منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

رزق میں برکت کے2 ایسے وظیفے کہ رزق کے دروازے کُھل جائیں اور آپ کیا آپکے ہمسائے بھی امیر ہو جائیں۔۔۔!!!

datetime 28  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)علامہ ثاقب رضا مصطفائی نے رزق کی کشادگی کے بارے میں بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت عثمان غنی حضرت عبداللہ ابن مسعود کے گھر آئے اس وقت حضرت ابن مسعود سخت بیمار تھے، حضرت عثمان غنی نے ان کا حال پوچھا اور جب واپس لوٹنے لگے تو حضرت عثمان نے اشرفیوں کی دو تھیلیاں حضرت عبداللہ ابن مسعود کو دیں تو

حضرت عبداللہ ابن مسعود نے کہا کہ یہ کیا ہے تو حضرت عثمان غنی نے فرمایا کہ ان سے اپنی ضروریات پوری کر لینا، تو حضرت عبداللہ نے کہا کہ میں تو جا رہا ہوں میری تو ضروریات ختم ہو رہی ہیں، حضرت عثمانی غنی نے کہا کہ آپ کی بیٹیاں ہی بیٹیاں ہیں بیٹا تو ہے نہیں تو یہ آپ کے بعد آپ کی بیٹیوں کے کام آجائیں گی،تو حضرت عبداللہ ابن مسعود کا یقین دیکھئے کہا کہ یہ کسی اور کو دے دیں،میری بیٹیوں کو اس کی ضرورت نہیں رہے گی اس لئے کہ میری بیٹیاں اس وقت تک سوتی نہیں ہیں جب تک سورۃ واقعہ نہیں پڑھ لیتیں اور میرے رسول نے وعدہ کیا ہے اور یہ بات میں نے اپنے کانوں سے سنی ہے کہ سورۃ واقعہ فقر کو دور کرتی ہے،میری بیٹیاں سورۃ واقعہ کی عامل ہیں،اس لئے یہ پریشانی کم ازکم مجھے تو نہیں ہونی چاہئے کہ میرے بعد میری بیٹیوں کو رزق کہاں سے ملے گا ان کے پاس سورۃ واقعہ موجود ہے لہٰذا یہ اٹھاو اور کسی اور کو دے دو جس کے پاس سورۃ واقعہ نہیں ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…