بدھ‬‮ ، 13 مئی‬‮‬‮ 2026 

جین مت کے آغاز کی انتہائی دلچسپ کہانی

datetime 3  مئی‬‮  2016 |

ریاست مگدھ میں بدھ مت کے عروج کے دوران ایک اور مذہب جین مت پیدا ہوا۔ اس کے بانی مہاویر تھے ۔ وہ بھارت کے صوبہ بہا رکے شہر پٹنہ کے قریب ایک گاؤں و یشالی میں پیدا ہوئے۔ یہ 540ق م کا زمانہ تھا۔ مہاویر کشتری ذات سے تعلق رکھتے تھے اور وہ ہندو دھرم کی اس شاخ سے تعلق رکھتے تھے جسے ’’پارشو ناتھ‘‘ کہتے ہیں ۔ پارشوناتھ ہندو ریاضت کرنے پر بہت زور دیتے ہیں اور ترک دنیا کو بہترین کام خیال کرتے ہیں ۔ اس خاندانی پس منظر کے ساتھ مہادیو ایک عیش و آرام کی زندگی گزار رہے تھے کہ تیس برس کی عمر میں انہوں نے ترک دنیا کا اچانک فیصلہ کیا ۔ اس فیصلے کی اس کے سوا کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ ان کے آباؤ اجداد میں سے بھی بعض نے ایسا ہی کیا تھا۔ مہاویر نے اپنے سر کے بال نوچ ڈالے‘لباس اتار پھینکا اور ایک دھوتی پہن کر جنگل کی راہ لی۔ بارہ برس تک وہ تپسیا (ریاضت) کرتے رہے اور مسلسل سفر میں رہے۔ ان کے جسم پر دھوتی ایک آدھ برس ہی رہی ‘ اس کے بعد وہ ننگ دھڑنگ ہی رہنے لگے ۔ ریاضت کے دوران وہ کسی قسم کی گندگی کو اپنے جسم سے جدا نہ کرتے چنانچہ ان کے سر میں جوئیں پڑگئیں لیکن وہ ان جوؤں کو جسم سے صاف نہ کرتے بلکہ ان سے ہونے والی تکلیف کو بھی برداشت کرتے تاکہ ان کے اندر زیادہ سے زیادہ قوت برداشت پیدا ہو۔ لوگ ان کے گندے جسم ‘ ننگ دھڑنگ بدن اور غلیظ حلیے کو دیکھ کر ان پر آوازیں کستے ‘گالیاں دیتے ‘ پتھر مارتے لیکن وہ اپنی ان دیکھی دنیا میں مست رہتے اور اس صورتحال کو بھی اپنی روحانی ترقی کے لیے استعمال کرتے ۔ جین مت کے علما مہاویر کی زندگی کے اس دورکو ’’ہنسا‘‘ یعنی عدم تشدد کے فروغ کا باعث قرار دیتے ہیں۔ ریاضت کے تیرہویں برس انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے ’’کیول گیان ‘‘ حاصل ہو گیا ہے۔ کیول گیان کا قریباً وہی مفہوم ہے جو مسلمانوں میں رائج تصوف میں عرفان احدیت کا ہے۔ یعنی مہاویر نے اس با ت کو سب سے بڑی حقیقت قرار دیا کہ خدا کوئی دیوتا نہیں جو محض بہت سارے خداؤں کا سردار ہو بلکہ اس کی علیحدہ سے ایک متعین ذات ہے جو سب سے بڑی اور اعلیٰ ہے۔ اس شعور اور آگہی کی بنا پر مہاویر کو ’’جینا ‘‘ کہا گیا جس کا مطلب ہے ’’فاتح‘‘ ۔ یعنی زندگی کے دکھوں کا فاتح یا دنیاوی خواہشات و لالچ کا فاتح۔ اس لفظ جینا سے’’ جین‘‘ بنا اور مت کا مطلب طریقہ مذہب یا راستے کے ہیں۔ روایت کے مطابق جب مہاویر کو کیول گیان حاصل ہوا تو وہ ایک کھیت میں ایک برس سے درخت کے نیچے سر کے بل کھڑا ہو کر ریاضت کر رہاتھا ۔ اسے ’’ چلہ معکوس‘‘ کہتے ہیں۔ مہاویر تیس برس تک لوگوں کو اپنے دھرم کی تعلیم دیتا رہا۔ 72ء برس کی عمر میں (467ق م) اس نے بھارتی صوبے بہار کے شہر پاوا پوری میں انتقال کیا۔ انتقال کے وقت راجہ ہستی پال کے محل میں مقیم تھا اور اس نے ’’’مرن بھرت‘‘ رکھا ہوا تھا۔
