اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

غلامی کے پنجرے سے امامت کے مصلے تک

datetime 12  اپریل‬‮  2017 |

بنو قریضہ کا ایک یہودی تاجر تھا، اس کا نام سلام بن جبیر تھا، وہ شام گیا اور وہاں سے اس نے مال تجارت خریدا، وہاں ایک غلام بھی بک رہا تھا، نہ تو اس کی شکل اچھی تھی اور نہ اس میں کوئی ہنر نظر آتا تھا اور بیچنے والا بھی جان چھڑا رہا تھا، گلوخلاصی کرنا چاہتا تھا، چنانچہ وہ سستا بہت بک رہا تھا، وہ کہتے ہیں کہ سستا ہونے کی وجہ سے میں نے کہا: چلو! یہ بھی خرید لیتے ہیں، کوئی تو لے لے گا، ہو سکتا ہے گھر میں کسی کو غلام کی اور نوکر کی ضرورت ہو۔

اس غلام کا نام سالم تھا، اسے سلام بن جبیر مدینہ منورہ لے آیا، اس کا مال تجارت تو ہاتھوں ہاتھ بک گیا، اب وہ چاہتا تھا کہ میں کام سمیٹوں اور قبیلے میں جاؤں لیکن غلام کو کوئی نہیں خریدتا، جو آتا ہے وہ دیکھ کر کہتا ہے: نہ عقل نظر آتی ہے اور نہ شکل نظر آتی ہے، کیوں خریدیں؟ وہ اس کے لیے گلے کا کانٹا بن گیا، ایک ہفتہ دس دن وہ روز مارکیٹ جاتا اور غلام کو کوئی نہ خریدتا، وہ بڑا پریشان ہوا، حتیٰ کہ اس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جب یہ اتنا ہی نکما ہے تو اس کو اونی پونی قیمت پہ بیچ دوں گا، جس دن اس نے یہ ارادہ کیا، اس دن مدینہ کی ایک کنواری لڑکی جس کا نام ثبیتہ (باوقار) تھا، وہاں سے گزری، اس نے پہلے بھی کئی مرتبہ اس غلام کو دھوپ کے اندر بازار میں کھڑے دیکھاتھا،۔۔۔ وہ نوجوان بچی تھی، عورت ذات تھی، دل نرم تھا، اسے اس پر رحم آ گیا، ۔۔۔ اس نے سلام سے پوچھا: کیا تم اس لڑکے کو بیچنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! میں اسے بیچنا ہی نہیں چاہتا بلکہ اس سے جان چھڑانا چاہتا ہوں، پوچھا: کتنے پیسے لو گے؟ اس نے کہا، جتنے میں، میں نے خریدا ہے اور راستے میں جو اس پر خرچ کیا ہے بس خرچہ دو اور لے جاؤ، لو جی! اس نے تھوڑی سی قیمت مانگی، ثبیتہ نے وہ رقم دے دی اور اس لڑکے کو لے کر آگئی۔خریدتے وقت اس نے پوچھا تھا کہ یہ لڑکا ملا کہاں سے تھا؟

اس نے کہا: یہ ماں باپ کا اکیلا بیٹا تھا، شام میں بک رہا تھا اور میں اسے لے آیا تھا، وہ نرم دل لڑکی تھی، وہ سوچتی رہی کہ کتنے بچے ایسے ہوں گے جو اپنی ماؤں سے جدا کر دیے جاتے ہیں، یہ بھی تو کسی ماں کا بیٹا ہو گا، پتہ نہیں اس کی ماں اس کے لیے کتنا ترستی ہو گی، روتی ہوگی، میں دیکھتی ہوں کہ بے چارہ سارا دن دھوپ میں کھڑا ہوتا ہے، اچھا! میں اس کو گھر لے جاتی ہوں اور میں اس کو اپنا بیٹا بنا لوں گی، لیکن میں اس سے شادی نہیں کروں گی،

