اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ ہار کس کا ہے؟

datetime 9  مئی‬‮  2017 |

ابن عقیلؒ اپنا واقعہ لکھتے ہیں کہ میں بہت ہی زیادہ غریب آدمی تھا۔ ایک مرتبہ میں نے طواف کرتے ہوئے ایک ہاردیکھا جو بڑاقیمتی تھا۔ میں نے وہ ہار اٹھالیا۔ میرا نفس چاہتا تھا کہ میں اسے چھپا لوں لیکن میرادل کہتا تھا، ہرگز نہیں، یہ چوری ہے، بلکہ دیانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ جس کا یہ ہار ہے اسے میں واپس کر دوں۔ چنانچہ میں نے مطاف میں کھڑے ہو کر اعلان کر دیا کہ اگر کسی کا ہار گم ہوا ہو تو آ کر مجھ سے لے لے۔

کہتے ہیں کہ ایک نابینا آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یہ ہار میرا ہے اور میرے تھیلے میں سے گراہے۔ میرے نفس نے مجھے اور بھی ملامت کی کہ ہار تو تھا بھی نابینا کا، اس کا کسی کو کیاپتہ چلتا تھا، چھپانے کا اچھا موقع تھا مگر میں نے وہ ہار اسے دے دیا۔ نابینا نے دعا دی اور چلاگیا۔ کہتے ہیں کہ میں دعائیں بھی مانگتاتھا کہ اللہ! میرے لیے کوئی رزق کا بندوبست کر دے۔ اللہ کی شان دیکھیں کہ میں وہاں سے ’’ہلہ‘‘ آ گیا۔ یہ ایک بستی کانام ہے۔ وہاں کی ایک مسجد میں گیاتو پتہ چلا کہ چند دن پہلے امام صاحب فوت ہو گئے تھے۔ لوگوں نے مجھے کہا کہ نماز پڑھا دو۔ جب میں نے نماز پڑھائی تو انہیں میرا نماز پڑھانا اچھا لگا۔ وہ کہنے لگے، تم یہاں امام کیوں نہیں بن جاتے۔ میں نے کہا، بہت اچھا۔ میں نے وہاں امامت کے فرائض سرانجام دینے شروع کردیے۔ تھوڑنے دنوں کے بعد پتہ چلا کہ جو امام صاحب پہلے فوت ہوئے تھے ان کی ایک جواں سال بیٹی ہے۔ وہ وصیت کر گئے تھے کہ کسی نیک بندے سے اس کا نکاح کر دینا۔ مقتدی لوگوں نے مجھ سے کہا، جی اگر آپ چاہیں تو ہم اس یتیم بچی کا آپ سے نکاح کر دیتے ہیں۔ میں نے کہا، جی بہت اچھا، چنانچہ انہوں نے اس کے ساتھ میرا نکاح کر دیا۔شادی کے کچھ عرصہ کے بعد میں نے اپنی بیوی کو دیکھا کہ اس کے گلے میں وہی ہار تھا جو میں نے طواف کے دوران ایک نابینا آدمی کو لوٹایا تھا۔

اسے دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔میں نے پوچھا، یہ ہار کس کا ہے؟ اس نے کہا، یہ میرے ابو نے مجھے دیا تھا۔میں نے کہا، آپ کے ابو کون تھے؟اس نے کہا، وہ عالم تھے، اس مسجد میں امام تھے اور نابینا تھے۔تب مجھے پتہ چلا کہ اس کے ابو وہی تھے جن کو میں نے وہ ہار واپس کیاتھا۔ میں نے اس کو بتایا کہ یہ ہار تو میں نے ان کو اٹھا کر دیا تھا۔ وہ کہنے لگی کہ آپ کی بھی دعا قبول ہو گئی اور میرے ابو کی بھی دعا قبول ہوگئی۔

میں نے کہا، وہ کیسے؟ اس نے کہا کہ آپ کی دعا تو اس طرح قبول ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو گھر بھی دیا، گھر والی بھی دی اور رزق بھی دیا اور میرے ابو کی دعا اس طرح قبول ہوئی کہ جب وہ ہار لے کر واپس آئے تو وہ دعا مانگتے تھے کہ اے اللہ! ایک امین (دیانت دار) شخص نے میرا ہار مجھے لوٹایا ہے، اے اللہ! ایسا ہی امین شخص میری بیٹی کے لیے خاوند کے طور پر عطا فرما دے۔ الل نے میرے باپ کی دعا بھی قبول کر لی اور آپ کو میرا خاوند بنا دیا۔۔۔ تو مخلص بندے کا کام اللہ تعالیٰ کبھی رکنے نہیں دیتے، اٹکنے نہیں دیتے بلکہ اس کی کشتی ہمیشہ کنارے لگا دیاکرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…