مہاویر کے مطابق اعلیٰ مقام یہ ہے کہ انسان تارک الدنیا ہو جائے۔ گوشت خوری تو دورکی بات ہے ‘سبزی خوری بھی بس زندگی برقرار رکھنے کے لیے جائز ہے۔ جین مت کا ایک فرقہ ننگ دھڑنگ رہنے کی تعلیم دیتا ہے جبکہ دوسرے کے نزدیک صرف سفید دھوتی پہننا ٹھیک ہے۔ تیسرا فرقہ قدرے ترقی پسند تھا جن کے نزدیک جائیداد رکھنا جائز تھا۔ ظاہر ہے کہ اتنا انتہاء پسند مذہب عوام میں مقبول نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ناقابل عمل تعلیمات کے ساتھ ساتھ مہاویر کے مذہب میں عوام کی بہبود کے لیے حصہ نہیں تھا۔ اس کے برعکس بدھ مت میں ذات پات پر تنقیدکیے بغیر ہر ذات کو اپنا کر مساوات کا درس دیتا تھا جو نچلی ذاتوں اوراصول پسند انسانوں کیلئے بڑی کشش کا باعث تھا۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ جین مت ایسے طبقوں میں مشہور ہوا جو برہمن اور کشتری کی بالادستی کو قائم رکھنا چاہتے تھے۔ اسی لیے مہاویر کے جین مت کو صرف چند بڑے بڑے امراء ‘راجوں اور مہاراجوں نے قبول کیا۔ مہاویر کے انتقال کے وقت اس کے معتقدین کی تعداد پورے برصغیر میں چودہ ہزار سے زائد تھی ۔
ریاستی سطح پر مگدھ سلطنت کے شہزادے اجات شترو نے جین مت قبول کیا اور پھر اپنے باپ بمبی سار کو قتل کر دیا جو کہ ایک سچا بدھ تھا راجا اجات شترو نے جین مت کو پھیلانے کے لے خاصی جدوجہد کی۔ مہاراجہ اشوک کے بعد راجہ کھرویل ‘راجہ اشوک کے پوتے سم پرتی ‘ راجہ اندر چہارم اور راجہ گادرش نے بھی جین مت اختیار کیا اور س کے فروغ کے لیے بہت کام کیا۔ ان میں مؤخر الذکر دوراجوں نے جین روایات کے مطابق ریاضت میں اپنی جان قربان کر دی ۔
عملی طور پر جین مت میں سب سے زیادہ زور ’’اہنسا‘‘پردیاجا تا ہے جس کے تحت کسی قسم کی جان کو تکلیف یا ختم کرناگناہ ہے۔ جین مت میں ’’مرن بھرت‘‘ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔اپنے آپ کو بھوک پیاس سے مار دینا بڑی نیکی اور اعلیٰ مقام سمجھا جاتا ہے ۔ یاد رہے مہاتما گاندھی نے اسی فلسفے کو عالمگیر سطح پر متعارف کروایا۔ جین مت عملی تعلیمات چونکہ عام انسانوں کے لیے ناقابل عمل ہیں لہٰذا ہمیں اس میں بہت تضاد ملتا ہے ۔ مثلاً جین مت کو قبول کرنے والے پہلے بادشاہ اجات شترو نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور اس وقت مہاویر خودزندہ تھے اور اجات شترو ہی نے جین مت کو سب سے زیادہ فروغ دیا۔ اسی طرح بعد کے ادوار میں گجرات کا راجہ کمار اپالا نے اپنی ریاست میں ’’اہنسا‘‘ کو نافذ کر دیا اور اس کے خلاف ورزی کرنے والے کو موت کی سزا دی ۔ جب یہ کہا گیا کہ موت کی سزا تو خود اہنسا کے عقیدے کے خلاف ہے تو اس کی وضاحت اس طرح کی گئی ۔ جین مت کے اصول ہر ایک کے لیے ہیں ‘ وہ ہر ایک کو کہتا ہے کہ زندگی میں اپنا فرض تن دہی سے ادا کرے لیکن جب کوئی ایسا نہیں کرتا اور دوسرے کا حق غصب کر کے کسی کو مار دیتا ہے تو دراصل وہ اپنے حق میں اہنسا کو ختم کر دیتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے وہ اپنا فرض ادا کر رہا ہوتا ہے جو جین مت کے عین مطابق ہے!
بدھ مت اور جین مت کی تعلیمات شروع میں ہندو مت کے ایک فرقے کے طور پر ریاست مگدھ اور اردگرد کی ریاستوں میں متعارف ہوتی رہیں۔ جین مت جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے زیادہ ترقی نہ کر سکا البتہ بدھ مت کو اشوک کے زمانے میں بہت فروغ حاصل ہو ا‘لیکن اسلام کی کرنوں نے سارا منظر اجال دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



موسمی پرندے


’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…