ایسا نہ ہو کہ میری اولاد کے ساتھ بھی کل یہی معاملہ پیش آ جائے۔ثبیتہ نے اس لڑکے کو اپنے گھر میں بیٹے کی طرح پالنا شروع کر دیا، جب لڑکے کو اچھی غذا ملی اور محبت ملی۔۔۔ وہ تو بھوکا تھا محبت کا۔۔۔ چنانچہ اب اس کے اندر خود اعتمادی آ گئی اور اس کی صحیح نشوونما اور گروتھ ہونا شروع ہو گئی، اس کی صحت بھی اچھی ہوتی گئی اور صلاحیتیں بھی کھل گئیں، یوں وہ ڈپریشن میں سے نکل آیا اور اس کا چہرہ تروتازہ ہو گیا۔ان دنوں مکہ مکرمہ کا ایک قبیلہ شام میں تجارت کے لیے گیا ہوا تھا،

اس میں ابو حذیفہ نامی ایک تاجر تھے جو مکہ کے رہنے والے تھے، انہوں نے راستے میں مدینہ منورہ میں پڑاؤ ڈالا، اللہ کی شان ان کے سامنے ثبیتہ کا یہ واقعہ کسی نے بیان کیا تو حذیفہ کو ثبیتہ کی طبیعت اچھی لگی، کہ وہ ایک رحم دل لڑکی ہے اور اس نے احساس کیا، انسانیت کی ہمدردی کی، ایسے اچھے اخلاق والی لڑکی کہاں ملتی ہے؟ چنانچہ انہوں نے بن دیکھے ثبیتہ کے والدین کو نکاح کا پیغام بھیج دیا، ادھر ثبیتہ کے والدین نے سوچا: لو! قریش میں سے ہیں تاجر ہے خود پیغام بھیج رہا ہے،

یہ تو کوئی اچھا آدمی لگ رہا ہے لہٰذا انہوں نے اس پیغام کو قبول کر لیا اور ثبیتہ کا نکاح ہو گیا۔نکاح کے بعد ابو حذیفہ کچھ دن مدینہ میں رہے، وہ غلام بھی ان کے ساتھ رہا جو ان کی بیوی کے پاس تھا، پھر ابو حذیفہ مکہ مکرمہ چلے گئے تو ثبیتہ بھی اپنے خاوند کے ساتھ مکہ مکرمہ گئی اور وہ غلام بھی ان کے ساتھ جہیز میں آ گیا۔ابو حذیفہ، حضرت عثمان غنیؓ کے دوست تھے، یہ بھی تاجر تھے بزنس مین ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں،

ابو حذیفہ نے محسوس کیا کہ میرے یہ تاجر دوست (حضرت عثمان غنیؓ) مجھ سے ملتے نہیں، کنی کترا جاتے ہیں، چونکہ دوستی کا ایک تعلق ہوتا ہے اس لیے ابو حذیفہ نے سوچ لیا کہ اگر عثمانؓ اب مجھ سے نہ ملے تو میں ان کے گھر جا کر ان کو مناؤں گا اور پوچھوں گا کہ ناراض کیوں ہیں؟لوجی! وہ عثمان غنیؓ کے گھر آ گئے اور ان کے مابین بات چیت شروع ہو گئی۔ ابوحذیفہ: جی! میں آپ میں کچھ ناراضگی کے آثار دیکھ رہا ہوں۔۔۔ بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔

عثمان غنیؓ: اس لیے کہ، تیرا اور میرا راستہ مختلف ہے، میں کیا دوستی بڑھاؤں تیرے ساتھ؟ابو حذیفہ: کیا مطلب؟عثمان غنیؓ: دیکھ! تولات و منات کی پوجا کرنے والا ہے اور میں ایک خدا کی عبادت کرنے والا ہوں۔(یہ سن کر ابوحذیفہ کانپ گئے اور کہنے لگے)ابو حذیفہ: عثمان کیا بتوں کے خلاف بات کر رہے ہو؟عثمان غنیؓ: ہاں! اللہ کے آخری پیغمبرؐ مبعوث ہوئے ہیں اور میں نے اپنے اس آقا کے پیغام پر لبیک کہی ہے اور اب میں مسلمان ہو چکا ہوں۔

