پیر‬‮ ، 05 جنوری‬‮ 2026 

ایک مسلمان کی جان مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے

datetime 24  مئی‬‮  2017 |

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں کانوں میں انگلیاں دے کر حیران و سرگرداں پھر رہے تھے اور چلا چلا کر کہہ رہے تھے۔ ہائے افسوس! ہائے افسوس! لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور متعجب ہو کر پوچھنے لگے۔ امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کو کیا ہوا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بعض امراء کی طرف سے ایک پیام رساں یہ خبر لے کر آیا ہے کہ ایک نہر لوگوں کے درمیان حائل ہو گئی۔

اسے عبور کرنے کیلئے کوئی کشتی نہ ملی تو ان کے امیر (افسر) نے حکم دیا کہ ایسا آدمی تلاش کرو جو اس نہر کی گہرائی کو جانتا ہو۔ چنانچہ ایک بوڑھا آدمی لایا گیا اس بوڑھے شخص نے خوف و تردد کے لہجہ میں کہا کہ مجھے اس کی برودت کا خوف ہے مگر اس امیر نے اس کو جبراً اس نہر میں داخل کرا دیا، ابھی وہ نہر میں داخل ہوا ہی تھا کہ اس کو اس کی برودت نے پکڑ لیا اور وہ ہائے عمر رضی اللہ عنہ! ہائے عمر رضی اللہ عنہ! کی آوازیں لگاتے ہوئے اس نہر میں ڈوب گیا۔بعدازاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اس علاقہ کے) والی کو طلب کیا، وہ آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چند روز تک اس سے منہ پھیرے رکھا، پھر اس سے پوچھا کہ اس آدمی نے کیا قصور کیا کہ تو نے اسے مار ڈالا؟ امیر نے معذرت کرتے ہوئے عرض کیا اے امیرالمومنین! میں نے اس کو قصداً قتل نہیں کیا اور ہمیں اس نہر کو عبور کرنے کیلئے کوئی چیز بھی دستیاب نہ ہوئی۔ ہمارا مقصود تو یہ تھا کہ اس نہر کی گہرائی معلوم کریں۔ پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے کارنامے بتانے لگا کہ ہم نے فلاں علاقہ بھی فتح کر لیا اور فلاں بھی فتح کر لیا ہے اور اتنا اتنا مال ہاتھ لگا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تیز لہجے میں فرمایا کہ میری نظر میں ایک مسلمان آدمی کی جان ان تمام چیزوں سے زیادہ عزیز ہے جو تو لے کر آیا ہے اگر سنت نہ ہوتی تو میں تیری گردن اڑاتا۔ جاؤ اس کے ورثاء کو اس کی دیت دو اور یہاں سے نکل جاؤ، میں تجھے نہ دیکھوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…