منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

رزق میں برکت کے2 ایسے وظیفے کہ رزق کے دروازے کُھل جائیں اور آپ کیا آپکے ہمسائے بھی امیر ہو جائیں۔۔۔!!!

datetime 28  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)علامہ ثاقب رضا مصطفائی نے رزق کی کشادگی کے بارے میں بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت عثمان غنی حضرت عبداللہ ابن مسعود کے گھر آئے اس وقت حضرت ابن مسعود سخت بیمار تھے، حضرت عثمان غنی نے ان کا حال پوچھا اور جب واپس لوٹنے لگے تو حضرت عثمان نے اشرفیوں کی دو تھیلیاں حضرت عبداللہ ابن مسعود کو دیں تو

حضرت عبداللہ ابن مسعود نے کہا کہ یہ کیا ہے تو حضرت عثمان غنی نے فرمایا کہ ان سے اپنی ضروریات پوری کر لینا، تو حضرت عبداللہ نے کہا کہ میں تو جا رہا ہوں میری تو ضروریات ختم ہو رہی ہیں، حضرت عثمانی غنی نے کہا کہ آپ کی بیٹیاں ہی بیٹیاں ہیں بیٹا تو ہے نہیں تو یہ آپ کے بعد آپ کی بیٹیوں کے کام آجائیں گی،تو حضرت عبداللہ ابن مسعود کا یقین دیکھئے کہا کہ یہ کسی اور کو دے دیں،میری بیٹیوں کو اس کی ضرورت نہیں رہے گی اس لئے کہ میری بیٹیاں اس وقت تک سوتی نہیں ہیں جب تک سورۃ واقعہ نہیں پڑھ لیتیں اور میرے رسول نے وعدہ کیا ہے اور یہ بات میں نے اپنے کانوں سے سنی ہے کہ سورۃ واقعہ فقر کو دور کرتی ہے،میری بیٹیاں سورۃ واقعہ کی عامل ہیں،اس لئے یہ پریشانی کم ازکم مجھے تو نہیں ہونی چاہئے کہ میرے بعد میری بیٹیوں کو رزق کہاں سے ملے گا ان کے پاس سورۃ واقعہ موجود ہے لہٰذا یہ اٹھاو اور کسی اور کو دے دو جس کے پاس سورۃ واقعہ نہیں ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…