اور اگر انھیں نہ ملی تو کیا وہ ریپبلکن پیپلز پارٹی کو استعفیٰ دیں گے؟‘ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر کے ساتھ ٹی وی چینل ٹی آر ٹی سے نشر ہونے والا انٹرویو محل کے ایک عالیشان کمرے میں کیا گیا جو سنہری رنگ کے فرنیچر سے بھرا ہوا تھا۔ کمال کلچ دار اولو نے اس دعوت کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔انھوں نے ترکی میں سات جون کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل اردگان کی شاہانہ طرز زندگی پر بار بار تنقید کی ہے۔انھوں نے ازمیر کے شہر میں ایک ریلی منعقد کی جس میں انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا ’حضرات، انقرہ میں آپ کے لیے محل بنائے گئے ہیں، جہاز خریدے گئے ہیں، مرسڈیز گاڑیاں خریدی گئی ہیں، سونے کی سیٹیں خریدی گئی ہیں، غسل خانہ تو ایسے استعمال کیا جاتا ہے۔‘اردگان گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ترکی کی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ملک کے دارالحکومت انقرہ میں 61 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز خرچ کر 1000 کمروں کا ایک محل بنایا جس میں وہ اگست سنہ 2014 میں صدر بنے کے بعد منتقل ہوگئے تھے۔یہ محل امریکہ کے وائٹ ہاؤس اور روس کے کریملن محل سے بھی بڑا ہے اور اس کا خرچہ وزارت خزانہ کے حکام کے بتائے ہوئے بجٹ سے دو گنا سے بھی زیادہ تھا۔



















































