بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ریت میں زندگی!

datetime 22  مئی‬‮  2015 |

’ریت کے فضائی دریا‘ کے ذریعے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ درحقیت امیزون کے جنگلات، خصوصاً وہاں کے نباتات کو پروان چڑھانے میں صحرائے صحارا کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ناسا کے ماہرین نے گلوبل وارمنگ کے اثرات سے متعلق اپنے ایک پروجیکٹ کے دوران صحرا اور اس جنگل کی آب و ہوا اور فضائی ماحول پر تحقیق کی تو حیرت انگیز بات سامنے آئی۔ ان علاقوں کی آب و ہوا اور جانداروں سے متعلق سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ صحارا میں چلنے والی طوفانی ہوائیں اپنے ساتھ کثیر مقدار میں ریت لے کر امیزون کے طاس کی جانب روانہ ہوتی ہیں۔
اس ریت میں فاسفورس کی اہم مقدار موجود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ صحرائی حیات کی باقیات بھی ننھے ننھے ذرات کی صورت میں اس میں شامل ہوتی ہیں۔ اس طرح یہ ریت نباتات کی نشوونما کے لیے درکار غذائی اجزا سے بھرپور ہوتی ہے اور قدرتی طریقے سے زندگی کا سفر جاری رکھنے کا باعث بنتی ہے۔ گویا صحرائے صحارا کی ریت امیزون کے جنگل کے لیے حیات بخش عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق امیزون کے جنگل میں فاسفورس کی قلت ہے۔ فاسفورس پودوں کی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہے۔ قدرت ایک نظام کے تحت امیزون میں فاسفورس کی ضرورت صحرائے صحارا کی جانب سے ہوائوں کے دوش پر آنے والی ریت کے ذریعے پوری کرتی ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں کے مطابق ہر سال صحارا سے 182 ملین ٹن ریت اڑتی ہے جو امیزون کے طاس میں بکھر جاتی ہے اور اس خطے کو ہرا بھرا رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…