(اب ابو حذیفہ کو محسوس ہوا کہ میرا جگری یار مجھ سے جدا ہو گیا ہے، چنانچہ انہوں نے کہا)ابوحذیفہ: اچھا! بھئی! اگر وہ ایسے ہیں کہ انہوں نے تیری زندگی کو بدل دیا ہے تو مجھے بھی ملاؤ۔عثمان غنیؓ: بہت اچھا۔چنانچہ عثمان غنیؓ کی دعوت پر ابوحذیفہ نبی کریمؐ کی خدمت میں آئے، نبی کریمؐ نے اس وقت اللہ کا قرآن پڑھا اور قرآن نے دل کی دنیا کو بدل کے رکھ دیا، ابو حذیفہ مسلمان ہو گئے۔جب ابو حذیفہ گھر گئے تو ثبیتہ نے دیکھ کر کہا: میں جو سکون آپ کے چہرے پر آج دیکھ رہی ہوں،

وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا، کیا وجہ ہے؟ کہنے لگے: میں مسلمان ہو گیا ہوں، وہ نیک دل لڑکی تھی، اس نے کہا: اچھا! پھر میں بھی مسلمان ہوتی ہوں، چنانچہ ثبیتہ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔اللہ کی شان دیکھیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے نبی کریمؐ کی تعلیمات سننا شروع کیں، ایک مرتبہ نبی کریمؐ نے فرمایا: جو غلام آزاد کرے گا اس کو یہ ثواب ملے گا، پھر جب ثبیتہ گھر آئی تو اس نے اپنے غلام سالم کو کہا: اللہ کے نبیؐ نے غلام کو آزاد کرنے کی فضیلت بتائی ہے،

لہٰذا میں تمہیں اللہ کے راستے میں آزاد کرتی ہوں، اب جہاں جانا چاہے تو چلا جا۔یہ سن کر سالم پریشان ہو گیا کہ میں کہاں جاؤں، میرا تو کوئی ہے ہی نہیں، اس وقت ابو حذیفہ کے دل میں بات آئی کہ پہلے بیوی نے رحم کیا تھا اور اس کو خرید لیا تھا، اب اس نے آزاد کیا ہے تو میں اسے کیوں دور جانے دوں، چنانچہ ابو حذیفہؓ کہنے لگے: میں آج سے آپ کو اپنا منہ بولا بیٹا بناتا ہوں، اب اس کا نام سالم بن حذیفہ پڑ گیا، اس نے کلمہ بھی پڑھ لیا،

اس کے بعد اس کا اکثر و بیشتر وقت نبی کریمؐ کی خدمت میں گزرتا، وہاں رہتے ہوئے اس نے قرآن مجید کا علم سیکھنا شروع کر دیا، سالم بن حذیفہؓ نے اتنا علم سیکھا کہ جب مہاجرین نے مدینہ طیبہ ہجرت کی تو مدینہ کے لوگوں کو امامت کے لیے اپنے سے بہتر قرآن پڑھنے والا اس سالم بن حذیفہ کے سوا کوئی نظر نہیںآتا تھا، کتابوں میں لکھا ہے کہ عمر بن خطابؓ بھی موجود ہوتے تھے اور ان کی موجودگی میں ان کو مصلے کے اوپر امامت کے لیے کھڑا کیا گیا۔

اور جب یہودی سالم بن حذیفہ کو مصلے پر کھڑا دیکھتے تو حیران ہو جاتے، سلام بن جبیر بھی ادھر آ نکلا، جب اس کی نظر سالم بن حذیفہ پر پڑی تو فوراً پہچان گیا کہ یہ تو وہی بچہ ہے جس کو کوئی خریدتا نہیں تھا، میں نے شام سے اتنے تھوڑے داموں میں اسے خریدا، مدینے میں آ کر مصیبت میں پھنس گیا، کوئی لیتا نہیں تھا، اسے تو کوئی منہ بھی نہیں لگاتا تھا، گری پڑی چیز کے مانند تھا، کوئی اس کی قیمت نہیں تھی، یہ بچہ اب مسلمانوں کا امام ہے!!!جب اس نے پوچھا کہ تم نے اس کو اپنا امام کیوں بنایا؟ تو جواب ملا:’’ہم میں سے اس نے اللہ کے قرآن کو زیادہ بہتر سیکھا ہے‘‘یوں علم انسان کو غلامی کے گھڑے سے نکال کر امامت کے مصلے پر کھڑا کر دیا کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…