لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مکی آرتھرکی درخواست کو نظرانداز کرتے ہوئے مشتاق احمد کی جگہ اظہر محمود کو باؤلنگ کوچ اور رابطہ کار مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔مکی آرتھر نے پی سی بی کو کہا تھا کہ مشتاق احمد کو بورڈ، قومی ٹیم اور کوچ کے درمیان رابطہ کار کے عہدے پر تعینات کیا جائے۔پی سی بی نے مشتاق احمد کو اس لیے نظر انداز کیا ہے کیونکہ وہ نیشنل اکیڈمی میں باؤلنگ کوچ کی حیثیت سے کام کررہے ہیں، اگر وہ قومی ٹیم کے ساتھ انگلینڈ کے دورے پر جاتے ہیں تو نیشنل اکیڈمی کے معاملات درہم برہم ہوں گے۔بورڈ نے نیشنل اکیڈمی کے معاملات کے پیش نظر اظہر محمود کو یہ عہدہ دینے کی تجویز دی ہے جو جدید کرکٹ سے آگاہ اور اس عہدے کے لیے مناسب ترین ہیں۔گوکہ آرتھر نے تاحال کوئی شکایت نہیں کی ہے جبکہ پی سی بی نے ان سے رابطہ بھی نہیں کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اگر اظہر محمود دستیاب نہیں ہوئے تو پی سی بی مشتاق کو تعینات کرے گی۔ذرائع نے مزید کہا کہ اس عہدے کے لیے عاقب جاوید اور محمد اکرم کے حوالے سے بورڈ میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔اظہر محمود ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے دوران پاکستان ٹیم کے باؤلنگ کوچ کے طور پر کام کرچکے ہیں جبکہ مشتاق احمد گزشتہ چند سالوں سے اس عہدے پر کام کررہے ہیں تاہم ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے دوران وہ چھٹیوں پر چلے گئے تھے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)
-
کیا رواں ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 73 روپے اضافہ ہونے جا رہا ہے؟اوگرا نے بتا دیا
-
پاکستان کرکٹ بورڈ کا قذافی اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ
-
یوٹیوبر رجب بٹ کی طلاق کی پیشگوئی کرنے والی آسٹرلوجسٹ لالہ رخ نے ایک اور خطرناک پیش گوئی کر دی
-
جمعتہ الوداع کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان
-
’بانی پی ٹی آئی کو آج یا کل ہی رہا ہونا چاہیے‘
-
رکشہ اور موٹر سائیکل کا چالان کرنے پر پابندی عائد
-
عیدالفطر کب ہوگی؟ بین الاقوامی مرکز برائے فلکیات کا بڑا انکشاف
-
پاکستان پر عالمی سفری پابندیوں میں 3ماہ کی توسیع
-
عید الفطر کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو کی اہم پیش گوئی سامنے آگئی
-
ایران جنگ میں کتنے امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے؟ پینٹاگون کا بڑا اعتراف
-
بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا
-
ٹرمپ نے ایران پر حملےکی ذمہ داری اپنے داماداور وزیر دفاع پر ڈال دی
-
’’پٹرول کی قیمت ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے نہیں بڑھی‘‘ تو پھر وجہ کیا؟ جانیے اندر کی خبر



















































