراپنی صلاحیتوں کے بل بوطے پر پہنچایا۔ ثنامیر نے نوجوان لڑکیوں سے کہا میں نے پاکستان میں اسپورٹس کی فیلڈ میں12 برس گزارے ہیں اور اس دوران میں نے خوبصورتی بڑھانے والی اشتہاری کمپنیوں کی متعدد پیشکش ٹھکرائی ہیں۔ میں چاہتی ہوں اسپورٹس کی فیلڈ میں جانے والی

لڑکیوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہئیے کہ انہیں اس فیلڈ میں کامیابی حاصل کرنیکیلئے مسلسل پریکٹس، آرام دہ جوتے، آرام دہ کپڑے پانی کی بوتل اور دھوپ سے بچا کیلئے کیپ کی ضرورت ہے۔ثنا میر نے تمام اسپانسرز اور مشہور شخصیات سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ آپ نوجوان لڑکیوں کو یقین دہانی کرائیں کہ وہ اپنے خوابوں کو ضرور پوراکریں گی، ہمیں انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کیلئے خود اعتمادی کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں ان کی جلد کے حوالے سے کمزوری کے احساس میں مبتلا کرنا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…